ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت

احتساب عدالت میں نوازشریف اور بچوں کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے کہا ہے کہ نیب نے دستاویزی شواہدکے ذریعے ملزمان کی طرف سے اپنائے گئے موقف کوغلط ثابت کیا، قطری والا دفاع بھی ان کا اپنا ہے جسے ہم غلط ثابت کرچکے ہیں، کرپشن کا ملبہ کوئی اپنے پاس نہیں، بلکہ بیوی بچوں کے نام رکھا جاتا ہے، فردجرم کے مطابق ہم نے اپنی ذمے داری پوری کی ہے۔ سردار مظفر نے اپنے دلائل مکمل کر لیے _

احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے نواز شریف ، مریم نوازاور کیپٹن(ر)صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف اور کیپٹن صفدر عدالت میں پیش جبکہ مریم نواز کو آج بھی حاضری سے استثنی مل گیا، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی کا چوتھے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہنا تھا کہ منی ٹریل سے متعلق ملزمان کا موقف درست ثابت نہیں ہوا،ملزمان نے نہ صرف لندن فلیٹس کی ملکیت تسلیم کی بلکہ ایک خاص موقف بھی اپنایا اوریہ لندن فلیٹ کی ملکیت سے انکاری بھی نہیں، کہا کہ شواہد سے ثابت کرچکے کہ پراپرٹی1993سے ان کی ہے ،قطری والا دفاع بھی ان کا اپنا ہے جسے ہم نے غلط ثابت کیا

سردار مظفر عباسی کا کہنا تھا کہ کوئینزبنچ کے فیصلے سے بھی ثابت ہوتاہے فلیٹس ملزمان کی ملکیت اورتحویل میں تھے،التوفیق سیٹیلمنٹ فریقین کی رضامندی سے طے پائی اورالتوفیق کیس میں پارک لین اپارٹمنٹس کو اٹیچ کیا گیا،کوئینز بنچ لندن کا 1999 کا فیصلہ تسلیم شدہ ہے۔ استغاثہ نے اپنی ذمے داری پوری کردی،اب بار ثبوت ملزمان پر ہے ،اگر کوئی اور اصل ٹرسٹ ڈیڈ موجود تھی تو عدالت میں پیش کردی جاتی، نیب نے دستاویزی شواہد کے ذریعے ملزمان کی طرف سے اپنائے گئے موقف کو شواہد کے زریعے غلط ثابت کیا، رابرٹ ریڈلے کے بیان کے وقت بطور پراسیکوشن میری موجودگی ضروری تھی ، انہیں جب معلوم ہوا کہ عدالت کا حکم ہے تو انہیں اعتراض واپس لینا پڑا ، استغاثہ اپنے گواہان سے ملتا بھی ہے ، اگر یہ گواہ پیش کرتے تو کیا یہ گواہ سے نہ ملتے ، کیپٹن ر صفدر صاحب کو انہوں نے خود بیان لکھوایا۔ ایک حکومت سے دوسری حکومت کو آنے والے شواہد میں ٹمپرنگ کا شبہ تک نہیں ہوتا ، کیپٹن ر صفدر تھوڑے سے دین دار بھی ہیں ، یہ خود ہی بیان لکھواتے رہے۔ جب وکیل ملزم کا بیان لکھواتا ہے کیس ہمارا متاثر ہوتا ہے ، یہ ثابت نہیں کر سکے رابرٹ ریڈلے ماہر نہیں تھا ،

نوازشریف نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ یہ ہیں وہ زرائع جن سے لندن فلیٹس خریدے گئے، اس عدالت میں موقع فراہم کیے جانے کے باوجود وہ زرائع نہیں بتائے گئے، یہاں نوازشریف نے کہا کہ حسن جانے، حسین جانے اور ان کا کام جانے، نوازشریف نے نہ خود کو کلیئر کیا نہ ہی اپنے بچوں کو کلیر کیانوازشریف اور ان کے بچوں کے موقف میں بھی تضاد واضح ہے،نوازشریف نے کہا کہ فلیٹس خریدے گئے۔حسین نواز نے انٹرویو میں کہا تھا کہ الحمدالله لندن فلیٹس ہمارے ہیں ۔ ایک موقع پر پراسیکیوٹر نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپ نے خود کہا تھا کہ واجد ضیاء کو سمجھایا جائے کہ کیسے بیان دینا ہے تاکہ ادھر ادھر نہ بھٹکے اور عدالتی وقت ضائع نہ ہو _

ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی۔ سردار مظفر کے دلائل مکمل ہو گئے ہیں پیر کو العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی سماعت ہو گی۔ جس میں خواجہ حارث واجد ضیاء پر جرح کریں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے