فرد اور معاشرہ

ثاقب زاد

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ انفرادی رویے ہی معاشرتی رویوں کے  عکاس ہوتے ہیں ۔۔ آپ نے کسی سوسائٹی کا ڈی این اے کرنا ہو اس سوسائٹی کے چند گنے چنے افراد کو ہی شمار کر کے مشاہدہ کی چھلنی سے گزاریں گے تو آپ کو اس معاشرے کی تمام بیماریوں کا علم ہو جائے گا  اور بیماریوں کے خلاف مدافعتی نظام کا کٹھا چھٹا سامنے آ جائے گا ۔۔۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ چند افراد پر رائے کیسے قائم کر لی جائے ۔۔ تو اگر آپ تجربہ کرنا چاہیں تو اپنے ہی معاشرے کا ڈی این اے کریں۔۔۔  کبھی دیکھ لیں آپ کی گلی میں کون سا پلاٹ خالی ہے پھر دیکھیں اس پر کتنے لوگ کوڑا پھینکتےہیں چند گھر ہوں گے، شائد ان کی تعداد دس گھروں سے زائد نہ ہو اور دیکھنے والے یعنی وہ لوگ جو کوڑا نہیں پھینکتے ہیں ان کی تعداد بھی نوٹ فرما لیں پھر کبھی اکیلے بیٹھ کر سوچیں جو کوڑا اس پلاٹ میں نہیں پھینکتے وہ خاموشی سے گزر جاتے ہیں آپ بھی منع نہیں کرتے ۔۔۔ کہتے ہیں نا خاموشی نیم رضا ۔۔۔ اسی طرح چلتا رہتا ہے ایک دن آتا ہے کہ  پورے محلے کا گند اس پلاٹ میں ٹھکانے لگتا  محسوس ہوتا ہے ۔۔ ہر محلہ میں آپ کو ایسی کہانی ملے گی ۔۔۔
اپ کسی دوست کے گھر جاتے ہیں گھنٹی بجاتے ہیں اندر سے آواز آتی ہے کون ۔۔ آپ دوست کا نام لیتے ہوئے کہتے ہیں گھر پر ہے ۔۔ جواب ملتا ہے نہیں اکثر آپ چلتے بنتے ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا کہ اندر سے آئی آواز پر آپ کا جواب کیا ہونا چاہئے تھا ۔۔۔ بالکل نہیں ۔۔۔ ایسا ہر دوسرے کے ساتھ ہوچکا  ہے ۔۔
شادی یا کسی دعوت میں اگر افراد کی تعداد پچاس سے تجاوز کر جائے آپ نوٹ کریں ۔۔ جب کھانا کھلنے کا وقت ہو گا کرسیاں خالئ ہونا شروع ہو جائیں گی افرد بھنوروں کی طرح میزوں کے گرد منڈلانا شروع کر دیں گے اور جیسے ہی ڈھکن اٹھنے کی مخصوص آواز آئے گی تو بلوائیوں کی طرح ٹوٹ پڑیں گے ۔۔ پلیٹیں اڑیں گی ۔۔۔
یہ ہماری معاشرت کے  عکاس افراد ہیں ۔ ہمیں ان رویوں کو انفرادی سطح پر ٹھیک کرنا ہو گا ۔ ہم میں سے ہر فرد یہ سوچ لے کہ اب دعوت میں جانا ہے تو اپنی باری کا انتظار کرنا ہے اگر کوئی سوال کرتا ہے تو اپنی بات سنانے سے پہلے اس کا جواب دینا ہے ساتھ والے پلاٹ میں کوڑا نہیں پھینکنا ۔ زیادہ نہیں ایک درخت ہر سال اگانا ہے ۔ ایک روپیہ ہر روز خیرات کا جمع کرنا ہے ۔ کسی کو گالی نہیں دینی ہے گھر سے نکلتے وقت تمام بجلی کے آلات سنبھال کے بند کرنا ہیں بجلی ضائع نہیں کرنی ۔۔ سڑک پر بے جا ہارن سے اجتناب کرنا ہے ۔۔ مسجد میں جاتے ہوئے موبائل فون کو خاموش کرنا ہے ۔۔ یہی چھوٹی چھوٹی عادات سے ہم اپنے معاشرہ کو نہ صرف مثالی بنا سکتے ہیں بلکہ ایسے اسلامی اصولوں کی پیروی کرکے آخرت بھی سنوار سکتے ہیں ۔

سوچئے گا ضرور

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے