نیب ریفرنسز فیصلہ ایک ماہ میں

سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز کی سماعت ایک ماہ میں مکمل کر کے فیصلے دینے کی ہدایت کی ہے _

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے درخواست کی سماعت کی _ عدالت میں نیب کے پراسیکیوٹر پیش ہوئے اور احتساب عدالت کی جانب سے ٹرائل کی مدت میں توسیع کی استدعا کی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب ان کیسز کا فیصلہ ہونا چاہیے، ملزماب بھی پریشان ہیں اور قوم بھی ذہنی اذیت کا شکار ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ احتساب عدالت ہفتے کے روز بھی تینوں ریفرنسز کی سماعت کرے جس پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ وہ ہفتہ اور اتوار کو عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے۔چیف جسٹس نے کہا کہ خواجہ صاحب آپ ابھی جوان ہیں، میں بوڑھا ہو کر اتوار کو بھی سماعتیں کرتا ہوں۔

چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز بیگم کلثوم کی عیادت کے لیے جانا چاہتے ہیں تو جاسکتے ہیں، مجھے بتائیں نواز شریف عیادت کے بعد کب واپس آئیں گے، وہ میڈیا پر کہتے ہیں کہ ہمیں کلثوم نواز کی عیادت کے لیے اجازت نہیں دی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ زبانی درخواست کریں ہم اجازت دیں گے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے فیصلے میں شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا اور احتساب عدالت کو پابند بنایا تھا کہ 6 ماہ میں ریفرنسز کا فیصلہ کیا جائے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ٹرائل مکمل کرنے کے لیے تیسری مرتبہ سپریم کورٹ سے مدت میں توسیع کی درخواست کی اور ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو ایک ماہ کا مزید وقت دے دیا ہے۔

شریف خاندان کے خلاف زیرسماعت ایون فیلڈ ریفرنس آخری مراحل میں داخل ہوگیا جب کہ العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ ریفرنس کی سماعت میں بھی بیان قلمبند ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی کہ ڈیڑھ ماہ کا وقت دیا جائے، تاہم سپریم کورٹ نے اتفاق نہ کیا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے