‘پانچویں نسل کی جنگ’ _ ہدف کون؟

مطیع اللہ جان

بی بی سی کے معروف تجزیہ کار محمد حنیف نے فوج کے ترجمان کی طرف سے سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف پراپیگنڈا کو ایک سلائڈ پر دکھائے گئے ریاست مخالف نیٹ ورک کی کارستانی قرار دینے پر زبردست تجزیہ کیا ھے۔ اناکے تجزیے کا نچوڑ یہ اختتامی سطور ہیں؛
“اب اگر کوئی پوچھے کہ یہ ویگو میں لے جانے والے لوگ کون ہیں تو وہ یاد رکھیں کہ ہم ففتھ جنریشن ہائبرڈ میں ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا نقشہ بھی بنے گا اور زیادہ حساس سوال پوچھنے سے آپ کے جسم اور روح کے حساس حصوں پر اس نئی جنگ کے برے اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔”

محمد حنیف نے بڑی سادگی سے بتا دیا ھے کہ سوشل میڈیا کی جنگ کا اتنا ہدف پاکستان نہیں جتنے خود پاکستانی شھری ہیں جن کو سخت سوال پوچھنے پر کسی وقت بھی ملک دشمن قرار دے کر نام نہاد محب وطن عوامی قوت کے رحم و کرم پر چھوڑا جا سکتا ھے۔ بات تو سچ ھے کیونکہ اپنی آزادی کے ستر سال میں ہم بطور قوم “جسمانی اور روحانی” طور پر حالت جنگ میں ہی تو رہے ہیں۔ جتنی جنگیں ہم لڑ چکے ہیں اس لحاظ سے تو ہم ایک جنگجو قوم کہلانے کے لائق ہیں۔ اب اکیسویں صدی میں آ کر جنگ کا نشہ ٹوٹ رہا ہو اور نقشہ بدل رہا ہو تو ایک نیا نشہ اور جدید نقشہ بھی لازمی ہو جاتا ھے۔ پاکستان میں جنگیں لڑتے لڑتے چار نسلیں کھپ چکی ہیں ۔ اور یہ آصف ذرداری والا ’کھپے‘ نہیں۔ پہلی نسل نے بغیر فوج اور ہتھیاروں کے ہندووں ۱ور انگریزوں سےآزادی کی مدلل جنگ لڑ کر پاکستان حاصل کیا۔ دوسری نسل نے انیس سو پینسٹھ اور اکہتر کی مسلح جنگ میں ہندووں کے سفید دانت کھٹے کئے۔ تیسری نسل نے نظریاتی سرحدوں کے تحفظ واسطے ’جہادِ افغانستان‘ میں اسلام کا جھنڈا گاڑا۔ چوتھی نسل نے پھر اس جہاد کی [ cross breed ] دوغلی نسل دہشت گردی کے خلاف ایک نئی جنگ میں اُسی جھنڈے کو اکھاڑا۔ اور اب پانچویں نسل کو بتایا جا رہا ھے کہ اب ہمیں نئی قسم کی جنگ کا سامنا ھے جسے انگریزی میں
5th generation hybrid war
کہتے ہیں یعنی سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا اور دہشت گردی کے امتزاج سے لڑی جانے والی وہ ’مخلوط جنگ‘ جو دہشت گردوں کا بڑا ہتھیار بن چکی ھے۔

عرب ممالک میں آنے والے ’عوامی انقلاب‘ میں سوشل میڈیا کے اہم کردار نے اس مخلوط جنگ کی اہمیت کو اور بھی بڑھا دیا ھے۔ بیرون ملک عوامل اور جمہوریت پسند قوتوں نے وہاں اس انقلاب سے عوامی اقتدار اور شھری حقوق کی اہمیت کو تو اجاگر کیا مگر انتشار کی راہ بھی ہموار کی۔ مگر اس انتشار کی اصل وجہ محض سوشل میڈیا پراپیگنڈا نہیں بلکہ وہ آمرانہ پابندیاں اور معاشرتی گھٹن تھی جس کا فائدہ بیرون ملک قوتوں نے بھی اُٹھایا۔ اسی پس منظر میں اگر آج پاکستان کو بھی کسی مخلوط جنگ کا سامنا ھے تو ہمیں سب سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔ پاکستان کا طرزِ حکومت عرب ممالک والا تو نہیں مگر ملک میں شھری آزادی اور آزادی رائے کے حوالے سے ہمارے ادارے اورعوام بھی شیخ یا چائینیز ہوتے جا رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ھے کہ ملک میں بڑھتی گھٹن کی ذمے دار کوئی حکومت نہیں جس پر واویلا کرنا بھی آئینی حق ہوتا ھے بلکہ اس کے وہ ماتحت ادارے ہیں جو اب بظاہر بھی ماتحت نہیں رہے اور جن کے خلاف احتجاج کرنا بھی غداری والا جرم ھے۔
نائن الیون کے بعد سے دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ اٹھارہ سال بعد کامیاب بتائی جا رہی ھے، مگرہمارے ملک میں جمہوریت، بنیادی حقوق اور انصاف کی صورت حال بہتری کی بجائے زوال پذیر ھے۔ درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ۔ کئی سال پہلے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا شیرانی نے جب ایک انٹرویو میں مجھ سے کہا تھا کہ اب مسئلہ دھشت گردی نہیں انسداد دھشت گردی ھے تو میں نے ان پر طنز کے تیروں کی بوچھاڑ کر دی تھی ۔ آج میں اس پر شرمندہ ہوں۔ نائن الیون کے بعد سے ان آٹھارہ سال میں اگر ہم نے واقعی دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی ہوتی تو قومی سلامتی اور دماغ سے لڑی جانے والی مخلوط ’جنگ‘ سےمتعلق عسکری ترجمان نہیں کسی حکومتی تھِنک ٹینک کے حکام بریفنگ دے رہے ہوتے۔ آج آئینی ادارے مضبوط اور با اختیار ہوتے۔ دہشت گرد بظاہر جنگ تو ہار گئے مگر ہماری جمہوریت اور جمہوری اداروں کو لاچار اور بے بس کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ شاید ان کا یا ان کے چند ساتھیوں کا ہدف بھی اتنا ہی تھا۔

ہتھیاروں سے لڑی جانے والی جنگ کے بارے میں بھی عالمی ماہرین کا کہنا ھے کہ جنگیں لڑنا صرف جرنیلوں کے بس کی بات نہیں مگر پاکستان میں تو سوشل میڈیا پر دماغ اور علم و دانش کے بین القوامی مقابلے کو بھی جنگ کا نام دیکراس میں ٹینک، توپ اور گولیاں چلانے والے کود پڑے ہیں۔ ہمیں اپنے جنگجو بھائیوں پر ناز ھے مگر جس طرح پائلٹ کو ٹینک نہیں چلانا چاہیئے اور ہڈیوں کے ڈاکٹر کو دماغ کے آپریشن کی اجازت نہیں ہوتی اسی طرح فوج کو سوشل میڈیا پر جاری معرکے کی ذمے داری نہیں دی جا سکتی۔ ملک کے ہر شعبے میں ’جنگ‘ اور ’قومی سلامتی‘ جیسے الفظ ٹھونس کر آئی ایس پی آر ان شعبوں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اگر ایسا ہوتا تو معاشی جنگ، سفارتی جنگ، تجارتی جنگ، ثقافتی جنگ، کرپشن کے خلاف جنگ، پانیوں کی جنگ، سیاسی جنگ، مذہبی جنگ، معاشرتی جنگ، سماجی جنگ، قانونی جنگ اور حتی کے انسانی حقوق کی جنگ وغیرہ وغیرہ جیسے الفاظ کے سہارے پوری دنیا میں آج جرنیلوں کی حکومت ہوتی اور اقوام متحدہ میں سفارتکاروں کی بجائے جرنیلوں اور ہتھیاروں کا میلہ لگا ہوتا۔ [شاید دنیا میں امن ہو جاتا کیونکہ یہ ہمیشہ سول حکومتوں میں جنگیں کرواتے ہیں] تو جناب ایسا کیوں نہیں ھے؟ اس لیئے کے اُن معاشروں میں اتنی عقل آ گئی ھے کہ لوگوں کو تعلیم، تہذیب، قانون کی بالا دستی اور آزادئ رائے و تنقید کے ذریعے اتنا با شعور اور با اعتماد بنا دیا جائے کے وہ کسی فوجی ماہر یا ملک دشمن عناصر کی پریس کانفرنسں یا سوشل میڈیا پوسٹ پر اپنے وطن متعلق رائے قائم نہ کریں۔ ہم بطور قوم کیا کر رہے ہیں؟ قوم کے بچوں کی پولٹری فارم کی مرغیوں کی طرح پرورش کررہے ہیں۔ ان بچوں کو تو تحریر، تحقیق، تقریر اور اظہار رائے کی اتنی بھی آزادی نہیں کہ جتنی مشرف ، اسلم بیگ اور درانی جیسے جرنیلوں کو حاصل ھے۔ اگر آپ نے پانچویں نسل کوفارمی مرغیوں والی آزادی اور نشونما ہی دینی ھے تو پھر گلہ دشمن سے کیسا۔ مخلوط جنگ کے مقابلے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ خود ہی اپنے آئینی اداروں اور بنیادی حقوق پر وہ پابندیاں لگا دیں جو پابندیاں دشمن قووتوں کا ہدف ہوں۔
مگر اصل مسئلہ شاید کچھ اور ھے۔ ملک دشمن اور ریاست مخالف سوشل میڈیا عناصرکے وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ خاص کر بھارت اور امریکہ جیسے ممالک کی بلوچستان میں جاری سازشوں کوبھی جھٹلانا غلط ہو گا۔ ایسے میں اندرون ملک عناصر کی فوج پر تنقید بھی ان سازشوں کو تقویت دیتی ھے۔ مگر کیا ایسی اندرونی تنقید کو بھی بس اچانک ختم ہو جانا چاہیئے یا پھر ایسی تنقید کی وجوہات کو بھی ختم کرنا ضروری ھو گا۔ فوج کے ترجمان کی اس بات میں وزن ھے کہ ملک بیرونی سازشوں میں گھرا ھے اور قومی یکجہتی وقت کا تقاضا ھے۔ مگر پھرالیکشن سے پہلے بلوچستان سندھ اور جنوبی پنجاب میں فوج کی مبینہ سیاسی جوڑ توڑ کے سنگین الزامات اور ایک سیاسئ جماعت کے خلاف میڈیا اور سوشل میڈیا پر بلواسطہ ذرائع سے پراپیگنڈا کونسی یکجہتی اور کس ’دشمن‘ کے خلاف قوم کو متحد رکھنے کی کوشش ھے؟
اسی طرح فوج کے ترجمان کی طرف سے سیاستدانوں اور صحافیوں کے خلاف بنا اختیار اور بغیر ثبوت ریاست مخالف ہونے کے گھناونے الزامات کون سی یکجہتی کو فروغ دینے کی کوشش ھے؟ کہا گیا کہ آئی ایس آئی جیسے معتبر ادارے نے کسی سوشل میڈیا نیٹ ورک کا پتہ چلایا ھے ۔ ایک سلایئڈ کے ذریعے کچھ صحافیوں کی تصاویر اور بغیر نام وتصاویر کے ’سیاسی شخصیات’ کے الفاظ کے ساتھ چار پانچ خالی خانے آڑی ترچھی لکیروں کے ساتھ دکھائے گئے۔ ان تصاویر اور لکیروں کو ریاست مخالف سوشل میڈیا نیٹ ورک کہا گیا۔ بقول ترجمان کے یہ لوگ ریاست مخالف ٹویٹ کرتے ہیں یا ایسی ٹویٹوں کو ریٹویٹ یا آگے شیئر کرتے ہیں۔ یہ محض حسین اتفاق نہیں ہو سکتا تھا کہ فوجی ترجمان کی سلائڈ کی تصاویر میں نام نہاد ریاست مخالف قرار دیئے جانے والے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور آٹھ نو صحافی وہ تھے جو تسلسل سے فوج اور اس کے خفیہ اداروں کی سیاسی جوڑ توڑ میں مداخلت کے الزامات پر رائے دے رہے تھے یا چیف جسٹس کے سیاسی نوعیت کے ریمارکس کی نشاندہی کر رہے تھے۔ اس پر ترجمان کا یہ حیران کن رد عمل، قومی یکجہتی نہیں بلکہ ملک میں فساد پیدا کرنے جیسی غیر ذمے دارانہ کوشش تھی۔ بغیر قانونی اور اخلاقی جواز کے صحافیوں اور گمنام سیاستدانوں کو یوں پوری دنیا کے سامنے ریاست دشمن قرار دینا اور عوام میں ان کے خلاف نفرت پیدا کرنا ایک سرکاری ملازم کا اختیارات سے صریحاً تجاوز تھا۔ فوج کو یا اس کے ترجمان کو قانون میں ایسا کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ حرکت دراصل اداروں کے اندر آزاد میڈیا اور سیاسی جمہوری عمل سے نفرت کرنے والے چند سرکش عناصر کے جذبات کی آیئنہ دار تھی۔ اس کا مقصد الیکشن سے پہلے اُن سیاستدانوں اور صحافیوں کو بدنام کرنا اور ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا تھا جو جمہوریت، سویلین بالادستی اور ووٹ کی حرمت کی دلیل کے ساتھ ٹویٹر پر فعال ہیں۔ تعلقات عامہ کے شعبے کے سربراہ کی طرف سے ایسے الزامات اور وہ بھی الیکشن سے پہلے نازک مرحلے پر جب عوامی جذبات آسمان کو چھو رہے ہوتے ہیں ’تعلقات عامہ‘ کی بدترین مثال تھی۔
فوجی ترجمان کی اس پریس کانفرنس پر قومی اورعالمی میڈیا کا شدید رد عمل اس غیر ذمہ دارانہ حرکت کا منطقی جواب تھا۔ پاکستانی صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس [پی ایف یو جے] نے فوجی ترجمان کے صحافیوں کے خلاف الزامات کو بے بنیاد کہہ کر رد کیا، انہیں واپس لینے کا مطالبہ کر دیا اور ان الزامات کو صحافیوں کی جان کے لئے خطرہ بھی قرار دیا ۔ عالمی میڈیا نے پی ایف یو جے سے پہلے ہی ان الزامات کو قبل از انتخابات عدلیہ فوج سیاسی گٹھ جوڑ کے تسلسل کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ فوج کے ترجمان کے دفتر کی عالمی میڈیا کے سخت رد عمل پر پراسرار خاموشی نے صورت حال کو اور بھی مضحکہ خیز بنا دیا ھے۔ یہ خاموشی اس کے باوجود ہے کہ ترجمان نے اپنی بریفنگ کے فوراً بعد ہونے والے معروف تجزیہ کار گل بخاری کے اغوا کے واقعہ میں فوج کے ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرنا بھی مناسب سمجھا۔
بڑا مذاق تو تب ہوا جب ذرائع کے مطابق پی ایف یو جے کے پہلے دبنگ بیان کے بعد تنظیم کے نمائندوں سے ملاقات میں ترجمان نے آن دا ریکارڈ یہ وضاحت دینے سے بھی انکار کر دیا کہ مذکورہ بریفنگ میں دکھائی گئی سلائڈ کا مقصد کسی صحافی کو ریاست مخالف کہنا نہیں تھا اور نہ ہی اس کی جان کو خطرے میں ڈالنا تھا۔ وجہ صاف ظاہر تھی کہ ایسی آن دی ریکارڈ وضاحت سے مذکورہ صحافیوں سے متعلق اتنی محنت اور عرق ریزی سے عوام میں پیدا کیا گیا غلط تاثر اور ان کی جان کو خطرہ زائل ہو جاتا۔ اس کا ایک عیارانہ حل نکالا گیا۔ وہ یہ کہ جنگ اور ڈان گروپ سے تعلق رکھنے والی دو مجبور نمائندوں پر مشتمل قیادت کو ڈرا دھمکا کر ایک تین سطور کا بیان جاری کروایا گیا۔ اس بیان میں پی ایف یو جے کے دو نمائندوں نے عالمی میڈیا کے رد عمل اور اپنے ہی پہلے بیان کے برخلاف اپنی تنظیم کی ساٹھ سالہ عزت کا سودا کر دیا۔ اپنے ہی چند سطور کے ایک دوسرے بیان میں پی ایف یو جے کی طرف سے کہا گیا کہ فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس سے صحافیوں کی جان کو خطرہ ہونے کی بات درست نہیں تھی۔
یہ دوسرا بیان اس متفقہ فیصلے کی بھی خلاف ورزی تھی جو پی ایف یو جے کے اجلاس میں چند گھنٹے پہلے ہی کیا گیا تھا۔ سینیئر صحافی حامد میر اور پندرہ دوسرے صحافیوں کی موجودگی میں یہ طے ہوا تھا کہ ترجمان کی بریفنگ میں ہدف بنائے گئے ایک سینئر صحافی بیان تیار کریں گے جو جاری کیا جائے گا۔ اس صحافی نے جو بیان تیار کیا تھا اس کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے تنظیم کے وفد سے ملاقات میں خود وضاحت کی ھے کہ ان کی بریفنگ اور سوشل میڈیا سلائڈ دکھانے کا مقصد کسی صحافی کو ریاست مخالف قرار دینا نہیں تھا۔ مگرچند ہی گھنٹوں بعد کے تنظیم کے بیان میں کہا گیا کہ ہمیں ہی ترجمان کے بیان کو سمجھنے میں غلطی ہو گئی تھی۔ لو جی دنیا کا میڈیا اُس بریفنگ کو واضح طور پر صحافیوں کے لیئے خطرہ کہہ رہا ھے اور ہمارے دو مجبور نمائندے انہیں کہہ رہے ہیں ایسی کوئی بات نہیں۔ صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس [آئی ایف جے] کو ایسی فحش اور سنگین غلطی پر پی ایف یو جے سے فوری وضاحت ضرور طلب کرنا ہو گی۔ یہ غلطی فحش اور سنگین اس لئے ہے کہ کل کسی صحافی کو کوئی نقصان پہنچا تو ہر کوئی پی ایف یو جے کے دوسرے تھوک چاٹ بیان کا حوالہ دے کر اپنے ہاتھ جھاڑ لے گا اور یوں تنظیم اپنے دوسرے بیان کو سچ ثابت کرنے کے لئے صحافیوں کے خفیہ دشمنوں کو کلین چٹ دینے پر مجبور ہو گی۔ ویسے بھی شواہد تو کسی عام شھری کا پتہ دیں گے جس نے غصے میں کوئی حرکت کی ہوگی۔ خادم رضوی فارمولہ زندہ باد ۔ جس میں ’سانپ‘ بھی مر جائے اور ’چھڑی‘ بھی نہ ٹوٹے۔ ایسی نئی حکمت عملی شاید اس لیئے ضروری ہو گئی تھی کی مجھ سمیت کچھ صحافیوں پر حملوں اور تشدد کی عدالتی کمیشن اور پی ایف یو جے کی تحقیقاتی رپورٹیں جو حکومت اور پی ایف یو جے نے منظر عام پر نہیں لائیں پہلے ہی حساس اداروں کے لیئے لمحہ فکریہ بن چکی ہیں۔ سب سے اہم تو حامد میر کمیشن رپورٹ ھے۔ اور خود حامد میر کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی تیار ہونے والی میرے اور اہل خانہ پر حملے کی تنظیمی تحقیقاتی رپورٹ ڈان گروپ سے تعلق رکھنے والے آر آئی یو جے کے سربراہ کے پاس کئی ماہ سے پڑی ھے جو منظرِ عام پر نہیں لائی جا رہی۔ اس پس منظر میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے اپنے تازہ ’بیانیے‘ پر مختصر وضاحت سے بھی انکار کے بعد مجھے بلکل یقین گیا ھے کہ ہمارے اپنے معتبر ادارے اس حد تک جا سکتے ہیں وگرنہ کیا ایک وضاحت سے معاملہ ختم نہیں ہو سکتا تھا اور ہے؟
فوجی ترجمان نے پریس بریفنگ میں یہ دھمکی بھی لگائی کہ فوج خود پر تنقید برداشت کر لے گی مگر ملک کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کی جائے گی۔ اب کوئی پوچھے کہ آیئنی طور پر یہ بات وزیراعظم یا وزیر دفاع بولے تو سمجھ آتی ھے، ایک ماتحت ادارے کا سرکاری ترجمان ایسی دھمکیاں کیسے لگا سکتا ھے؟ اس ملک میں ایک وزیراعظم ھے، وزیر دفاع، وزیر داخلہ ہے، بے شک سب فی الوقت نگران ہیں۔ اور پھر ملک کے خلاف بات کرنا کیا ہوتا ھے؟ ریاست کا تحفظ کس نے کیسے اور کس قانون کے تحت کرنا ھے اس کا فیصلہ کرنے کے لئے فوج کے ہی پر زور مطالبے پر قومی سلامتی کمیٹی بنائی گئی تھی۔ [کیونکہ بھارتی طرز کی کابینہ کی دفاعی کمیٹی پرانے قواعد کے مطابق وفاقی کابینہ یعنی وفاقی حکومت کے ماتحت تھی جو ہمارے آرمی چیف صاحبان کو پسند نہ تھی]۔

وزیر اعظم کی سربراہی میں قائم اس ’قومی سطح کی سلامتی کمیٹی‘ وزیر دفاع اور عدالتوں کے ہوتے ہوئے فوج کے کسی ماتحت افسر کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ پریس کانفرنسوں میں سیاستدانوں اور صحافیوں کو غداری کے القابات سے نوازتا رہے۔ اور پھر یہ دھمکی کہ ’برداشت نہیں کریں گے۔‘
مذکورہ پریس کانفرنس ایک سوچی سمجھی پالیسی اور الیکشن حکمت عملی کا نتیجہ ھے۔ گذشتہ تقریباً بیس سال میں فوج اور اس کے ترجمان کے دفتر نے تسلسل سے ایک ماورائے آئین ریاست کا نظریہ متعارف کرایا ھے اور اس خیالی ریاستی ڈھانچےکی حفاظت کی از خود ہی ذمے داری سنبھال لی ھے۔ دنیا کے کسی بھی مہذب اور جمہوری ملک میں ٓائین کے بغیر ریاست کا وجود تسلیم نہیں کیا جاتا۔ مگر یہاں ’سیاست نہیں ریاست بچاو‘ جیسے نعروں کے ذریعے عوام کو بتایا جا رہا ھے کی آئین سے بالا تر کوئی شہہ ہوتی ھے جسے ریاست کہتے ہیں اور اسکی حفاظت عوام کا ووٹ یا منتخب وزیر اعظم نہیں بلکہ فوج اور فوج کا سربراہ کرتا ھے ۔ عوام کو یہ نہیں بتایا جا رہا کہ ریاست کا وجود اور اسکا تحفظ آئین میں درج طریقہ کار سے مشروط ھے۔ ریاست آئین سے بالا تر نہیں اور اسکی محافظ فوج نہیں وفاقی حکومت ہوتی ھے جو فوج پر حکم چلانے کا اختیار رکھتی ھے۔ اور حکومت کے دیئے گئے حکم کے بغیر فوج از خود کوئی کاروائی نہیں کر سکتی۔ پچھلے کئیں سال سے ایک طرف ریاست کا ماوراٴ آئین حوا کھڑا کیا گیا اور پھر اپنی ہی پالیسیوں سے اسے خطرے میں ڈال کر اسکی حفاظت کے نام پر حکومتوں کے اختیارات اور عوامی مینڈیٹ کو صلب کیا گیا۔ ریاست کے اس نظریئے سے پیپلز پارٹی تو نہیں مگر عمران خان اور انکے پیروکار بھی متفق نظر آتے ہیں۔ حتی کہ ن لیگ کے کچھ لیڈران بھی ریاست سے متعلق اس ماورائے  آئین سوچ کے حامی ہیں۔ شاید یہ سوچ فوجی مارشل لا کی صورت میں انہیں اپنے ضمیر سے ’مخلوط جنگ‘ کرنے میں مدد دیگی۔ اور تو اور آیئن کی وفاداری کی ’سچی قسمیں‘ کھانے والے کچھ جج حضرات بھی ملک اور ریاست کا ’لایعنی‘ مقابلہ و موازنہ کرتے پائے گئے ہیں۔ جب قانون دانوں اور اسکے بنانے والوں کا یہ حال ہو تو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی جوانی کی جھوٹی قسمیں کھانے والوں سے کیا گلہ کرے کوئی۔
اس تمام صورت حال میں سوال یہ پیدا ہوتا ھے کہ پانچویں نسل کی مخلوط جنگ کا اصل ماخذ اور ہدف ھے کون؟ مندرجہ بالا صورت حال میں واضح ھے کہ اب ایک بار پھر مخلوط جنگ اور اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی سازش کے نام پر الیکشن سے پہلے ماورائے  آئین اور ماورائے عدالت اقدامات کے ذریعے میڈیا اور سیاستدانوں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ھے۔ نہ صرف یہ کہ فوج کے زیر انتظام یونیورسٹیوں کی پانچویں نسل میں ماورا آئین ریاستی ڈھانچے کو پروان چڑھایا جا رہا ھے بلکہ مخلوط جنگ اور سوشل میڈیا پر دشمن ممالک کی حقیقی سازش کے مقابلے کی آڑ میں ان نوجوانوں کو آئینی اور جمہوری اداروں، سیاستدانوں اور جمہوریت پسند صحافیوں کے خلاف بھی استعمال کیا جا رہا ھے۔ یہ ھے وہ پانچویں نسل کی مخلوط جنگ جس سے متعلق محمد حنیف بھی سب کو خبردار کر رھے ہیں۔
مخلوط جنگ کا ماخذ دشمن ممالک اور ہدف پاکستان تو ھے ہی مگر اس جنگ میں ارادی یا غیر ارادی طور پر ہمارے قومی سلامتی کے ادارے ماخذ اور ہدف آئینی ادارے، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق بن رہے ہیں۔ سیاستدانوں، آئینی اداروں، سویلین حکومتوں، آزاد میڈیا، آزاد عدلیہ اور سب سے بڑ کر ووٹروں نے اپنے ووٹ سے جمہوریت کے خلاف ان ہتھکنڈوں کو ناکام بنانا ہو گا۔ پاکستان کو دشمنوں کی سازشوں کا سامنا تو ستر سال سے ھے مگر پاکستان کی جمہوریت اور آیئنی اداروں کو جس مخلوط جنگ کا آج سامنا ھے اسکا مقابلہ کون کریگا؟ خدا کیلئے تلخ تاریخ کو نہ دہرائیں۔ اپنے ہتھیار ایک بار قوم کے قدموں میں رکھ دیں۔ ہمیں آپ سے محبت ھے۔ میرے والد کرنل عبدالرزاق خان عباسی، چوبیس پی ایم لانگ کورس، سگنل کور میں تھے۔ وہ ہمارے ملک کے ساتھ ساتھ ہمارے گھر اور خاندان کے محافظ بھی تھے مگر مجھے کبھی حیرت نہیں ہوئی کہ خدا تعالی نے میری جنت بھی باپ کے بوٹ تلے نہیں ماں کے قدموں تلے کیوں رکھی۔ یہ ملک بھی ہمارا گھر ھے اور ریاست کی عملی شکل اگر کوئی ھے تو ممتا جیسی ہی اچھی لگتی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے