اظہار رائے کی آزادی پر سیمینار

اسلام آباد میں اظہار رائے کی آزادی پر منعقدہ سیمینار سے مولانا فضل الرحمن، فرحت اللہ بابر، پرویز رشید اور شبلی فراز نے خطاب کیا ہے _

مولانا فضل الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے، سیاست،صحافت اور جمہوریت کا چولی دامن کا ساتھ ہے، بادشاہت میں بادشاہ کی مرضی کے بغیر ایک لفظ بولنا بھی مشکل ہے، پاکستان میں خرابیوں کی وجوہات بہت ہیں، پاکستان بظاہر وزیر خزانہ ایک سیاست دان ہوتا ہے جس کو ساری خامیوں کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے، مگر کوئی نہیں جانتا کہ پیچھے معاملات کون چلاتا ہے، دنیا کی سیاست بدل گئی ہے، ایک زمانہ تھا دنیا میں نظریاتی جنگ ہوا کرتی تھی، ایم آر ڈی کے دور میں میں خود جیل میں تھا، سرمایہ دارانہ نظام میں اب سیاستدانوں کو کرپٹ قرار دیا جاتا ہے، مذہبی آدمی کو گرفتار کیا جاتا ہے تو دہشتگرد قرار دیا جاتا ہے، پگڑی داڑھی والوں کو دہشتگرد یا سہولت کار کا لقب دیا جاتا ہے، امریکہ نے معیشت کی بنیاد پر دنیا کو یرغمال بنایا ہے، میں تنقید کو اصلاح کی تناظر میں لیتا ہوں، ہم تنقید تو کیا بہتان برداشت کر رہے ہیں، ہم پر کرپشن یا عدالت کیس تو نہیں ہیں پھر کردار کشی کے علاوہ کیا رہ جاتا ہے، میڈیا کی آزادی کا مطلب آوارگی نہیں ہونا چاہیے ہمیں اعتدال کی طرف جانا چاہیے، عوام اور قوم کی سامنے جوابدہ ہونے کے علاوہ اللہ کے سامنے بھی جواب دینا ہے، ہماری آواز ماضی میں بھی صحافت کے ساتھ تھی آئندہ بھی ساتھ ہوگی، ایسی کوئی بات یا کام نا کیا جائے جس سے ریاست کو نقصان ہو اس پر کوئی اختلاف نہیں، یہ کیسا انصاف ہے کہ ریاست محترم ہے اور رہنے والا باشندہ محترم نہیں، نیب نے سب سے زیادہ ریکوری فوجیوں، دوسرے نمبر پر بیورو کریسی اور تیسرے نمبر سیاستدان ہیں، فوج مقدم ادارہ ہے مگر جب فوجی سیاست میں آئیں گے تو مسائل ہوتے ہیں، پھر فوج کہتی ہیں کہ تنقید بھی نہ کریں _ انہوں نے کہا کہ عدالت میں بیٹھے جج کا کیا کام ہے کردار کشی کرے، اگر کوئی اعلی کرسی پر بیٹھ کر تنقید کریں گے تو تنقید برداشت بھی کریں، آپ ہماری کردار کشی کریں تو درست ہم تنقید کریں تو توہین عدالت لگ جاتی ہے ایسے نہیں چلے گا، آئین پر عملدرآمد ہونے نہیں دیا جاتے، جس کی وجہ سے پس پشت قوتیں ملک چلانے کے لیے کوشاں ہیں، ہم نے دنیا میں نظریاتی سیاست کا بھرم رکھا ہوا، اس ملک کو بنانا ہے تو آئین پر عمل کرنا ہوگا، فاٹا کے معاملہ پر میرے دلائل کا آج بھی ان کے پاس نہیں ہے

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وانا میں ایک بڑی تحریک نکل چکی ہے آپ وہاں نہیں جا سکتے، نیشنل ایکشن پلان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم والوں نے بنایا اور سب سے پہلے انہیں پر لاگو ہوا، ملکی مفاد کے خلاف نہیں جانا چاہیے، فیصلہ جو بھی کرے اختلاف رائے کے باوجود ملکی مفاد میں ساتھ کھڑے ہیں _

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ 73 کے آئین میں اسلامی دفعات ہیں مگر اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک سفارش پر بھی عمل نہیں ہوا۔ کیا پس پردہ قوتیں ملک کو چلاتی رہیں گی، صحافت حقائق کو پیش نظر رکھ کر ہم پر تنقید کرے، ملک کو بنانا ہے تو آئین پر عمل درآمد کریں۔

سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ملک میں آزادی جمہور کا مسئلہ ہے، یونائیٹڈ فرنٹ تشکیل دے کر ملک کو صحیح معنوں میں جمہوری بنانے کی کوشش کی جائے _

سیمینار سے خطاب میں پیپلزپارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ سول ملٹری تعلقات ایک پیج پر نہیں، بڑھتی خلیج کو ختم کرنا ہوگا _

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے