لوگوں کو بندوں سے بھی الرجی ہے

سپریم کورٹ میں تحصیلوں کی سطح پر الرجی سینٹرز کے قیام سے کیلئے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ الرجی سینٹرز کی تحصیل سطح پر ضرورت نہیں، کئی لوگوں کو بندوں سے بھی الرجی ہوتی ہے ۔

عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ جس کی سربراہی چیف جسٹس کر رہے تھے اور اس میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے، کے سامنے درخواست گزار نے اپنے دلائل میں کہا کہ الرجی سنٹر صرف اسلام آباد میں ہے، یہ ہر تحصیل میں ہونا چاہئے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الرجی سینٹر کا کافی لمبا چوڑا منصوبہ ہوتا ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ تمام صوبوں کے تقریباً بڑے اسپتالوں میں الرجی سینٹرز کی سہولت دستیاب ہے، الرجی ایک طرح کی نہیں بلکہ سینکڑوں اقسام کی ہوتی ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کو مالٹے سے الرجی ہے تو کسی کو کیلے سے، کئی افراد کو بندوں سے بھی الرجی ہوتی ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس کے ریمارکس سے کمرہ عدالت میں قہقہے گونجے تو انہوں نے اپنی بات دہرائی کہ بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں بندوں سے بھی الرجی ہوتی ہے ۔ تاہم انہوں نے وضاحت نہ کی کہ کن افراد کو کن بندوں سے الرجی ہے ۔

عدالت نے الرجی سینٹرز کے قیام کیلئے دائر درخواست غلام نبی شاہ کی درخواست خارج کر دی ۔

متعلقہ مضامین