مشرف غاصب تھا، چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے اسلام آباد گن اینڈ کنٹری کلب کی لیز منسوخ کر کے ہال اور زمین کے بہتر استعمال کیلئے حکومت سے تجاویز طلب کی ہیں ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ مشرف غاصب تھا اس کو کھوکھا الاٹ کرنے کی اجازت نہ تھی اتنی بڑی زمین کیسے الاٹ کر سکتا تھا، پاکستان آئے اور بتائے ملک کے ساتھ کیا کیا ۔

عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ کے سامنے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی نے رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ یہ زمین سیف گیمز کے دوران شوٹنگ کے مقابلوں کیلئے دی گئی تھی مگر وہاں شادی ہال سمیت کئی غیر قانونی تعمیرات ہو چکیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بہت کھانا پینا کر لیا اب ہم اس اراضی کو کسی اسپتال کو دے دیتے ہیں، کیوں نا یہ اراضی پولی کلینک اسپتال کو دے دی جائے، کلب چلانے والی کمپنی کے وکیل نے کہا کہ ملک کے تمام نیشنل شوٹرز کو بغیر کسی معاوضے کے کلب استعمال کرنے دیتے ہیں، چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے رضوی صاحب وہاں پر سرو بھی کی جاتی ہے، کیوں نہ شام کو کپیاں مارنے والوں کو (شراب نوشی کرنے والوں کو) پکڑ لیں ۔

گن اینڈ کنٹری کلب کے چار ایڈمنسٹریٹر رہے ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

پہلے ایڈمنسٹریٹر جنرل عارف حسن، 2008 میں فیصل سخی بٹ اور 2013 میں دانیال عزیز ایڈمنسٹریٹر تھے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

موجودہ ایڈمنسٹریٹر خرم خان ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

مفت کی زمین ملی جس کا مقصد صرف شوٹنگ رینج بنانا تھا، چیف جسٹس

وہاں اب اور کیا کیا بنا ہوا ہے، چیف جسٹس

چھ شوٹنگ رینجز، ایک ڈائنگ ہال ،ایک لاونج، 3 سوئمنگ پولز، ایک ہیلتھ کلب، ایک سپا سیلون اور تین ٹینس کورٹ ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

یہ تو ایک مکمل کلب بن چکا ہے، کیا رہائشی کمرے بھی تعمیر کر دیے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن

وہ بھی عنقریب تعمیر کرنے جا رہے تھے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل

گن اینڈ کنٹری کلب کیلئے اس وقت کے چیف ایگزیکٹو نے زمین لیز کی اور اجازت دی، کمپنی کے وکیل

اس وقت ملک کا چیف ایگزیکٹو کون تھا؟ چیف جسٹس

پرویز مشرف ملک کا چیف ایگزیکٹو تھا، درخواست گزار

پرویز مشرف کو دنیا میں کھوکھا الاٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے،کیا کسی کے باپ کی جاگیر ہے؟ چیف جسٹس

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے