آئی ایس آئی کی سڑک بند رہے گی

آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر کے سامنے روڈ بلاک کرنے کے خلاف دیا گیا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ نے معطل کر دیا ہے ۔ ڈہٹی اٹارنی جنرل نے عدالت سے مہلت طلب کی تاہم بتایا کہ آبپارہ والی سڑک وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) نے خفیہ اینجسی کو الاٹ کر دی ہے ۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ہائیکورٹ میں وزارت دفاع نے یقین دہانی کرائی تھی کہ آبپارہ میں سڑک چار ہفتوں میں کھول دی جائے گی، تاہم تحریری حکم کے بعد شام کو اس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق سپریم کورٹ نے اپیل کو فوری طور پر نمبر لگا کر سولہ گھنٹے کے بعد سماعت کیلئے مقرر کیا اور جسٹس شوکت صدیقی کا فیصلہ معطل کرنے کے بعد آئی ایس آئی سے روڈ کھولنے کی تاریخ طلب کرلی ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہدایات اور پلان لے کر آئیں کہ ماسٹر پلان کا روڈ کیوں بند کیا گیا؟ یہ بھی بتائیں کہ کب روڈ کھولیں گے؟ پورے ملک میں تجاوزات ہٹانے کا حکم دے رکھا ہے آئی ایس آئی اس سے مبرا نہیں، بلائیں آئی ایس آئی کے سربراہ کو، عدالتی حکم کے باوجود روڈ کیوں نہیں کھولی، یہ روڈ آپ کو کھولنی ہے روڈ بند ہونے سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے ۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ہم روڈ کھولیں گے مگر سیکورٹی ایشوز ہیں، روڈ بند کی ہے مگر متبادل روڈ بھی بنا کر دیا ہے، سی ڈی اے نے تحریری طور پر یہ روڈ آئی ایس آئی کو الاٹ کر دیا ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ تجاوزات ختم کرنے کا حکم تین ماہ قبل دیا تھا، یہ علاقہ کھولیں، یہ حکم نعیم بخاری کے ایک مقدمے میں دیا تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ میریٹ، سیرینا اور دیگر عمارتوں کے سامنے سے تجاوزات ختم کروائی ہیں ۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہائیکورٹ میں درخواست فیض آباد میں پراپرٹی کی تھی، ہائیکورٹ نے سوموٹو لے کر حکم جاری کیا ہے، سیکورٹی خدشات دور کرنے تک ہمیں سڑک بند رکھنے کی مہلت دی جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہدایات لے کر بتائیں کب راستہ کھولیں گے؟ ہائیکورٹ کے پاس ہے سوموٹو کا اختیار نہیں ان کا حکم معطل کرتے ہیں ۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ کہتے ہیں زبردستی بیان حلفی تحریر کرکے دیں، بغیر ہدایات کے میں کیسے بیان حلفی دوں؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت تجاوزات ختم کرنے کا حکم پہلے دے چکی ہے، آپ ہدایات لیں اور عدالت کو بتائیں ۔ اس کے بعد سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین