فیصلے کے بعد نواز شریف کو بتاؤں گا

ٹیکسلا میں سابق وزیر داخلہ اور قومی اسلمبی کے حلقوں این اے 59 اور 63 سے امیدوار چوہدری نثار نے کہا ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ آنے کے بعد نواز شریف سے اپنے اختلافات کا کھل کر بتاؤں گا، مسلم لیگ (ن) کس طرف جارہی ہے اور اس کو کنٹرول کون کر رہا ہے، ایسے بہت سے سوالات ہیں ۔

الیکشن مہم کے دوران ٹیکسلا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ میں سیدھا سوچتا ہوں اور سیدھا بولتا ہوں، 2013 میں بھی چار سیٹوں سے کھڑا ہوا تھا، نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں لیکن میں بہت پر امید ہوں، 25 جولائی کی رات کو نتیجہ بہت اچھا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گورننس بہت مشکل ہے، پاکستان کو ترقی کے مراحل طے کرانے کے لیے ابھی ہمیں بہت کچھ کرنا ہے ۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ (ن) لیگ کا پرسان حال کون ہے کون نہیں اس کا فیصلہ میں تو نہیں کرسکتا لیکن مسلم لیگ (ن) کس طرف جارہی ہے اور اس کو کنٹرول کون کر رہا ہے، یہ بہت سے سوالات ہیں، نوازشریف کی بہتری کے لیے کہا تھا اپنی مشکلات میں اضافہ نہ کریں، کوئی قانون سازی ایسی نہیں جس پر میں نے نواز شریف کا ساتھ نہ دیا ہو، میں نے خود جا کر نواز شریف کی صدارت کے لیے ووٹ دیا، اسمبلی میں بھی نہ چاہتے ہوئے نواز شریف کو خود بھی ووٹ دیا اور دلوائے بھی ۔  اسمبلی میں ووٹ دینے کے ساتھ 35 ممبران کو ووٹ دینے پر آمادہ بھی کیا، آج میں بہت سارے معاملات نہیں کھولنا چاہتا، احتساب عدالت سے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ آ جائے پھر میں نواز شریف سے اختلافات کھل کر بتاؤں گا ۔

چودھری نثار کا کہنا تھا کہ  نواز شریف نے شیخ مجیب کو محب وطن قرار دیا جس پر رد عمل دینا چاہتا تھا لیکن نہیں دیا، نواز شریف کے ممبئی حملوں کے بیان پر میں 6 گھنٹے تذبذب کا شکار رہا جب کہ بھارت کی جانب سے عدم تعاون کی وجہ سے ممبئی حملے کا کیس آگے نہ چل سکا ۔ پارٹی کے ساتھ ہر جگہ تعاون کیا، نواز شریف اگر سچے ہیں تو بتائیں میری کس بات پر انہیں دکھ ہوا، کچھ لوگ میڈیا کو استعمال کرکے غلط تاثر دیتے ہیں، میں کبھی بکا نہ ہی کسی کا مہرا بنا ۔

این اے 59 اور 63 سے امیدوار چودھری نثار نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ چاروں سیٹوں پر ایک ہی انتخابی نشان ہو، پہلا نشان جیپ، دوسرا چینک اور تیسرا کرسی میز نشان تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جن دیگر امیدواروں نے جیپ نشان لیا ان سے پوچھیں میں نے کسی کو نہیں کہا، کوئی نثار گروپ بننے نہیں جارہا، میں نے ساری عمر ایسی سیاست نہیں کی، مریم نواز بولتی پہلے ہیں اور سوچتی بعد میں ہیں۔ سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف مجھے خود سے کہہ دیتے کہ چوہدری صاحب الیکشن میں کھڑے نہ ہوں، میں نے پہلے کہا تھا کہ سیاست چھوڑنا چاہتا ہوں پارٹی والوں نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں کرنا ۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس کیس بہتر لڑا جاسکتا تھا، میں نے سپریم کورٹ یا فوج کے حوالے سے مشورہ دیا، میں نے کہا آرمی چیف کو بلائیں، جے آئی ٹی میں فوج کے بندے نہیں ہونے چاہئیں، اگر فیصلہ آپ کے حق میں ہوا تو اپوزیشن اور خلاف ہوا تو آپ اسے متنازعہ بنائیں گے ۔ چوہدری نثار نے کہا کہ سب اقتدار کا سوچ رہے ہیں، ملک کو درپیش خطرات کے حوالے سے کوئی نہیں سوچ رہا، عمران خان چاہتے ہیں کچھ بھی ہو ہماری حکومت بنے جب کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی چاہتی ہیں کہ ان کی حکومت بنے، موجودہ حالات میں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے ورنہ حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حلقے کے عوام میرے ساتھ ہیں ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے