سپریم کورٹ ڈیم کیلئے چندہ اکٹھا کرے گی

سپریم کورٹ نے حکومت کو دیامر بھاشااور مہمند ڈیم بنانے کیلئے کام شروع کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ ڈیم بنانے کے لئے واپڈا اور دیگر ادارے آپس میں رابطہ رکھیں، عدالت نے چئیرمین واپڈا کی سربراہی میں ڈیم کے لئے کمیٹی تشکیل دی ہے جو دونوں ڈیموں کے تمام معاملات پر تین ہفتوں میں جائزہ رپورٹ عدالت کو پیش کرے گی ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈیم فنڈ میں دس لاکھ دینے کا اعلان کیا ہے اور عوام سے بھی چندے کی اپیل کی ہے ۔ عدالت نے حکم نامے میں لکھا ہے کہ ملکی اور غیر ملکی افراد ڈیم کے لئے فنڈز دیں تو انکم ٹیکس والے اس سے ذریعہ آمدن نہیں پوچھ سکتے، عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے نام پر بینک اکاونٹنٹ کھولا جائے گا جس میں ڈیموں کیلئے چندہ جمع کیا جائے گا ۔

اس سے قبل سپریم کورٹ میں نئے ڈیمز کی تعمیر کیلئے دائر درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے کی جس کو سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک نے بریفنگ دی ۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے چیف جسٹس صاحب آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، کالاباغ ڈیم میرا بے بی ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق شمس الملک نے کہا کہ آج آپ کی کوششوں سے دو نئے ڈیمز کا کام شروع ہو چکا ہے، گزشتہ صدی میں دنیا بھر میں 46 ہزار ڈیمز تعمیر ہوئے، امریکہ نے ساڑے سات ہزار، چین نے 22 ہزار اور انڈیا نے ساڑھے چار ہزار ڈیم تعمیر کیے، اور ہم نے ورلڈ بینک کی مدد سے بنائے وہ بھی صرف 3 ۔

کیا موجودہ حالات میں کالاباغ ڈیم بنانا ناگزیر ہے، چیف جسٹس نے شمس الملک سے سوال کیا کہ اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث کیا ہمیں دیگر دو ڈیمز تعمیر کرنے چاہئیں ۔ شمس الملک نے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں پانی کی فراہمی کیلیے کالاباغ ڈیم نا گزیر ہے، بھاشا اور مہمند ڈیم اگر بنائے جائیں تو مجھے خوشی ہو گی، آج کے حالات میں جتنے بھی ڈیم بنائے جائیں اچھی بات ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم شکر گزار ہیں کہ آپ نے کالاباغ کے علاوہ دیگر ڈیمز کی تعمیر پر رضامندی ظاہر کی، ڈیمز کی تعمیر کیلیے ہمیں آپ سے تکنیکی معاونت بھی درکار ہو گی ۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کہ ڈیمز پر واپڈا کو فنڈنگ کون کرے گا۔

چیرمین واپڈا جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین نے بتایا کہ چار سال پہلے داسو ڈیم کا اغاز ہوا ۔ 2016 تک داسو ڈیم کے لیے ایک انچ زمین بھی نہیں لے سکے۔ جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ ملک پر سو ارب ڈالر سے زائد قرض ہے۔

چیرمین واپڈا کا کہنا تھا کہ واپڈا کو دونوں منصوبوں کے لیے 437 ارب روپیے درکار ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم کا پیسہ ڈیم پر خرچ نہیں کریں گے، 900ارب روپے حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، کوشش ہے قانونی طور پر جلد ہی نتائج حاصل کریں ۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ انتظامی امور نمٹانا سپریُم کورٹ کا کام نہیں۔

سیکرٹری پلاننگ کمیشن نے سپریم کورٹ میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی منظوری ہو چکی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیمز کی منظوری چالیس سال بعد ہوئی ہے، چالیس سال ڈیم نہ بنانے کا مجرم کون ہے؟ بھاشا ڈیم کا منصوبہ 2006 میں بنا اج تک اس کے لیے زمین نہیں مل سکی ۔ پلاننگ کمیشن حکام نے بتایا کہ بھاشا ڈیم کے لیے ایک کروڑ روپے فی ایکڑ رقم دی گئی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بھاری رقم کئی لوگوں کو نواز نے کے لیے دی گئی۔

وزارت پانی و بجلی کے حکام نے پانی کے معاملے پر عدالت کو بریفنگ دی اور بتایا کہ 2001سے پانی کی دستیابی میں کمی ہے، رواں سال گزشتہ سالوں کی نسبت پانی کی دستیابی کم ہے، پانی زخیرہ کرنے کی گنجائش 13.7 ملین کیوبک فٹ ہے، یہ تاثر غلط ہے کہ ملک میں صرف 30 دن کا پانی کا ذخیرہ ہے ۔ جسٹس عمرعطابندیال نے پوچھا کہ بھاشا اور مہمند ڈیم سے پانی زخیرہ کرنے کی گنجائش میں کتنا اضافہ ہو گا۔ حکام نے بتایا کہ 7.3ملین کیوبک فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ ہو گا، پاکستان کو بھاشا جیسے دو ڈیمز کی ضرورت ہے ۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ تربیلا اور منگلا کے متاثرین اج بھی اباد نہیں ہو سکے، عوام کو سرکاری اداروں پر عدم اعتماد ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سیکرٹری خزانہ ڈیمز کی تعمیر کے لیے درکار فنڈز سے آگاہ کریں ۔ سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ عوام سرکاری اکاوئنٹ میں رقم جمع کرواسکتے ہیں، اکاوئنٹ کون چلائے اس حوالے سے طریقہ کار وضع کیا جا سکتا ہے ۔ حکام نے بتایا کہ سالانہ 90 ملین ایکڑ پانی سمندر میں جاتا ہے، ایک ملین کیونک ایکڑ ضائع ہونے والی پانی کی قیمت 500 کروڑ ڈالر ہے، ہر دس سال بعد ڈیم بنانے کی ضرورت ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایک گھنٹہ ٹیوب ویل چلانے سے کسان ایک ہزار روپیے ادا کرتا ہے، بجلی اور ڈیزل کی قیمت نے کسان کو رگڑ دیا ہے، رواں سال زراعت کی پیداوار میں چار فیصد کمی ائی ہے، پورا ملک زیر زمین پانی پر انحصار کر رہا ہے ۔ سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ عوام سے فنڈز لینا عارضی حل ہے، پانی استمعال کرنے والوں سے قیمت وصول کرنا ہو گی، پانی کی قیمت وصول کرنا بہت بڑا چیلنج ہے۔سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ آبیانہ 1500 روپیے وصول کیا جائے تو سالانہ 70ارب روپیے مل سکتے ہیں، سیاسی حکومتوں کو ابیانہ پر فیصلہ کرنا ہوگا، ہر منصوبے کے لیے قرض لینے سے بہت مشکلات ہوں گئی ۔ سابق چیرمین واپڈا نے کہا کہ ابیانہ اتنا کم ہے کہ پانی تقریباً مفت ملتا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اس طرح کہنا کہ سپریم کورٹ کا باپ بھی نہیں بنا سکتا مناسب نہیں ہے، ایسی بات سراسر غلط ہے، آئین پاکستان سپریم کورٹ کو لامحدود اختیار دیتا ہے ۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک میں ڈیم بننے چاہئیں، اگر عدالت حکم نہیں دے گی تو یہ صرف بحث ہی ہوتی رہے گی۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ عوام ڈیمز کے لئے فیصلہ دے چکی ہے، عدالت اس پر حکم جاری کرے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ بیوروکریسی کو فوری طور پر حرکت میں لانا چاہیئے، عدالت حکم دے گی تو اداروں کو عمل درآمد کرنا ہوگا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے