پٹرولیم پر ٹیکس کم کریں گے، چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ہم نے موبائل کارڈز پر ٹیکس 10 دن کے لیے معطل نہیں کیا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تاحکم ثانی موبائل کارڈز پر ٹیکس معطل رہے گا ۔

عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ کے سامنے اٹارنی جنرل خالد جاوید اور وزارت پٹرولیم و فیڈرل بیورو آف ریونیو کے حکام پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کہیں نہ کہیں کچھ تو ہو رہا ہے، کبھی سیلز ٹیکس کو بڑھا دیتے ییں، غیر جانبدار ماہرین کو عدالت کی معاونت کے لیے بلائیں گے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ پٹرول کی قیمت سات روپے بڑھا دی گئیں اس کا جواز پیش کریں ۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ڈالرز کا ریٹ بڑھنا ہے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت بڑھی ہے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پٹرول پر تیس روپے سے زیادہ ٹیکس اور دیگر ڈیوٹیز ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کا کیا جواز ہے، قوم پہلے ہی پسی ہوئی ہے، عوام پر بوجھ نہ ڈالیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس انداز سے ٹیکس اکٹھا کرنا ٹیکس حکام کی ناکامی ہے، ریونیو اکٹھا کرنے کا آسان طریقہ بلواسطہ ٹیکس کا اطلاق ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جنہیں ٹیکس کی چھوٹ دی ہے ان پر ٹیکس لگائیں ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سے ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے ۔ ایف بی آر کے ترجمان اور ممبر پالیسی محمد اقبال نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات پر فی لٹر ٹیکس 24 روپے ہے جبکہ انڈیا میں یہ فی لٹر 69 روپے ہے، جرمنی میں یہ فی لٹر پاکستانی روپے کے مطابق 124 ہے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جرمنی سے کیا تقابل کر رہے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جرمنی میں اور بھی بہت کچھ ہو رہا ہے، جرمنی اپنے عوام کو جو سہولیات دے رہا پھر آپ وہ بھی دیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ بھارت کی بات کر رہے ہیں بھارت میں لوگ پاکستان کی طرح بلک نہیں رہے، مہنگائی کی وجہ غریب عوام کو پیٹ کاٹنا پڑتا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ غریب لوگ موٹر سائیکل کی ٹینکی ہلا کر پٹرول دیکھتے ہیں ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ قیمتیں ٹیکس کم کر کے کم کی جا سکتی ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سیلز ٹیکس میں کمی ہونا چاہئیے، ہمیں اس پر مطمئن کیا جائے ۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس پر کل تک مہلت دی جائے، حکام کو آج میٹنگ کرنے کا موقع دیں، آج میٹنگ کے بعد کل عدالت کو بتا سکتے ہیں کہ کیا کیا جا سکتا ہے ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیلز ٹیکس میں کمی کسی حد تک ممکن ہے، یہ شرح کم ہونا چاہئیے ۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ نگران حکومت ہے اس لئے کچھ مسئلہ ہو سکتا ہے مگر ایف بی آر اور پٹرولیم کی وزارت کے حکام بہتر رائے دے سکتے ہیں ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہی بات ہے کیونکہ کارپوریٹ ریونیو کا بھی تحفظ کرنا ہوتا ہے ۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کی استدعا پر کل تک مشاورت کر کے آگاہ کرنے کی مہلت دے دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے