جنرل فیض حمید عدالت طلب

آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر سڑک بندش کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ڈی جی کائونٹر انٹیلی جنس جنرل فیض حمید کو طلب کر لیا ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جنرل فیض حمید کو فوری طور پر پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزارت دفاع اور سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ آئی ایس آئی حکام کو آٹھ سے بارہ ہفتے صرف منصوبہ بندی کیلئے درکار ہیں ۔

عدالت نے آئی ایس آئی کی تین ماہ میں سڑک کھولنے کیلئے متبادل پلان پیش کرنے کی استدعا مسترد کر دی ہے ۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سڑک کھولنے کیلئے چار ہفتے سے زیادہ کا وقت نہیں دے سکتے ۔ وزارت دفاع اور آئی ایس آئی کے نمائندے بریگیڈئیر فلک ناز نے بتایا کہ ایجنسی کا ہیڈکوارٹر سڑک کے اوپر واقع ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بم پروف دیوار بنائیں یا ہیڈکوارٹر کہیں اور منتقل کر دیں، آئی ایس آئی کا تعلق براہ راست ملکی دفاع سے ہے، سکیورٹی اداروں کو ایکسپوز نہیں کرنا چاہتے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حفاظت ضروری ہے مگر آئی ایس آئی کو کسی طور کھلی چھٹی بھی نہیں دے سکتے، عام شہریوں اور آئی ایس آئی کیلئے الگ معیار نہیں اپنا سکتے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آئی ایس آئی کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ ایک ماہ میں راستہ کھول سکے ۔
سماعت میں جنرل حمید کے آنے تک کیلئے وقفہ کیا گیا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے