نہ کمر درد، نہ قمر درد

رعایت اللہ فاروقی

کہانی پناما سے نہیں شروع ہوتی۔ کہانی شروع ہوتی ہے 2011ء سے۔ دماغ پر معمولی سا زور ڈالئے اور یاد کیجئے ! یاد آنے میں مشکل ہو تو اخبارات کی آرکائیوز اور یوٹیوب کے ذخیرے سے رجوع کیجئے۔ اور تازہ کیجئے وہ یادیں جب ملک پر قومی تاریخ کی سب سے بدنام حکومت کا راج تھا اور اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹنٹ جنرل احمد شجاع پاشا (ہلال امتیاز ملٹری) مسلم لیگ نون کے محاذ پر داد شجاعت دیتے ہوئے پی ٹی آئی کو عسکری غبارے میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس وقت کے قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے اسمبلی کے فلور پر اس معاملے کو بار بار اٹھایا اور ڈی جی آئی ایس آئی کے سیاسی کردار کو واضح کیا۔ قابل غور نکتہ یہ کہ آئی ایس آئی حکومت کے خلاف نہیں بلکہ قومی تاریخ میں پہلی بار اپوزیشن کے خلاف سرگرم تھی۔ کیوں ؟ کیونکہ نواز شریف کی فتح نوشتہ دیوار تھی۔ وہی نواز شریف جس پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ "اس نے کسی بھی آرمی چیف سے بنا کر نہیں رکھی” کتنا بڑا قصور ہے۔ ایسے قصور بھی بھلا معاف ہوسکتے ہیں ؟ انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر پی ٹی آئی کو عسکری غبارہ تو بنا ڈالا مگر جب الیکشن آیا تو یہ غبارہ کسی ناکام میزائل تجربے کی طرح زمین پر آگرا۔

نواز شریف کو روکا نہ جا سکا۔ اس نے اقتدار میں آنا تھا سو آگیا۔ خیال تھا کہ جنرل پاشا کی سرگرمیوں سے وہ سیکھ گیا ہوگا اور اس بار وہ "آرمی چیف سے بنا کر رکھے گا” اسے ایک سال کا موقع دیا گیا لیکن اس نے اپنی ریت نہ بدلی۔ اس نے ملک کے سب سے بڑے غدار اور آئین شکن جنرل مشرف کو عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ اس نے ثابت کردیا کہ وہ باز آنے والا نہیں۔ جنرل مشرف جن بہادر سپوتوں کا تھا انہوں نے اسے ملٹری ہسپتال میں سنبھال لیا اور عسکری غبارے میں ایک بار پھر ہوا بھرنی شروع کردی۔ پھر وہ غبارہ پانچ سال تک انتشار پھیلاتا رہا۔ آئین شکن کے سامنے عدالت بے بس ہوئی اور وہ کمر درد کے نام پر فرار ہوگیا۔ یہ کمر درد بھی عجیب چیز ہے۔ کوئی عسکری نوعیت کا درد ہے جو یا تو بزدل جرنیلوں پر آتا ہے یا ان کے چوہدری نثاروں پر۔ کمر درد نہ ہوا "قمر درد” ہوگیا۔ دوسری جانب نواز شریف کو نااہل کردیا گیا لیکن اس نے ثابت کردیا کہ اس کی کمر کوئی فوجی کمر نہیں کہ درد کا شکار ہوجائے۔ خیال تھا کہ خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر کے جرنیلوں کا راستہ کھلا چھوڑ دے گا۔ لیکن پاکستان کی قومی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کسی لیڈر نے "رضا کارانہ جلا وطنی” کے بجائے مزاحمت کی راہ چن لی۔ پی ٹی آئی نامی عسکری غبارے میں پچھلی بار سے چار گنا زیادہ ہوا بھری جا چکی۔ بنی گالہ کو "عسکری لوٹا گاہ” میں بدل ڈالا گیا مگر عالمی ہی نہیں مقامی ادارے بھی سروے رپورٹ میں یہ بتاتے جا رہے تھے کہ نواز لیگ اب بھی سب سے مقبول جماعت ہے۔ اس کے امیدواروں کو تھپڑ مار مار کر ٹکٹ واپس کروا لئے گئے، کچھ کو ٹکٹ ملتے ہی نیب سے اٹھوا لیا گیا مگر رپورٹ اب بھی یہی کہتی تھی کہ نواز لیگ مقبولیت میں سب سے آگے ہے۔

ثاقب نثار نے شیخ رشید کے ساتھ اس کے حلقے کا دورہ کر ڈالا مگر رپوٹس اب بھی یہی تھیں کہ نواز لیگ سب سے آگے ہے۔ راتوں رات "جیپ” میدان میں آگئی تاکہ عسکری غبارے کو سپورٹ مہیا کی جا سکے لیکن نواز لیگ کی مقبولیت عسکری غبارے اور جیپ دونوں ہی سے زیادہ رہی۔ اب دس سال قید کی سزا بھی سنا دی گئی۔ دو چار دن میں پھر تھرما میٹر قوم کے منہ میں ڈال کر چیک کیا جائے گا کہ اس ڈوز کا کوئی اثر ہوا یا نہیں ؟ قوم کو لاحق نواز شریف کا بخار کم ہوا کہ نہیں ؟ رپورٹ اب بھی یہی کہے گی نواز لیگ اب بھی سب سے مقبول جماعت ہے۔ سو واحد راستہ یہی ہے کہ 25 جولائی کو دھاندلی کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ ڈالو۔ پری پول دھاندلی تو کر ہی چکے۔ ووٹنگ بھی مرضی کی کروا لو۔ لیکن ایک سوال ہے۔ کیا 2011ء سے شروع ہونے والی جرنیلیاں اپنا مقصد پا جائیں گی ؟ نہیں ! کیونکہ نواز شریف کو نہ کمر درد ہوتا ہے اور نہ ہی قمر درد !

یہ تحریر رعایت اللہ فاروقی کی فیس بک سے لی گئی ہے

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے