فول ڈیم

اظہر سید

ریاست کو آئین اور قانون کے تحت چلایا جاتا ہے اور آئین میں انتظامیہ ،مقننہ اور عدلیہ کے دائرہ کار کو طے کر دیا گیا ہے ۔ ریاستی امور کی انجام دہی منتخب حکومت کا کام ہے اعلی عدلیہ کا نہیں اور آئین کا ارٹیکل 184 تین ہر گز سپریم کورٹ کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ ترقیاتی منصوبوں پر بھی ہاتھ صاف کر جائے یہ ارٹیکل بنیادی حقوق اور عوامی اہمیت کے معاملات میں عدالت عظمیٰ کو محدود اختیارات دیتا ہے لیکن منتخب حکومت کے اختیارات سلب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ۔ ہمیں افسوس اس بات کا ہے کہ پاک فوج جیسے معتبر اور طاقتور ادارے نے سپریم کورٹ کے ایک ایسے کارنامے پر صاد کر دیا ہے جو اس کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں ۔

بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کیلئے سپریم کورٹ نے جو فنڈز قائم کیا ہے وہ ائین کی کس شق اور کس قانون کے تحت کیا ہے، قانون دانوں کو ضرور اس کی نشاندہی کرنا ہوگی یہ کوئی بنانا ریاست ہے جہاں سو موٹو کی تلوار سے صرف اس بنا پر ریاستی امور سنبھال لئے جائیں کہ ”سیاں کوتوال ہیں ” ۔
جہاں تک بھاشا ڈیم اور منڈا ڈیم کیلئے عدالت عظمیٰ کی طرف سے خصوصی اکاوئنٹس قائم کرنے کی بات ہے تو اس سے مضحکہ خیز بات کوئی اور نہیں ہو سکتی، کم از کم جی ایچ کیو کو تو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے تھا کہ افسران اور جوانوں کی دو اور ایک دن کی تنخواہ سے یہ ڈیم نہیں بننے والا وہ تو سب حقائق جانتے ہیں ۔ اس ڈیم کی تعمیر کیلئے پورے 15 ارب ڈالر درکار ہیں کم تو بالکل نہیں ۔ البتہ جس شرح سے پاکستانی روپیہ کی قدر کم ہو رہی ہے یہ رقم 18 سے 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے اور یہ ڈیم اگر آج شروع کر دیا جائے اور مسلسل فنڈز ملتے رہیں تو دس سال کی مدت میں مکمل ہو گا یعنی 2028 میں ۔

آج کی تاریخ میں ڈالر کی قیمت 114 روپیہ ہے، معاشی بحران منہ کھولے سب کچھ نگلنے کو بے تاب ہے ، ادائیگیوں کا توازن بہت جلد آئی ایم ایف کے پاس جانے پر مجبور کردے گا تو پھر قوم کو کیوں احمق بنایا جارہا ہے اور ایک ادارہ جس کے اختیارات آئین میں درج ہیں اس کو کیوں ائین کی بنیادی انسانی حقوق اور عوامی اہمیت کی شق کے تحت انتظامی اختیارات دئیے جا رہے ہیں اور پاک فوج جو سول حکومت کا ایک ماتحت ادارہ ہے (ملک میں اس وقت عملا مارشل لا نہیں) وہ ریاست کے ایک ستون یعنی عدلیہ کے ترازو میں کیوں اپنا وزن ڈال رہا ہے ۔
دیامیر بھاشا ڈیم کا ڈرامہ جلد ختم ہو جائے گا یہ ڈیم صرف ایک منتخب حکومت کے زریعے ہی مکمل ہو سکتا ہے ۔ اب جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے وہ اس ڈیم کی تعمیر میں تاخیر کا سبب تو بن سکتا ہے بروقت تکمیل میں ہرگز نہیں ۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی مختصر مدت ملازمت یعنی وزارت عظمیٰ کے دوران ایک چھکا لگانے کی کوشش کی تھی اور بھاشا ڈیم کو سی پیک میں شامل کرانے کی اخری کوشش کی تھی لیکن چینیوں نے بھارت کے ساتھ اپنی 100 ارب ڈالر کی سالانہ تجارت کے پیش نظر فنڈز کی فراہمی کیلئے بھاشا ڈیم کی اونر شپ کے ساتھ کچھ ایسی شرائط عائد کی تھیں جس پر شاہد خاقان عباسی نے ڈیم اپنے وسائل سے تعمیر کرنے کی سمری پر دستخط کر دئے اور جی ایچ کیو اس بات سے اچھی طرح واقف ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا جب منتخب حکومت کے منتتخب وزیراعظم نے بھاشا ڈیم کی اپنے وسائل سے تعمیر کا حکم جاری کیا تھا اس وقت فوج کی طرف افسران اور جوانوں کی ایک اور دو دن کی تنخواہوں کے عطیہ کا علان کیا جاتا اور اپنے خلوص کا اظہار کیا جاتا،ہم سمجھتے ہیں نہ ہی سپریم کورٹ کو اس ڈیم کی تعمیر کیلئے مداخلت کرنا چاہیے اور نہ ہی فوج کو سپریم کورٹ کے قائم کردہ فنڈ میں حصہ ڈالنا چاہیے تھا ۔
بھاشا ڈیم منصوبے کا سچ یہ ہے 29 جولائی 2008 کو وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے وزارت خزانہ اور واپڈا حکام کے ساتھ 14 ارب ڈالر لاگت (اس وقت اس ڈیم کی لاگت یہی تھی ) عالمی بینک سے فنڈنگ کیلئے بات چیت کی تھی اور عالمی بینک نے فنڈنگ کو بھارت کی طرف سے عدم اعتراض کے سرٹیفیکیٹ سے مشروط کر دیا تھا دوسرے لفظوں میں انکار کر دیا تھا کیونکہ بھارت سے عدم اعتراض کے سرٹفکیٹ کی درخواست کا مطلب یہ تھا کہ گلگت بلتستان متنازعہ علاقے ہیں ۔
بھاشا ڈٖیم کا دوسرا سچ یہ ہے 2 مئی 2014 کو عالمی بینک نے پاکستان کی بھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈز کی دوسری درخواست بھی مسترد کر دی تھی اور تیسرا سچ یہ ہے کہ 26 اکتوبر 2016 کو وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر نے بھی بھاشا ڈیم کو بھارتی اعتراض پر فنڈز کی فراہمی سے انکار کر دیا تھا، بھاشا ڈیم کا پانچ مرتبہ افتتاح ہو چکا ہے ۔ جنرل مشرف نے بھی افتتاح کیا تھا، پیپلز پارٹی کی حکومت میں دو مرتبہ اس کا افتتاح ہوا، اور مسلم لیگ ن کی حکومت نے بھی دو مرتبہ اس ڈیم کا افتتاح کیا ۔ ہمیں لگتا ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر کا چھٹا افتتاح اب پاکستان کا چیف جسٹس کرے گا ۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں موڈیز اور سٹنڈرڈ اینڈ پورزپاکستان کی معاشی ریٹنگ کم کر چکی ہیں،پاکستان کا حصص بازار (نواز شریف کرپشن اپریشن) کی وجہ سے 56 ہزار انڈکس سے کم ہو کر 41 ہزار پر پہنچ چکا ہے ۔ زرمبادلہ کے زخائر محض دو ماہ کی درمدات کے برابر ہیں، ادائیگیوں کے توازن کا بحران سامنے ہے اور ملک میں افراتفری کا سماں ہے اور اس نازک موقع پر عدالتیں قومی اہمیت کے اس اہم منصوبے کو اپنے سینگوں پر اٹھانے کے چکر میں ہیں ۔
اس ڈیم کی تعمیر کیلئے پیسے کہاں سے آئیں گے ؟ عالمی مالیاتی ادارے تو صاف انکار کر چکے ہیں، جب عالمی مالیاتی ادارے انکار کر دیں تو عالمی منی مارکیٹ سے بھی پیسے نہیں ملتے ،عوامی جمہوریہ چین نے بھی اس ڈیم کو سی پیک میںؐ شامل نہیں کیا، تو کیا جب مقامی قرضے 45 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہوں اور غیر ملکی قرضوں کا حجم بھی اتنا ہی ہو تو کوئی جادو گر پیسے دے گا یا پھر 18 ارب ڈالر کے مساوی نوٹ چھاپیں گے؟ بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر اگر کرنا ہے تو اس کیلئے ڈرامے کی نہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہوتی ہے، ملک میں سیاسی افراتفری کے خاتمہ کی ضرورت ہوتی ہے، اگر یہ ڈیم اپنے وسائل سے تعمیر کرنا ہے تو اس کیلئے معیشت کامستحکم ہونا ضروری ہے اور معاشی شرح نمو کم از کم 8 سے دس فیصد ہونا ضروری ہے ۔ ملک میں جو ہو رہا ہے جس طرح نواز شریف کو سیاسی طور پر ختم کرنے اور ایک پیارے کو وزیراعظم بنانے کی کوشش ہو رہی ہے ہمیں تو مستقبل میں مزید سیاسی افراتفری نظر آرہی ہے ۔ اس صورتحال میں بھاشا ڈیم ایسے منصوبے پر ہونے والی موجودہ پیش رفت ہمیں ہرگز ملک کے مفاد میں نظر نہیں آرہی کاش اس منصوبے کو سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کیلئے استعمال نہ کیا جاتا ۔

اظہر سید اسلام آباد میں مقیم سینئر صحافی اور تجزیہ کار ہیں جو طویل عرصے تک روزنامہ جنگ سے بطور نامہ نگار وابستہ رہے ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے