چیف جسٹس اور خواجہ حارث میں مکالمہ

احتساب عدالت میں شریف خاندان کے ریفرنسز کے مکمل کرنے کیلئے مدت میں توسیع کی درخواست کی سماعت سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ۔ عدالت نے نیب کورٹ کو ریفرنسز مکمل کرنے کیلئے چھ ہفتے کی مہلت دے دی ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے احتساب عدالت کے جج کی درخواست کی سماعت کی ۔ نیب کے پراسیکیوٹر اکبر تارڑ عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے پوچھا کہ کتنی توسیع چاہیئے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ نیب ریفرنسز کا ٹرائل کس مرحلے پر ہے؟ ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اکبر تارڑ نے بتایا کہ دو ریفرنسز پر گزشتہ ایک ماہ میں پیش رفت نہیں ہو سکی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک تو غالبا ختم ہو گیا نا ۔ کل چار ریفرنسز ہیں ۔

نیب کے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنس میں اٹھارہ گواہ ہیں، چودہ کا بیان ریکارڈ ہو چکا، دو چھوڑ دیئے جبکہ دو کا بیان ریکارڈ ہونا ہے، پچھلے ریفرنس کی وجہ سے وقت لگا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وکیل خواجہ حارث کو دفاع میں وقت دینا ہوگا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق پراسیکیوٹر نے کہا کہ العزیزیہ ریفرنس میں کل 26 گواہ ہیں، 20 کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے، چار گواہ چھوڑ دیئے، واجد ضیا کا بیان جاری ہے ۔ چوتھا ریفرنس اسحاق ڈار کا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ تو مفرور ہے،کیا اس کی غیر موجودگی میں سزا ہو سکتی ہے۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ غیر موجودگی میں کیس کا میرٹ نہیں دیکھا جاتا، مفرور کو سیکشن 31 کے تحت مفروری پر سزا ہوتی ہے ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ مزید کتنا وقت درکار ہے؟ ۔ پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران دونوں ریفرنسز پر پیش رفت نہیں ہوئی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دفاع کے وکیل کو دلائل سے کیسے روک سکتے ہیں ۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ابتدا میں استدعا کی تھی کہ تینوں ریفرنس میں مشترکہ معاملات ہیں ایک ساتھ سنا جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ تو نہیں ہو سکا، اب اس وقت کیا کہنا چاہیں گے۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے استدعا کی کہ مزید دو ریفرنسز جج محمد بشیر نہ سنے کیونکہ وہ ایک ریفرنس پر فیصلہ دے چکے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے آپ کے دلائل سن لیے ہیں ، ہم آپ کی یہ بات ماننے کو تیار نہیں ۔ خواجہ حارث نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ اس معاملے کی سماعت جج محمد بشیر خود کریں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ  پھر آپ نے ہمارے سامنے معاملہ کیوں رکھا؟ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے دلائل دیے ہیں ہمیں کچھ نہ کچھ آرڈر تو کرناپڑے گا ۔ خواجہ حارث نے کہا کہ یہ ان فیئر ہوگا ۔ چیف جسٹس نے فورا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے عدالت کے بارے میں ان فیئر کی بات کی، اس ایک کیس کیلئے ملک کی کتنی خدمت ہو رہی ہے، اس عدالت (سپریم کورٹ) سے ان فیئر کو منسوب کر کے اس ملک کی کیا خدمت کی جا رہی ہے، بار بار کہا جاتا ہے عدليہ نا انصافی کر رہی ہے ۔

خواجہ حارث نے کہا کہ بہتر ہو گا اختساب عدالت کے جج اس پر خود فیصلہ کریں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے توسیع والی درخواست میں یہ نقطہ کیوں اٹھایا ۔ خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت میرے اعتراض کو حکم نامے کا حصہ نہ بنائے اس سے احتساب عدالت کے سامنے میرا کیس متاثر ہوگا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جو بات عدالت میں ہوگی وہی حکم نامہ میں لکھوائیں گے ۔ خواجہ حارث نے کہا کہ چاہتا ہوں اعتراض کا قانونی حق ضائع نہ ہو ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ خواجہ صاحب، آپ ناراض نہ ہوں یہ بات آپ سے منسوب کر کے عدالتی حکم میں نہیں لکھواتے، جج نے ایک ماہ کا وقت مانگا ہے ہم چھ ہفتے دے دیتے ہیں، جانتا ہوں کہ آپ نے رات تین بجے تک کیس کی تیاری کی اور آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کا ذہنی سکون ڈسٹرب نہ ہو، جلدي کيس ختم ہو توآپ کو بھي سکون ملے گا، چيف جسٹس
نے کہا کہ کئی دن سے ميں بھی سکون سے نہيں سو سکا ۔ خواجہ حارث نے کہا کہ آپ نے خود پر بہت بوجھ ڈال ديا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس مقدمے کے بعد مجھ سے آپ کے تعلقات ٹھیک ہو جائیں گے ۔ خواجہ حارث نے کہا کہ میں آپ کا ریگارڈ کرتا ہوں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میرا تو آپ کیلئے ہمیشہ سے ریگارڈ ہے ۔

سپريم کورٹ نے احتساب عدالت کو مزيد 6 ہفتے کی مہلت ديدی ۔ عدالت نے لکھا کہ خواجہ حارث کے جج پر اعتراض کی درخواست متعلقہ فورم پر دے سکتے ہیں ۔

 

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے