اکیلا کیا کر سکتا ہوں

سپریم کورٹ نے نظام عدل میں اصلاحات کیلئے دائر درخواست پر فریقین سے دس دنوں میں تحریری جواب طلب کر لیا ہے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ مجھے اپنے گھر سے مدد نہیں ملی ،میں نے بڑے بڑے وکلاء کی منتیں کیں لیکن مجھے مثبت جواب نہیں دیا گیا ،میں اکیلا کیا کرسکتا ہوں ؟۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔درخواست گذار عمر گیلانی نے عدالت کو بتایا کہ جھوٹی گواہیوں اور جھوٹے گواہان کے حوالے سے قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کچھ اقدامات ایسے ہیں جن کیلئے قانون بنانے والوں کو کچھ کرنا ہوگا ۔درخواست گذار کے وکیل نے کہا ہماری عزت سپریم کورٹ سے منسلک ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کیا مجھے تکلیف ہے گھر سے مدد نہیں ملی ،میں نے نظام عدل میں اصلاحات اور تجاویز کیلئے بڑے بڑے وکلاء کی منتیں کیں مگر کسی نے میری مدد نہیں کی ،میں نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر پیر کلیم خورشید اور ایڈووکیٹ کامران مرتضیٰ سے نظام عدل میں اصلاحات کیلئے تجاویز دینے کیلئے درخواست کی لیکن مجھے جواب نہیں ملا ۔عدالت نے فریقین سے دس دنو ں میں جواب طلب کر لیا ۔

ادھر سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر پیر کلیم خورشید نے بنچ اور بار کے درمیان فاصلوں کے تاثر کو مکمل رد کردیا ۔صدر بار ایسو سی ایشن نے کہاجہاں بھی ہماری ضرورت ہوگی ہم مکمل تعاون کریں گے ،ہم مکمل قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں ،قانون ارتقائی عمل کا نام ہے اس لیے سب کو مل جل کر آگے چلنا ہے ۔ایڈووکیٹ پیر کلیم خورشید نے مزید کہا ہم سے جب پوچھا جائے گا تو ہم معاونت کریں گے، خد ا کے گھر میں بھی انسان بلاوے پر جاتا ہے ، سولہ اگست دو ہزار سترہ کی لاہور میں کی گئی میری تقریر دیکھ لیں ، مفاد عامہ میرے انتخابی منشور میں شامل تھا۔

متعلقہ مضامین