۔۔۔۔ف کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

اظہر سید
یہ کیا ہو رہا ہے ریاست کے ستون کس کے اشارے پر چل رہے ہیں ۔ کون پاکستان کی جگ ہنسائی کا سبب بن رہا ہے ۔ یہ یقینی طور پر چند لوگ ہیں جو اپنے اداروں میں چھپ کر بیٹھے ہیں، حب الوطنی اور کرپشن کے خاتمہ کا علم اٹھائے اصل میں اپنے مفادات کے تحفظ کی جدوجہد میں مصروف ہیں، اور اس جدوجہد میں بری طرح ناکام ییں سب کی انگلیاں ایک ہی سمت اٹھ رہی ہیں ۔ ادارے بدنام ہو رہے ہیں ۔ خود غرضی کی انتہا یہ ہے مقدس اور محترم ادارے چند لوگوں کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں احترام کھو رہے ہیں لیکن خود غرض لوگوں کو اس کی کوئی پروا نہیں ۔ جو غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات پر تنقید کرے اسے غدار اور ملک دشمن ڈیکلیئر کر دو ۔
آج لاہور ہائی کورٹ کے جج نے حنیف عباسی کیس کا فیصلہ 21 جولائی تک کرنے کا حکم جاری کیا ہے اور 25 جولائی کو عام انتخابات ہیں، کیا عجلت ہے؟ کیا حنیف عباسی کا مخالف امیدوار کسی کا پیارا ہے؟ سوال تو ہو گا کیوں الیکشن تک سماعت ملتوی نہیں کی جاتی؟ اس سے پہلے بڑی عدالت بھی طلال چوہدری کا معاملہ الیکشن تک ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کر چکی ہے یعنی طلال چوہدری کا فیصلہ بھی الیکشن سے پہلے آئے گا ۔

لاہور ہائی کورٹ احسن اقبال کے کیس میں فیصلہ محفوظ کر چکی ہے اور الیکشن کے بعد سنائے گی اور مسلم لیگ ن کے ایک قد آور رہنما تو پہلے ہی الیکشن کیلئے نا اہل ہو چکے ہیں ۔ لوگ کہتے ہیں حنیف عباسی، طلال چوہدری اور دانیال عزیز اپنے مخالف امیدواروں سے جن کا تعلق تحریک انصاف سے ہے بھاری اکثریت سے جیتنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ دو کے سر پر الیکشن سے پہلے نا اہلی کی تلوار لٹکا دی، ایک فارغ کر دیا اور ایک کیلیے الیکشن کے بعد نا اہلی کا خطرہ کھڑا کر دیا ۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن سے قبل سماعت مکمل کرنے اور فیصلہ سنانے کے حکم کی وجہ احتساب عدالت پہلے ہی پارٹی قائد نواز شریف اور ان کی سیاسی وراثت کی امین مریم نواز کو سزا یافتہ قرار دے چکی ہے ۔
یہ بھی طرفہ تماشا ہے جس روز نواز شریف نے اپنی بیٹی کے ہمراہ وطن واپسی کا اعلان کیا کسی نامعلوم مخلوق کی خواہش پر ان کے گھر کے باہر لندن میں درجن بھر لوگوں کے مظاہرے شروع ہو گئے اور مخصوص ٹویٹر اور فیس بک ہینڈلرز کے ذریعے ان مظاہروں کی اہتمام سے بنائی کوریج پاکستان سوشل میڈیا پر چلانے کا عمل شروع ہوگیا ۔ غضب خدا کا لندن میں مظاہرہ ختم ہوتا ہے ایک گھنٹے کے اندر پاکستان میں آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا اکاوئنٹس کے زریعے مظاہرے کی ویڈیو چلنا شروع ہو جاتی ہیں کس غضب کے لوگ ہیں یہ مظاہرے کرنے والے، ہوتے درجن بھر ہیں لیکن لاکھوں فیس بک اور ٹویٹر اکاونٹس پر ایک گھنٹہ میں لوڈ ہو جاتے ہیں ۔
کچھ پتہ نہیں چل رہا کیا ہو رہا ہے ۔ کراچی میں راؤ انوار کی ضمانت کا فیصلہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتا ہے ۔ ملک بھر میں غم وغصہ کی فضا قائم ہوتی ہے اور منظور پشتین کی طرف سے احتجاج کا اعلان ہوتا ہے ۔ اے این پی کے جواں سال ہارون بلور کو اپنے والد کی طرح خود کش حملے میں شہید کر دیا جاتا ہے اور تمام میڈیا کا رخ ہارون بلور کی شہادت کی طرف مڑ جاتا ہے ۔ اور خوفناک بات یہ ہے 25 جولائی کے عام انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی تحریک انصاف کو شکست دیتی نظر آ رہی ہے ۔ یہ حملہ گزشتہ الیکشن کی طرح اے این پی کو انتخابی سیاست سے دور کر دے گا اور مخصوص جماعت کو کھلا میدان مل جائے گا ۔
ہم سمجھتے ہیں بعض اداروں کے بعض لوگوں کے اقدامات کی وجہ سے ملک دشمن قوتوں کو بھی اپنا کھیل کھیلنے کا موقع مل گیا ہے اور انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی پر حملہ کے ذریعے پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بنانے کی سازش کی ہے ۔ اگر ملک میں سیاسی افراتفری ختم ہو جائے اور بعض اداروں پر جانبدار ہونے کا تاثر موثر اقدامات کے زریعے ختم کیا جائے تو حالات بہتر ہو جائیں گے ۔ اگر جمہوریت کا تسلسل رکھنا ہے تو لوگوں کو فیصلہ کرنے دیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے