زرداری پیش نہیں ہوں گے

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے بعد سپریم کورٹ کے سامنے بھی پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پارٹی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات کے لئے ایف آئی اے اور عدالت سامنے خود پیش نہیں ہوں گے بلکہ ان کے وکیل ہی جواب دیں گے ۔

ایف آئی اے نے آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک جعلی اکاؤنٹ سے ڈیڑھ کروڑ روپے کی رقم زرداری گروپ کے اکاؤنٹ میں منتقلی کے بارے میں بتائیں، اس سے قبل سپریم کورٹ نے بھی ان دونوں کو دیگر بیس لوگوں کے ساتھ بارہ جولائی کو حاضر ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر بخاری نے کہا ہے کہ آصف زرداری ایف آئی کے بعد عدالت میں بھی نہیں پیش ہوں گے، زرداری کی جانب سے وکیلوں کی ٹیم جن میں اعتزاز احسن، لطیف کھوسہ اور فاروق نائیک چیف جسٹس ثاقب نثار کا سامنا کریں گے ۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے 29 جعلی اکاؤنٹس کے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا، جس میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور سمیت ایک درجن افراد کے بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

یاد رہے کہ کراچی میں 29 جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات کرنے والے تفتیشی افسر نے آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ کو نوٹس میں آگاہ کیا ہے کہ اے ون انٹرنیشنل کے اکاؤنٹ سے سمٹ بینک میں زرداری گروپ کے اکاؤنٹ میں ڈیڑھ کروڑ روپے کی منتقلی کی گئی ہے ۔ تفتیشی افسر نے آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو نوٹس کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ وہ بدھ کو دوپہر ایک بجے اپنے اوریجنل شناختی کارڈ سمیت اپنا بیان ریکارڈ کرائیں اور اس رقم کی منتقلی کا جواز بیان کریں۔

ایف آئی اے حکام نے تصدیق کی تھی کہ آصف علی زرداری کی رہائش گاہ بلاؤل ہاوس پر کسی نے نوٹس وصول نہیں کیا اس وجہ سے اسے گیٹ پر چپساں کیا گیا ہے جبکہ فریال تالپور کے مینیجر نے نوٹس وصول کیا ہے ۔

یاد رہے کہ اس مقدمے میں سمٹ بینک کے وائس چیئرمین حسین لوائی اور ان کے ساتھی طلحہ رضا پہلے ہی گرفتار ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اپنی ایف آئی آر میں بتایا ہے کہ 29 مشکوک اکاؤنٹس کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنےآئی کہ ایک اکاؤنٹ جو اے ون انٹرنیشل کے نام سے موجود تھا جس کا مالک طارق سلطان نامی شخص کو ظاہر کیا گیا تھا، اسے منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا ۔

ایف آئی اے نے اپنی تحقیقات میں چار ارب 14 کروڑ کی مزید مشکوک منتقلی کی نشاندھی کی ہے، جس سے مستفید ہونے والوں، متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن کا گروپ اور آصف زرداری کے قریبی دوست انور مجید شامل ہیں ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے