قاسمی جیل جائیں گے؟

سپریم کورٹ نے عطاالحق قاسمی کے پاکستان ٹیلی ویژن کے چیئرمین کے طور پر تقرر اور ان کو دی گئی تنخواہ و مراعات کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اگر اسحاق ڈار مہربانی کرکے آجاتے تو ہم ان سے قاسمی صاحب کو دی گئی مراعات کا پوچھ لیتے ۔

عدالت عظمی کے دو رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ اسحاق ڈار آ گئے؟ اگر نہیں آئے تو سیکرٹری داخلہ بتائیں کہ کیسے واپس لانا ہے لیکن پہلے سابق سیکرٹری اطلاعات بتائیں کہ قاسمی کو لگانے کی سمری کیسے بھیجی؟۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق سابق سیکرٹری اطلاعات نے بتایا کہ ریٹائرڈ ہو چکا ہوں، قاسمی کی سمری جوائنٹ سیکرٹری صبا محسن نے بھیجی تھی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب تو وہ بھی ریٹائرڈ ہو چکی ہیں ۔

عدالت کے پوچھنے پر سابق سیکرٹری خزانہ وقار مسعود نے کہا کہ وزارت اطلاعات کی قاسمی کے تقرر کی سمری پر پندرہ لاکھ تنخواہ کا کہا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا وہ اس کے حقدار تھے، کیا آپ نے قواعد دیکھے تھے؟ ۔ سابق سیکرٹری نے کہا کہ سابق ایم ڈی محمد مالک کی بھی اتنی ہی تنخواہ تھی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ کو ایم ڈی اور چیئرمین کا فرق نہیں معلوم؟ ۔ یہ معاملہ نیب کو بھیج سکتے ہیں، اس لئے یہاں جو بولیں گے وہی موقف بعد میں نیب کو بھی تفتیش میں دینا ہوگا ۔ وقار مسعود نے کہا کہ تحریری موقف جمع کرا دیا ہے، وزارت خزانہ نے سمری پر اپنی سفارشات لکھ کر واپس بھیجا تھا، وزیر خزانہ کی جانب سے اس پر نوٹ لکھ کر ہمیں دیا گیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو ڈکٹیشن ہوگئی، اس طرح کیسے اتنی تنخواہ کی منظوری دی جا سکتی ہے؟ ۔ وقار مسعود نے کہا کہ یہ وزیراعظم ہاوس کا استحقاق ہے، ہم نے سفارش کی تھی کہ مراعات نہ دی جائیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم کے پاس یہ اختیار کہاں سے تھا؟ ۔ وقار مسعود نے کہا کہ بطور سیکرٹری خزانہ احکامات اور قواعد کے مطابق اپنا کام کر رہا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اصل سمری اور ریکارڈ منگوائیں، نیب کو تفتیش کیلئے کہہ دیتے ہیں ۔

وقار مسعود نے کہا کہ 27 کروڑ کی بازگشت سن رہے ہیں اس کا ہمارے پیکج سے تعلق نہیں، ہمارا تنخواہ اور مراعات کا کل پیکج 54 ملین روپے کا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ اور چیزیں اس میں شامل ہو گئی ہیں ان کا وزارت خزانہ کی طرف سے منظور کردہ تنخواہ سے تعلق نہیں ۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ آپ کیا تجویز کریں گے، اب مزید تحقیقات کیسے ہوں، کیا کرنا چاہئیے؟ ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر آپ نے کہا تھا کہ قاسمی رقم واپس کر دیں تو معاملہ نیب نہیں بھیجیں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قاسمی کی وکیل ہدایات لے کر آگاہ کریں کہ ان کا کیا موقف ہے۔

عدالت کو پی ٹی وی کی ایک خاتون ملازم جویریہ نے بتایا کہ اس کیس میں درخواست دی ہے، عدالت صرف قاسمی صاحب کی حد تک کیس کو نہ دیکھے، گزشتہ پانچ سال کا آڈٹ کرایا جائے، محمد مالک کو جب ایم ڈی لگایا گیا وہ بھی غیر قانونی تھا کیونکہ وہ پہلے ہی سرکاری ٹی وی کے ڈیفالٹر تھے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست کو انتظامیہ چلاتی ہے سارا کچھ ہم کرتے جا رہے ہیں، ہم اب تھکتے جا رہے ہیں ۔

چیف جسٹس نے اسحاق ڈار کے وکیل سے پوچھا کہ کیا آپ کی ان سے واٹس ایپ پر بات ہوتی ہے؟ ازراہ مذاق پوچھ رہا ہوں، بتا دیں ۔ وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ نہیں ہوئی ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ میں عطاء الحق قاسمی کو کبھی نہیں ملا لیکن ان کی کتابیں پڑھی ہیں، بڑے دکھ کی بات ہوگی اگر اتنے بڑے آئیکان جیل جائیں گے، میری تجویز ہوگی کہ عطاءالحق قاسمی رقم واپس کر دیں ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیض احمد فیض بھی جیل میں گئے تھے اور آج ہم انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ فیض احمد فیض تو کسی مقصد کیلئے جیل گئے تھے، فیض احمد فیض نے تو یہ مراعات نہیں لی تھیں ۔

چیف جسٹس نے اسحاق ڈار کو ملک واپس لائے جانے کا پوچھا تو سیکرٹری داخلہ نے بتایا پاسپورٹ کینسل کرنے کیلئے پہلے شوکاز نوٹس جاری کرنا ہوگا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اسحاق ڈار صاحب مہربانی کرکے آجاتے تو ہم ان سے مراعات سے متعلق پوچھ لیتے، کیا کریں اسحاق ڈار صاحب کو کمر کا درد اتنا زیادہ ہے کہ وہ آ ہی نہیں سکتے ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ اٹارنی جنرل صاحب بتائیں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، فیض احمد فیض ایک مقصد کے لیے جیل گئے تھے ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر عطاالحق قاسمی پیسے واپس کر دیں تو کیس ختم کردیا جائے ۔ عطاالحق قاسمی کی وکیل عائشہ حامد نے کہا کہ عطاالحق قاسمی تنخواہ اور مراعات کی مد میں لئے گئے پیسے واپس کرنے کے لیے تیار نہیں، عطاالحق قاسمی کا موقف ہے وہ لی گئی مراعات کے حق دار تھے ۔ عدالت کو بتایا گیا کہ پنجاب کی 56 کمپنیوں کے سربراہوں کو بھاری تنخواہوں، صدیق الفاروق اور ابصار عالم کا تقرر سب ایک ہی نوعیت کے کیس ہیں ۔ عدالت نے عطاالحق قاسمی کی حد تک کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسحاق ڈار کو پاکستان واپس لانے کا کیس الگ سے سنا جائے گا ۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے عطاالحق قاسمی کے تقرر پر لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت گزشتہ چار ماہ میں تیسری بار مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کیا ہے ۔

متعلقہ مضامین