یہ جو دہشت گردی ہے

ملک دشمن قوتوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کی مسلح افواج ہیں، آئی ایس آئی بھی پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے درپے قوتوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے ۔جنرل مشرف کے دور میں وکلا تحریک نے پاک فوج کے تاثر کو بہت نقصان پہنچایا تھا ۔ فوجی اہلکاروں کا وردی میں عوامی مقامات پر جانا مشکل ہو گیا تھا ۔جنرل کیانی کے دور میں بہت احتیاط کے ساتھ مسلح افواج کے تاثر کو عوام کی نظروں میں بحال کیا گیا ۔جنرل راحیل شریف کے دور میں اپریشن ضرب عضب ، کراچی میں رینجرز اپریشن اور اپریشن رد الفساد کی وجہ سے پاک فوج کا عوام کی نظروں میں احترام اور عزت عروج پر تھی ۔
صرف ایک سال گزرا ہے سب کچھ برباد ہو گیا ہے قبایلی علاقہ جات میں پختون تحفظ موومنٹ کے احتجاجی جلسوں میں اکثر ایک نعرہ لگایا جاتا ہے ” یہ جو دہشت گردی ہے اس کے ۔۔۔۔۔۔۔ تین روز قبل ہارون بلور کے جنازے میں بھی اس نعرہ کی بازگشت سنی گئی ‘دانیال بلور نے نعرہ سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے ‘ اور اب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی وطن واپسی پر یہ نعرہ لاہور میں بھی لگ گیا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں یہ بہت خطرناک صورتحال ہے خطرہ سر پہ آن پہنچا ہے۔سابق وزیراعظم بھٹو کے عدالتی قتل اور اس سے قبل مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کے موقع پر بھی پنجاب میں اپنی فوج کے حوالے سے یہ رجحان نہیں تھا ، پاکستان کی سلامتی کو آج جو چیلنجز درپیش ہیں پاکستان کی مسلح افواج کو پوری قوم کی حمایت کی اشد ضرورت ہے لیکن یہاں تو خود فوج تنقید کے نشانے پر ہے ۔
پاکستان کو اس وقت تین چیلنجز درپیش ہیں ۔ چین اور پاکستان کی مخالف قوتیں سی پیک کو مستقبل کا خطرہ سمجھ رہی ہیں اور اس خطرہ کے سامنے بھارت امریکہ اتحاد تشکیل پا چکا ہے جبکہ بعض خلیجی ریاستیں بھی گوادر کو اپنے لئے مستقبل کا خطرہ سمجھ رہی ہیں ۔پاکستان کو دوسرا چیلنچ ایٹمی صلاحیت کا تحفظ ہے پاکستان کو ایٹمی طاقت تسلیم نہیں کیا گیا اس معاملہ پر بھی بھارت اور امریکہ کے درمیان خاموش مفاہمت ہے جبکہ تیسرا چیلنج کشمیر کا معاملہ ہے بھارت کشمیر سے مسلسل جان چھڑانے کے چکر میں ہے اور اس وقت کشمیر کی خصوصی حثیت کا معاملہ بھارتی سپریم کورٹ میں ہے بھارتی سپریم کورٹ افضل گرو اور بابری مسجد کے معاملہ پر جو رویہ اختیار کر چکی ہے مقبوضہ کشمیر کی مستقبل گیری کی جا سکتی ہے ۔پاکستان کی سلامتی سے براہ راست منسلک ان تینوں چیلنجز کا تجزیہ کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے صرف پاکستان کی ایٹمی صلاحیت والی پروفیشنل فوج ہی ملکی سلامتی کی ضمانت ہے ۔جب پاکستان کو اس قدر متنوع چیلنجز کا سامنا ہو تو ملکی سلامتی کی ضمانت مسلح افواج کے متعلق لاہور میں ۔۔ یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے۔۔۔ کا نعرہ لگنا بہت خوفناک بات ہے جس کا تعلق براہ راست پاکستان کی سلامتی اور تحفظ سے ہے اور یہ صورتحال صرف ایک سال کے دوران بنی ہے ۔
اس وقت صورتحال کا سکون سے بیٹھ کر جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور اپنی غلطیوں کو درست کرنے کا وقت ہے ۔پہلے ہم پختون تحفظ موومنٹ کی بات کریں گے ، ہم سمجھتے ہیں راو انوار کے معاملہ کو صیح انداز میں ڈیل نہیں کیا گیا ۔کراچی کو دہشت گردی سے پاک کرنے میں راو انوار کا کردار بہت اہم ہے وہ کراچی جہاں ہر روز 50 سے زیادہ لوگ قتل ہوتے تھے ، جہاں طالبان کی شرعی عدالتیں بن چکی تھی وہاں راو انوار نے ریاست کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمہ میں مرکزی کردار ادا کیا لیکن ریاست سے بڑھ کر کچھ نہیں یا تو نقیب اللہ کے ورثا سے معاملہ طے کیا جاتا یا پھر راو انوار کو قانون کے مطابق سزا دی جاتی اور کوئی راستہ موجود نہیں تھا ۔ہم سمجھتے ہیں راو انوار کے معاملہ میں کی گئیں غلطیاں پختون تحفظ موومنٹ کی طاقت کا سبب بنی ہیں اس معاملہ کو اب بھی احسن طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے ۔
میاں نواز شریف کے معاملہ کو دیکھیں تو یہاں بدترین ناکامی ہوئی ہے ۔سابق وزیراعظم سیاست سے تو کیا فارغ ہوتے الٹا لینے کے دینے پڑھ گئے ہیں ۔نواز شریف کا معاملہ ریاست کے اہم ترین ستون عدلیہ کے ساتھ خود اسٹیبلشمنٹ کی بدنامی کا باعث بنا ہے ، ناکامی کا یہ عالم ہے پنجاب کے دل لاہور میں بھی نعرے لگنا شروع ہو گئے ہیں اور میڈیا پر کی گئی ساری سرمایہ کاری اور محنت بھی برباد ہو گئی ہے عوام میڈیا کو پارٹی سمجھنے لگے ہیں اور بین القوامی میڈیا میں پاکستان کے معاملات کا تمسخر اڑایا جا رہا ہے ۔نواز شریف کو وزارت عظمی سے فارغ کر دیا گیا لیکن اس کی قیمت بہت زیادہ ادا کی گئی ہے اور حاصل بھی کچھ نہیں ہوا الٹا نواز شریف بہت بڑا بوجھ بن گئے ہیں ۔
میاں نواز شریف کی وطن واپسی بہت بڑی شکست ہے انہیں ہائی کورٹ سے ضمانت مل جائے گی نہ ملی تو الگ سے مسلہ پیدا ہو گا اور جیل سے نواز شریف جیل کے باہر کے نواز شریف سے زیادہ خطرناک ثابت ہونگے ۔اب اگر انتخابات میں ن لیگ کو شکست دلا دی جاتی ہے تو وہ بھی مزید افراتفری کا سبب بنے گی مسلم لیگ ن نتایج تسلیم نہیں کرے گی اور دیگر شکست کھانے والی سیاسی جماعتیں بھی ن لیگ کے ساتھ مل جائیں گی ۔یہ صورتحال ٹھیک نہیں ہمیں سی پیک مکمل کرنا ہے ، ایٹمی صلاحیت کو تحفظ دینا ہے اور بھارت کے مذموم عزائم کو ناکام بنانا ہے ملکی معیشت بدترین ہوتی جا رہی ہے ۔ہمیں پاک فوج کی عزت اور احترام بھی واپس لانا ہے اور یہ سارے کام قومی اتحاد اور یکجہتی سے ممکن ہیں ۔پاکستان سے بڑھ کر کچھ نہیں کسی کی انا بھی نہیں معاملات مل بیٹھ کر بات چیت سے نپٹا لینا ہی پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے ۔اظہر سید

متعلقہ مضامین