جج بشیر اور خواجہ حارث میں مکالمہ

احتساب عدالت سے
اویس یوسف زئی

سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے اعتراض کے بعدالعزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنسز کی سماعت 30جولائی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ خواجہ حارث نے احتساب عدالت کو آگاہ کیا کہ دو دن سے کوشش کے باوجود نواز شریف تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ دو ریفرنسز کے جیل ٹرائل کے نوٹی فکیشن کا مقصد یہ ہے کہ الیکشن سے پہلے کوئی نواز شریف کو دیکھ یا سن نہ سکے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں سزا یافتہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کا آغاز کیا تو نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اعتراض کیا کہ وہ ان ریفرنسز پر سماعت نہ کریں۔ خواجہ حارث نے جج کو مخاطب کر کے کہا آپ اپنے ضمیر کے مطابق بھی دیکھیں، کیا آپ کو اب یہ دونوں ریفرنس سننے چاہئیں؟ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے جواب دیا کہ ہائی کورٹ کو خط لکھ دیا ہے، ریفرنسز کی منتقلی میرا اختیار نہیں۔ آپ نے بھی تو ریفرنسز منتقل کرنے کیلئے ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی، اس کا کیا بنا؟ خواجہ حارث نے بتایا کہ ہم جہاں بھی گئے وہاں پراسیکیوٹر موجود ہوتے تھے مگر گزشتہ روز کی عدالتی کارروائی میں نیب کا کوئی پراسیکیوٹر ہائی کورٹ میں موجود نہ تھا۔ انصاف صرف ہونا نہیں بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ جب تک ٹرائل منتقل کرنے کی درخواست پر فیصلہ نہیں ہوتا کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ریفرنسز کی کارروائی آگے بڑھانے پر کوئی حکم امتناع نہیں ہے، مناسب ہوگا جن جج صاحب نے پورا کیس سنا وہی اسے آگے بڑھائیں۔

دوران سماعت دو ریفرنسز میں جیل ٹرائل کا نوٹی فکیشن عدالت میں پیش کیا گیا تو جج نے کہا یہ اتنا آسان نہیں کہ یہاں سے اٹھیں اور جیل جا کر ٹرائل شروع کر دیں۔ وکلاء صفائی، گواہ اور جج کیلئے جیل میں جانے کا کیا طریقہ ہوگا؟ انہوں نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ وہ اس پر آپ کیا کہیں گے؟ خواجہ حارث نے کہا اس متعلق تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کرنا چاہیے تھا، اپنے موکل سے مشورہ کرکے جواب دے سکتا ہوں۔ جیل ٹرائل کے نوٹی فکیشن کا مقصد ہمیں معلوم ہے کہ الیکشن سے پہلے کوئی نوازشریف کو دیکھ یا سن نہ سکے۔ نیب کے سردار مظفر عباسی نے کہا کہ جیل ٹرائل کا نوٹی فکیشن گزٹ آف پاکستان میں آ چکا ہے۔ ان اس پر استغاثہ یا دفاع کوئی اعتراض نہیں کر سکتے۔ خواجہ حارث نے کہا دو دن سے کوشش کررہا ہوں، نوازشریف تک رسائی نہیں دی جارہی۔ جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے کہا کہ جیل میں بڑا اچھا اور پرامن ماحول ہوتا ہے۔ پہلے بھی جیل میں اوپن ٹرائل ہوچکے ہیں، میڈیا کو کوریج کی بھی اجازت ہوتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے