کھلی عدالت میں سماعت کی منظوری

اسلام آباد  میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کئی اہم فیصلے کئے گئے ہیں جن میں سے ایک سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف نیب مقدمات کی سماعت کھلی عدالت میں کرنے کی منظوری بھی شامل ہے ۔ کابینہ فیصلوں کے بارے میں نگران وزیروں نے نیوز کانفرنس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فاٹا کے پختونخوا میں انضمام کے بعد انتظامی امور درپیش تھے، کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ فاٹا کے عوام سے بجلی سے سیلز ٹیکس نہیں لیا جائے گا ۔

نگران وزیراعظم ناصر الملک کی زیر صدارت اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز میں نواز شریف کے اوپن ٹرائل کی منظوری دے دی گئی اور جیل میں ٹرائل کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا۔ نگراں حکومت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے نواز شریف کو 10 سال قید کی سزا ہونے کے بعد ان کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہی کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا ۔

اجلاس میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور عام انتخابات کے عمل کو شفاف بنانے کے اقدامات کو حتمی شکل بھی دی گئی ۔ کابینہ کی جانب سے منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات اور ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر غور بھی کیا گیا اور بینکنگ کورٹ ٹو لاہور کے جج کی تعیناتی کی منظوری دی گئی ۔ چیئرمین پورٹ قاسم کو اضافی ذمہ داریاں دینے کی منظوری بھی اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ تھا ۔

واضح رہے کہ نواز شریف اور مریم کو وطن واپسی کے بعد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا ۔ وزارت قانون و انصاف نے باقی دو نیب ریفرنسز میں ان کا ٹرائل جیل میں ہی کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا تھا ۔

متعلقہ مضامین