پڑھنے والے مدد کریں،نوائے وقت

پاکستان میں جہاں ایک طرف کئی بڑے میڈیا گروپ یہ الزام لگاتے ہیں کہ ان کو آزادانہ ادارتی پالیسی کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے وہاں نوائے وقت گروپ نے کہا ہے کہ اس پر اس طرح کا کوئی دباؤ نہیں مگر اخبار نے ایک الگ نوعیت کے دباؤ کی شکایت کی ہے ۔
گروپ کے انگریزی اخبار دی نیشن نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ موجودہ حالات میں پروفیشنل میڈیا کے اداروں کو ایسے میڈیا اداروں سے مقابلہ درپیش ہے جن کے پاس نہ ختم ہونے والے پیسے کے انبار ہیں ۔ اخبار نے لکھا ہے کہ سرکاری اشتہارات مل رہے ہیں اور نہ ہی نجی شعبہ اشتہار دے رہا ہے۔ گزشتہ انتخابات کے دوران اخبارات کے پاس اشتہارات چھاپنے کی جگہ نہیں تھی اور اس بار نرخ کم کرنے کے باوجود الیکشن کے اشتہارات بھی نہیں ہیں ۔
دی نیشن اخبار اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ جس طرح بغیر کسی چیک کے اخبارات اور ٹی وی چینلز کواجازت دی گئی، اب وہ ادارے جو اس میڈیا انڈسٹری میں صرف صحافت کے ذریعے کاروبار کر رہے تھے خود کو ان اداروں سے مقابلے میں پاتے ہیں جن کا پاس نہ ختم ہونے والے پیسے ہیں۔
وہ تمام لوگ جو تیل کی صنعت اور کالجوں کے کاروبار سے وابستہ تھے ، نے تجربے کیلئے میڈیا میں سرمایہ کاری کر لی ہے ۔ اخبار نے لکھا ہے کہ ان حالات میں میڈیا کہاں جا رہا ہے؟ کیا اصل میڈیا ہاوسز کو نئے گروپ صرف مالی مفادات کی وجہ سے ختم کر دیں گے؟یا ہمارے پڑھنے والے( قاری) اور دیکھنے والے (ناظرین) اور اشتہار دینے والے بھی ہماری مدد کریں گے؟۔ کیا وہ دم توڑتی پروفیشنل صحافت کو زندہ رکھنے کیلئے مدد کریں گے؟ کیا وہ اس صحافت کو اس پوزیشن پر بحال کرنے میں مدد کریں گے کہ جہاں اس پر اعتماد کیا جاتا ہے اور جہاں اس کو ناجائز بدنامی سے بچایا جا سکے؟
اخبار نے لکھا ہے کہ پیارے قارئین کیا آپ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے؟ ہم آپ سے مدد مانگ رہے ہیں ۔

متعلقہ مضامین