جسٹس شوکت صدیقی کا مکمل خطاب

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے پنڈی بار ایسوسی سے خطاب کا مکمل متن یہ ہے ۔

ہمارے نظامِ انصاف کی بد قسمتی ہے کہ ہر کچھ عرصہ بعد کوئی جسٹس منیر آجاتا ہے۔
‏اللہ کو حاضر ناظر جان کر اور اپنی ماں کی قسم کھا کہ کہتا ہوں کہ آج کے دور میں بھی آئی ایس آئی عدالتی کاروائی کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنے میں پوری طرح ملوث ہے۔ آئی ایس آئی کے لوگ مختلف جگہ پہنچ کر اپنی مرضی کے بنچ بنواتے ہیں۔

میرے چیف جسٹس کو آئی ایس آئی نے اپروچ کر کے کہا کہ ہم نے الیکشن تک نواز شریف اور اس کی بیٹی کو باہر نہیں آنے دینا، شوکت عزیز صدیقی کو بنچ میں مت شامل کرنا اور میرے چیف جسٹس نے کہا جس بنچ سے آپ مطمئن ہیں وہ بنا لیں۔

مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ سپریم کورٹ میں کس کے ذریعے کون پیغام لے کر جاتا ہے، احتساب عدالت کی ہر پروسیڈنگ کہاں پر جاتی رہی ہے۔ مجھے وجہ بھی پتہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا انتظامی کنٹرول احتساب عدالت کے اوپر سے کیوں ختم کیا گیا۔

۔ ‏نوکری کی تو پرواہ نہیں لیکن میں نے یہ باتیں اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھی اس لئے کیں کیونکہ مجھے کہا گیا کہ آپ ہمیں یقین دہانی کروائیں کہ آپ ہماری مرضی کا فیصلہ دیں گے تو ہم آپ کے خلاف دائر ریفرنسز ختم کرا دیں گے۔

‏مجھے کہا گیا کہ اگر آپ فلاں کیس میں فلاں فیصلہ دیں گے تو ہم نومبر میں نہیں ستمبر میں ہی آپ کو چیف جسٹس (اسلام آباد ہائیکورٹ) بنا دیں گے۔ ‏میں نے کہا ضمیر کو گروی رکھنے سے بہتر ہے میں مر جاؤں۔ میں نے انہیں کہا میرٹ سے ایک سینٹی میٹر نہ ادھر ہوں گا نہ ادھر، مجھے ریفرنسز کی پرواہ نہیں آپ نے پہلے بھی کروائے ہیں دس اور کروا لیں جب تک اللہ کی مرضی رہی ساری دنیا بھی خلاف ہو جائے فیصلے کرتا رہوں گا۔

‏بار اور عدلیہ سے کہتا ہوں آپ کے گھر پہ ڈاکہ پڑ چکا ہے آپ کی حویلی بندوق کے کنٹرول میں آ چکی ہے آپ کی آزادی سلب ہو چکی ہے۔ جس عدلیہ کی آزادی پہ آپ فخر محسوس کرتے تھے اس پہ سمجھوتے ہو چکے ہیں۔

کسی فلسفی نے کہا تھا کہ اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ حکمرانی کس کے پاس ہے تو دیکھیں آپ کو کس کے خالف بات کرنے کی اجازت نہیں۔ آج یہ میڈیا والے بھی گھٹنے ٹیک چکے ہیں ،اپنے اشتہارات اور مفادات کی خاطر یہ بھی سچ بولنے سے گریزاں ہیں۔

‏میڈیا والوں کو مرضی کے ٹویٹس پریس ریلیز آتے ہیں کہ یہ جاری کریں یہ نہ کریں ، پوچھ لیں ان سے حلف لے کر یہ یہاں بیٹھے ہیں کہ کوئی ایک چینل ہے جو کہ سکتا ہے کہ ہمیں ڈائریکشنز نہیں آتیں؟ یہ ڈائریکشنز آئی ایس پی آر سے بھی آتی ہیں۔

جوڈیشری اور میڈیا کسی بھی معاشرے میں لوگوں کے ضمیر کی آواز ہوتا ہے اگر اس پہ پابندیاں لگا دی جائیں گی اس کو پابند سلاسل کر دیا جائے گا اس کے لبوں کو سی دیا جائے گا آزادی سلب کر کی جائے گی تو مجھے کہنے دیجئے پاکستان ایک آزاد جمہوری اسلامی ملک نہیں رہے گا۔

‏ستر سال میں ملک کو نہ جمہوری بنا سکے نہ اسلامی اور نہ نہ آئین کے تابع کر سکے۔ ستر سالوں میں سے پینتیس سال ڈکٹیٹر کھا گئے، ہمارے آئین سے کھلواڑ کیا گیا، ہمیں بات کرنے سے روکا گیا۔ یاد رکھیں اگر چور کو چور کہنے والا اس کے ساتھ مل جائے گا انصاف نہیں کرے گا تو وہ جج نہیں گا۔

جج انصاف سے دلیری سے جج ہوتا ہے، اللہ سے دعا ہے کہ پاکستان کو سچ کہنے والے سچ سننے والے حق کی بات کرنے والے منصف عطا کرے ورنہ پاکستان کا اللہ حافظ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے