قابل قبول نتائج

مطیع اللہ جان

اس دھاندلی کا کیا فائدہ کہ جس کے نتائج طوفان برپا کر دیں ویسے بھی نواز شریف کو انتخابی عمل سے تو باہر کیا جا چکا ہے۔ اتنا بڑا مقصد حاصل ہونے کے بعد اب صرف انتخابی نتائج کو قابل قبول بنانا سب سے بڑا چیلنج ہے۔انتخابی عمل میں بعض قومی اداروں پر الزامات زبان زدِ عام ہیں۔ اس صورت حال میں انتخابی نتائج کیسے ہوں کہ سب کا منہ بند ہو جائے؟ وہ نتائج کہ جن کو تسلیم کرنا ہر سیاسی جماعت کی سیاسی مجبوری بن جائے، ہر سیاسی جماعت یہ سمجھے کہ ان حالات میں یہ ان کی بڑی کامیابی ہے۔ اصل مقصد تو نواز شریف اور مریم نواز کو مقابلے سے باہر کرنا تھا جو پورا ہو چکا۔ اگر نتائج قابل قبول ہوئے تو دونوں قصہٴ پارینہ بن جائیں گے۔
دھاندلی کے بھی کچھ بنیادی "اصول” ہیں جنہیں قربان نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً عمران خان کا وزیراعظم بننا ضروری ہے۔ اگر عمران خان وزیراعظم نہ بنا (یا اس کا نامزد ہم جماعت) تو پھر تحریک انصاف بھی دوسری دو بڑی جماعتوں کے دھاندلی کے خلاف شور میں شامل ہو سکتی ہے۔ ایک منقسم اور کمزور پارلیمنٹ کے لئے کی جانے والی دھاندلی کی سازش ثابت بھی ہو جائے گی۔ تبدیلی کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی اور احتساب کا ڈھول بیچ چوراہے میں پھٹ جائے گا۔ عوام جان جائیں گے کہ تبدیلی اور احتساب کے پراپیگنڈے سے انہیں بیوقوف بنایا گیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ عمران خان کے وزیراعظم نہ بننے پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی خود کو کچھ نہ ملنے کے باوجود انتخابی نتائج قبول کر لے۔یہ اس لئے بھی ممکن ہے کہ دھاندلی کے مطلوبہ نتائج میں تین جماعتوں کو تین صوبوں میں حکومت دی جا سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ میں تو آ ہی جائے گی اور پی ٹی آئی خیبرپختونخواہ میں تو ایسے میں ن لیگ کو وفاق کے بعد صوبہ پنجاب کی حکومت سے بھی باہر کرنا انتخابی نتائج کو انتہائی مشکوک بنا دے گا اور سیاسی بے چینی پیدا ہو گی۔ یہ اور بات ہے کہ اب کی بار تینوں صوبوں میں اپوزیشن بہت مضبوط ہو گی۔جہاں تک بلوچستان کا تعلق ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہاں کون سی جماعت کی حکومت ہے۔ اور یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ بلوچستان میں حکومت حکم سے نہیں بندوق سے چلتی ہے، چاہے جیسے ہو۔ چنانچہ تکنیکی اعتبار سے ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں اور ایک "غیر سیاسی جماعت” کو چاروں صوبوں میں حکومت بنانے کا موقع مل جائے گا۔ تو اگر مطلوبہ نتائج حاصل ہو گئے تو عین ممکن ہے کہ شہباز شریف مطلوبہ نتائج کے طلب گاروں کا احسان لے کریعنی جیپ کے چند امیدواروں اور ایسی دوسری جماعتوں کی مدد سے پنجاب میں حکومت بنالیں اور یوں نتائج کو قبول کر لیں۔
اسی طرح وفاق میں عمران خان حکومتی اتحاد کی قیادت کر لیں۔ اس اتحاد میں جو کوئی بھی ہو گا اسکے لئے خان صاحب کو اپنے انتخابی نعروں کی متبادل تشریح بھی کرنا پڑ سکتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کے مطلوبہ انتخابی نتائج کے بعد کیا عمران خان اپنے "تبدیلی” کے نعرے کو عملی جامہ پہنا سکیں گے؟ اور اسی طرح کیا شہباز شریف "ووٹ کو عزت” دلوا سکیں گے؟
کیا پرانی کہانی دہرائی جائے گی اور انتخابی معاملات ایک بار پھر عدالتوں میں ہونگے؟ ایک بات طے ہے کہ انفرادی انتخابی عذرداریاں عدالتوں میں تو جائیں گے مگر بعد از انتخابات مذکورہ انتخابی ڈیزائن کا حصہ بننے کے بعد۔
تینوں بڑی جماعتوں کا وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں ہوتے ہوئے وہ الزام لگانا ممکن نہ ہو گا جو الزام آج یہ سیاسی جماعتیں اور بین الاقوامی ادارے لگا رہے ہیں۔ اقتدار کی ہڈی بڑی ظالم ہوتی ہے، چھوٹی ہو یا بڑی منہ بند رکھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ایسی سیاسی توپوں کے منہ بند ہونے کے بعد میڈیا پر صاف اور شفاف انتخابات کروانے کا تمام تر کریڈٹ "غیر سیاسی جماعت” کو دئیے جانے کی تیاریاں پہلے ہی مکمل ہو چکی ہیں۔ کن کن اینکروں اور صحافیوں نے کیا کیا سوالات، تجزیے اور خبریں نشر کرنی ہیں تمام سکرپٹ تیار ہے۔ ایسے میں تمام بڑی سیاسی جماعتیں ایک بار پھر اقتدار کی ہڈی منہ میں لئے خاموش تماشائی بن جائیں گی۔
پنجاب میں کمزور حکومتی اتحاد کی قیادت شہباز شریف کو دینے کا مقصد یہ بھی ہو گا کہ شہباز شریف کو ایک نئی مسلم لیگ بنانے میں مدد دینا۔ بدقسمتی سے نواز شریف اور مریم نواز خود تو اچانک نظریاتی بن گئے مگر اپنی پارٹی کو اتنے کم وقت میں نظریاتی نہ بناسکے۔ اسی لئے اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ شہباز شریف اپنے اینٹ اور روڑے کے بنے حکومتی اتحاد کے ذریعے ن لیگ کو عملی طور پر ش لیگ میں بدلنے میں کامیاب ہو جائیں۔
ایسے میں اور اتنی دیر میں خود نواز شریف کے لئے ووٹ کو عزت دینے کا معنی اور مطلب بھی بدل سکتا ہے۔اگر مریم نواز کو شہباز شریف کے توسط سے عدالتی عمل کی آڑ میں سیاست میں واپسی کا راستہ مل جائے تو کیا وہ وہی مریم نواز ہونگی جو پچیس جولائی سے پہلے تھیں؟
اس نئے سیاسی توازن میں عدالتوں اور احتساب بیورو کا اہم کردار ہو گا جنھوں نے بعد از انتخابات کسی بھی غیر متوقع صورت حال سے نمٹنے کے لئے اپنی چھریاں کانٹے تیز کر لئے ہیں۔ تقریباً تمام بڑی جماعتوں کے اہم لیڈران کسی نہ کسی تحقیق یا مقدمے میں مطلوب ہیں اور شاید یہ دن بھی دیکھنا پڑے کہ تاریخ میں پہلی بار ایک وزیراعظم گرفتار بھی ہو جائے۔
ہر دفعہ وزیراعظم کے ساتھ کچھ نیا ہی ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وزیراعظم کے خلاف سپریم کورٹ کی بجائے اب کی بار وفاقی شرعی عدالت میں کوئی درخواست ڈال دی جائے۔ ویسے بھی اب کی بار پارلیمنٹ میں کچھ ایسے مجاہد بھی آ سکتے ہیں جو تمام سیاست دانوں اور خصوصاً وزیراعظم پر کڑی نظر رکھیں گے۔جو اختیارات اور انکے استعمال کی روایات اب قائم کی جا رہی ہیں اگر ان میں تبدیلی نہ آئی تو نئے وزیراعظم کا حال بھی کچھ مختلف نہ ہو گا۔
اس تمام تجزیے اور صورتحال کے باوجود کچھ بعید نہیں کہ الٹی ہو جائیں سب تدبیریں اور "دوائی” کام ہی نہ کرے۔ پنجاب کے عوام انتخابی عمل میں ننگی مداخلت کے خلاف ووٹ ڈالتے ہوئے قید میں بند شیر کے پنجرے کا دروازہ کھول دیں اور وہ باہر نکل کر پھر سے دھاڑنا شروع کر دے۔ یہ صورت حال خطرناک بھی ہو سکتی ہے ان کیلئے جو عوام کا مینڈیٹ چرانا چاہتے ہیں۔ پچیس جولائی ایک سنہری موقع ہے ملک کی ستر سالہ تاریخ بدلنے کا۔ وہ تاریخ جو انیس سو اٹھاسی میں بینظیر بھٹو مصلحت کا شکار ہو کر نہ بدل سکیں۔ آج تیس سال بعد اگر ہم نے خود کو پنجرے سے آزاد نہ کیا تو تیس سال پرانی فلم پھر سے دہرائی جائے گی اور کچھ نہیں بدلے گا۔
ایک اور خطرناک صورت حال تب بھی پیدا ہو سکتی ہے کہ جب کسی ایک سیاسی جماعت کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا تو۔ ایسے میں دھاندلی کا الزام کسی الیکشن کمیشن یا سیاسی جماعت پر نہیں ۔ یہ وہ صورتحال ہے جس سے بچنے کے لئے دھاندلی کرنے والوں کو سوچنا ہو گا۔ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر والی انجینئرنگ سیاست میں نہیں چلتی۔ جو کرنا ہے اپنے پوسٹل بیلٹ میں کر لیں اور بس۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے