قانونی سقم تلاشتے منصف

شاہد بھٹی

عام طور پر عدالتوں سے توقع یہ کی جاتی ہے کہ وہ حالات و واقعات کو مد نظر رکھتے ہوے قوانین میں موجود ابہام یا loopholes کو fill کرنے کے لیے قوانین کی تشریح اس انداز سے کریں کہ جس سے انصاف اور شفافیت کے تقاضے پورے ہو سکیں اور اس طرح قانون ایک مستقل عمل کے ذریعے living document کے طور پر مسلسل grow کرتا رہے۔

لیکن آج بدقسمتی سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قوانین میں ابہام اور loopholes ڈھونڈ ڈھونڈ کر انھیں exploit کیا جا رہا ہو۔ قانون ساز کبھی اٹھارویں ترمیم کرکے loopholes بند کرتے ہیں اور کبھی Elections Act جیسی قانون سازی کے ذریعے لیکن ڈھونڈنے والے ہیں کہ وہ پھر نئے loopholes ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ وائرس اور اینٹی وائرس کی طرز کا نہ ختم ہونے والا یہ چوہے بلی کا کھیل مسلسل جاری ہے۔

کبھی کسی کو عین اس وقت پارٹی صدارت سے نااہل کیا جاتا ہے اور اس کے دستخطوں سے جاری کردہ ٹکٹس کو منسوخ قرار دیا جاتا ہے جب سینٹ کے الیکشن سر پر ہوتے ہیں اور ان الیکشنز کے لیے نئی ٹکٹیں جاری کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ نہ صرف یہ بلکہ ایسا کرنے کے لیے خود عدالتوں کی جانب سے ماضی میں وضع کردہ defacto doctrine جیسے مسلمہ اصول کو بھی پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔

اور پھر کبھی کسی پارٹی کے امیدواروں کے ٹکٹس اس وقت پر واپس کروائے جاتے ہیں جب ان کی جگہ پر نئے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنے کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔

سزا سنانے کے لیے تو عدالتیں دن رات کام کرتی ہیں لیکن اپیل دائر کرنے کے لیے عدالتی وقت اور چھٹیاں آڑے جاتی ہیں۔ امیدواروں کی نااہلی تو سزا کے ساتھ ہی فی الفور عمل میں آ جاتی ہے لیکن سزا کی معطلی کی درخواست جیسے ارجنٹ معاملہ کی شنوائی کو بھی انتخابات کے بعد تک موخر کیا جانا عین قرین انصاف تصور ہوتا ہے۔

مہارت کا مظاہرہ ہوتا ہے تو سزا سنانے کی ٹائمنگ کی سلیکشن میں کہ ایسا وقت منتخب کیا جائے کہ انتخابات میں حصہ لینے کے تمام راستے بند ہو جائیں۔

کچھ امیدواروں کے خلاف دائر مقدمات کا فیصلہ تو انتخابات سے قبل سنایا جانا انصاف کے مفاد میں پایا جاتا ہے جبکہ دوسرے امیدواروں کے خلاف دائر مقدمات کا فیصلہ الیکشنز سے قبل نہ کیا جانا انصاف کے لیے ضروری قرار پاتا ہے۔

منصفانہ ٹرائل، due process، برابری اور adult franchise جیسے بنیادی حقوق کے خون کے دھبے ان کی آستینوں پرصاف دکھائی دے رہے ہیں جنہیں ان حقوق کا محافظ بنایا گیا تھا۔

اگر کہیں کوئی ابہام تھا بھی تو آج دور ہوگیا۔

 

(شاہد بھٹی پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں اور قانونی پیچیدگیاں عام فہم انداز میں سمجھانے کیلئے جانے جاتے ہیں ۔)

یہ تحریر ان کی فیس بک سے حاصل کر کے شائع کی گئی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے