جسٹس صدیقی کا تحقیقات کیلئے چیف جسٹس کو خط

جسٹس صدیقی کا چیف جسٹس کو خط

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے بیان کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا تاہم شرط عائد کی ہے کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا جائے ۔

جسٹس صدیقی نے خط میں کہا ہے کہ کمیشن ریٹائرڈ یا حاضر سروس جج پر مشتمل ہو، جن حقائق کی بات کی ان کی تصدیق کے لیے کمیشن تحقیقات کرے ۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ جن حقائق کی نشاندہی کی کچھ لوگوں کو وہ اچھے نہیں لگے، کمیشن کی تمام کاروائی وکلا، میڈیا اور سول سوسائٹی کے سامنے ہو، یہ بات قابل تشویش ہے کہ ہمارا ادارہ حساس ادارے کے بعض افراد کی مداخلت کے باعث کمپرومائز ہوا، میں نے متعدد بار اس بات کی نشاندہی کی جس پر میرے خلاف بت بنیاد ریفرنسز بنائے گئے ۔

خط میں کہا گیا ہے کہ 21 جولائی کو بار سے خطاب میں صرف حقائق بیان کیے، سپریم کورٹ کی پریس ریلیز سے معلوم ہوا کہ حقائق کی تصدیق کے بغیر آپ نے برہمی کا اظہار کیا، انہوں نے چیف جسٹس کو لکھا ہے کہ آپ کا مجھ پر اظہار برہمی کوئی نئی یا غیر معمولی بات نہیں، میرے بیان کردہ حقائق کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے ۔

جسٹس شوکت صدیقی نے لکھا ہے کہ اگر کمیشن یہ رائے دے کہ میری کہی گئی باتیں درست نہیں تو نتائج بھگتنے کو تیار ہوں ،اگر میری باتیں درست ہوئیں تو عدالتی سسٹم میں مداخلت کرنے والے حاضر سروس فوجی افسران کا کیا مقدر ہو گا؟ ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے