انتخابات! خدا سے دعا

منگل سے جمعہ تک میں کراچی میں ہوں گا۔ جس ٹی وی نیٹ ورک کے لئے ایک شو کرتا ہوں اس نے انتخابی نتائج بتانے کے لئے خصوصی نشریات کا اہتمام کر رکھا ہے۔ ہمہ وقت وہاں موجود رہنا پڑے گا۔ اس چوکس حاضری کی وجہ سے معمول کے مطابق صبح اُٹھ کر یہ کالم لکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ آپ سے ملاقات بشرطِ زندگی آئندہ پیر کی صبح ہی ممکن ہوپائے گی ۔ وقت مل گیا تو درمیان میں ایک آدھ کالم گھسیٹ ڈالوں گا۔
تھوڑی دیر کو اپنے دلوں میں موجود خواہشات کو بھول کر ٹھنڈے دل سے انتخابی عمل کا جائزہ لیں تو آپ بآسانی دریافت کرسکتے ہیں کہ 4 اپریل 2016 کی صبح پانامہ دستاویزات منکشف ہوجانے کے بعد سے نواز شریف اور ان کے نام سے منسوب جماعت مسلسل ان اداروں کے ساتھ تناﺅ کے عالم میں ہے جو کسی بھی ریاست میں دائمی شمار ہوتے ہیں۔ ریاست کے دائمی اداروں کی خاص Dynamics ہوتی ہیں ۔ اسے اُردو میں شاید ”حرکیات“ بھی کہا جاتا ہے۔ میری دانست میں اگرچہ یہ لفظ اس پیچیدگی اور گہرائی کو بیان نہیں کرتا جو ان اداروں سے مختص ہوتی ہیں ۔
عثمانی خلافت نے دائمی اداروں کی Dynamics کو یورپ میں Nation State کا تصور اجاگر ہونے سے کم از کم100 سال قبل دریافت کرلیا تھا ۔ دائمی اداروں کو ترکی زبان میں ”دریں دولت“ کہا گیا۔ انگریزی میں Deep State کہا جاتا ہے ۔ ٹرمپ کے امریکی صدر منتخب ہوجانے کے بعد کئی حوالوں سے یہ لفظ بارہا سننے میں آ رہا ہے ۔ ٹرمپ کے اپنی FBI سے جھگڑے-روسی صدر پیوٹن سے دوستی استوار کرنے کی خواہش اور شمالی کوریا سے ایٹمی معاملات طے کرنے کی جستجو اس لفظ کی یاد دلاتی ہے ۔
پاکستان کی جانب لوٹتے ہوئے میں ترک بھائیوں کی متعارف کروائی ”دریں دولت“ کے استعمال کو ترجیح دوںگا اور یہ ”دولت“ نواز شریف اور ان کے نام سے منسوب جماعت کے ساتھ Comfortable محسوس نہیں کر رہی ۔ دونوں کے مابین جو تناﺅ موجود ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟اس سوال کا جواب ڈھونڈنا مجھ ایسے سطحی ذہن والے رپورٹر کے لئے ممکن نہیں۔نہ ہی میں عقل کل اور اصول پسنددانشوروں کی طرح یہ طے کرنے کی سکت رکھتا ہوں کہ دونوں فریقین میں سے کون درست ہے یا غلط۔ توجہ فقط نظر آنے والے حقائق تک محدود رکھنا مناسب ہوگا اور نظر آنے والے تناﺅ کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیا جائے تو 25جولائی 2018کے انتخابات کے ذریعے نواز شریف کے نام سے منسوب جماعت کا کم از کم وفاق میں حکومت بنانا ناممکن محسوس ہورہا ہے۔
انتخابی میدان میں عمران خان صاحب اور ان کی جماعت کی متحرک موجودگی نواز شریف کے نام سے منسوب جماعت کو حکومت سازی سے روکنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ 22سال کی مسلسل محنت سے خان صاحب نے پنجاب اور KPKمیں ایک طاقت ور ووٹ بینک تشکیل دیا ہے۔ اس ووٹ بینک کی بدولت تحریک انصاف 25جولائی 2018کی رات قومی اسمبلی کی 272نشستوں میں سے جن پر براہِ راست انتخاب ہونا ہیں 80سے 100کے قریب نشستیں جیت سکتی ہے۔ نواز شریف کے نام سے منسوب جماعت بھی تقریباََ اتنی ہی نشستیں حاصل کرلے تو پارلیمان Hung ہوجائے گی۔
معلق پارلیمان میں حکومت سازی کا عمل بہت جان لیوا ہوجاتا ہے۔ خان صاحب کسی بھی صورت نواز شریف کے نام سے منسوب جماعت کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے کو تیار نہیں ہوں گے۔ ارادے ان کے پیپلز پارٹی کے بارے میں بھی ایسے ہی ہیں۔ اگرچہ راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے ان کے سیاسی گرو مطمئن ہیں کہ خان صاحب کو وزیر عظم بنوانے کے لئے وہ بلاول بھٹو زرداری کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ خان صاحب بھی ”وسیع تر قومی مفاد“ میں ایسے بندوبست کے لیے تیار ہوسکتے ہیں۔ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی حکومت سازی کیلئے متفق ہوگئے تو بلوچستان سے ممکنہ اراکین قومی اسمبلی بھی ان کے ساتھ مل جائیں گے۔ آزاد بنیادوں پر قومی اسمبلی میں آئے افراد بھی اس بندوبست کا حامی ہوجانے میں اپنے ضمیروغیرہ پر کوئی بوجھ محسوس نہیں کریں گے۔
وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد خان صاحب ہمارے نظام میں ”انقلابی“ تبدیلیاں لانے پر تلے بیٹھے ہیں۔ مخلوط حکومت مگر سمجھوتوں کا تقاضہ کرتی ہیں۔ خان صاحب فی الوقت سمجھوتوں کے لئے تیار نظر نہیں آرہے۔ ان کے خیبرپختونخواہ میں لگائے پرویز خٹک نے اگرچہ سمجھوتوں ہی کی بدولت KPKمیں بطور وزیر اعلیٰ 5سال مکمل کئے ہیں اور خان صاحب اس صوبے میں چلائی حکومت کے انداز اور ترجیحات کو ”مثالی“ ٹھہراتے ہوئے ملک بھر میں متعارف کروانا چاہ رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے بالآخر وہ یہ بات تسلیم کرلیں کہ اسلام آباد میں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد انہیں پرویز خٹک کی دکھائی راہ پر چلنا ہوگا۔
عمران خان صاحب راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر کی فراست کی بدولت مخلوط حکومت کے وزیر اعظم منتخب ہوگئے تو یقینا نواز شریف کے نام سے منسوب جماعت کی ٹکٹ پر قومی اسمبلی میں آئے افراد چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ خان صاحب کو سکون سے اپنے ایجنڈے کی تکمیل پر توجہ دینے کے لئے انہیں کسی نہ کسی صورت تیار کرنا ہوگا۔ گھی سیدھی اُنگلیوں سے نکل نہ پایا تو ”دیگر راستے“ اختیار کرنا ہوں گے۔
25جولائی 2018سے نئی قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس کے انعقاد کے درمیان آئینی اعتبار سے 3ہفتے کا وقفہ لازمی سمجھا جاتا ہے۔ میری ناقص رائے میں 26جولائی 2018کی صبح سے شروع ہونے والے یہ تین ہفتے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اہم ترین شمار ہوں گے۔ ”مائنس ون“ کا اصل اطلاق ان ہفتوں کے دوران ہوتا نظر آسکتا ہے۔ شہباز شریف صاحب رکاوٹ بنے تو نیب متحرک ہوجائے گا۔ احد چیمہ اور فواد حسن فواد کے ”اعترافی بیانات“ منظرِ عام پر آجائیں گے۔ شہباز صاحب کو ان بیانات کی وجہ سے ریمانڈ کے تحت تفتیش میں آسانی کے لئے جیل جانا پڑا تو قومی اسمبلی میں نواز شریف کے نام سے منسوب جماعت کی ٹکٹ پر آئے افراد کو کسی اور رہ نما سے رجوع کرنا ہوگا۔ میرے ذہن میں دو تین نام ہیں جو یہ رہ نمائی فراہم کرسکتے ہیں۔ فی الوقت ان کا ذکر ضروری نہیں۔
ربِ کریم سے فریاد فقط اتنی ہے کہ25جولائی 2018کا دن خیروعافیت سے گزرے۔ ہارے لوگ اپنی پسند کے امیدواروں کو ووٹ دینے بھاری تعداد میں گھروں سے نکلیں۔ ”دریں دولت“ سے ہاتھ باندھ کر التجا ہے کہ انتخاب کے دن پاکستان کے وسیع تر مفاد میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ انتخابی نتائج آگئے تو کھیل مزے دار ہوجائے گا۔ پورے تین ہفتے ہمیں یہ دریافت کرنے میں صرف کرنا پڑیں گے کہ بالآخر وزارتِ عظمیٰ کا حلف عمران خان صاحب ہی نے اُٹھانا ہے یا کوئی ”سنجرانی“ طلوع ہونے والا ہے۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین