نتائج مسترد، تحریک چلائیں گے

متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچیس جولائی کو ہوئے انتخابات عوامی مینڈیٹ نہیں ڈاکہ تھا، ہم ان نتائج کو مسترد کرتے ہیں اور انہیں سرے سے انتخابات تسلیم ہی نہیں کرتے، آراوز یرغمال تھے ، پورے ملک میں فارم 45پر دستخط کرکے نہیں دیئے گئے  ۔
انہوں نے کہا کہ باکس فوج کی تحویل میں تھے اب نئے نتائج بنا کر دیئے جارہے ہیں، کل اے پی سی میں شرکت کریں گے، جدوجہد کریں گے، شہبازشریف اور میں میزبان اے پی سی ہوں گے، سب جماعتیں شرکت کریں گی، ہم تحریک چلائیں گے ہم ایسے مسلط نتایج نہیں کریں گے، بہت کہانیاں ہیں ہمارے کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، دوہزار تیرہ میں دھاندلی کا الزام ایک پارٹی نے لگایا ۔ مولانا نے کہا کہ ہمارا جزوی مطالبہ نہیں پورے ملک کا الیکشن کالعدم قرار دیا جائے، عمران خان کی حلقے کھولنے کی پیشکش مسترد کرتے ہیں، ایک سویلین کی شکل میں مارشل لا مسلط کیا جارہا ہے جسے تسلیم نہیں کریں گے، پہلے بھی مارشل لا میں جیلیں دیکھ چکے، دوسری جماعتوں سے مل کر پی این اے طرز کی پرجدوجہدکریں گے ۔

متحدہ مجلس عمل کے مرکزی رہنماؤں کے اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمن نے سراج الحق، لیاقت بلوچ، علامہ عارف واحدی، سراج درانی اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ انتخابات ہوئے مگر یہ عوامی مینڈیٹ نہیں، عمران خان کی انتخابی حلقوں سے متعلق پیشکش کو پیشکش نہیں سمجھتا، جانتے ہیں وہ جس کا مہرہ بن رہا ہے، جن قوتوں نے اتنا بڑا جرم کیا ہے وہ ہمارے مخالف ہیں، ہم پاکستان پر جبر کی حکومت مسلط نہیں ہونے دیں گے، ملک پرسویلین کی صورت نے مارشل لاء مسلط کیا جارہا ہے، یہ صورتحال قبول نہیں کریں گے ۔

متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا، انتخابات میں تاریخ کا بدترین جھولوں پھیرا گیا، ایم آئی کے انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کرتے، الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہا، پریذائیڈنگ آفیسر اور دیگر عملہ مکمل طور پر بے بس تھا، پورے ملک میں فاوم 45 امیدواروں کے نمائندوں کو فراہم نہیں کیے گئے، بیلٹ باکس فوج کی تحویل میں رہے، نتائج بلاوجہ روک دیئے گئے، ووٹ کی حرمت کو برقرار رکھنے کے لئے جدوجہد کریں گے، کل انتخابی دھاندلی پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جارہی ہے، اے پی سی میں مشترکہ حکمت عملی تیار کی جائے گی، سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ عوامی مینڈیٹ کو عزت دینے کے لئے آگے بڑھیں، آصف علی زرداری نے کانفرنس میں شرکت کی حامی بھری ہے، اسفند یار ولی ایم کیو ایم اور پی ایس پی سمیت مختلف جماعتوں سے رابطہ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ مضامین