وہ جو ہار گئے یا ہرا دیئے گئے

عام انتخابات کے نتائج میں عوام کو طویل انتظار کرنا پڑا، اور اس دوران فارم 45 کا کھیل جاری رہا ۔ کہا جا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ناپسندیدہ سیاستدانوں کو چن چن کر ہرایا گیا تاہم دوسری جانب مقتدر قوتوں کے قریب سمجھے جانے والے بعض اہل سیاست بھی باہر کر دیئے گئے ہیں ۔ اس میں ووٹرز کا کتنا کردار تھا اور خلائی مخلوق کی جانب سے فارم 45 بھرنے کے الزامات میں کتنی حقیقت ہے یہ بحث آئندہ پانچ برس اور سیاسی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گی لیکن اس وقت بڑے بڑے نام اسمبلی سے باہر ہو گئے ہیں ۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے ہار گئے جن میں اسلام آباد اور مری کے حلقے شام ہیں ۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کے دونوں بیٹے بھی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ہار گئے ہیں ۔ جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اس بار مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کے بینر تلے انتخابات میں حاصل لیا لیکن ڈیرہ اسماعیل خان کے حلقہ این اے 38 اور 39 سے تحریک انصاف کے امیدواروں نے انہیں شکست دیدی ۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے ایم ایم اے کے بینر تلے این اے 7 سے الیکشن میں حصہ لیا جہاں سے وہ تحریک انصاف کے امیدوار سے ہار گئے ۔ خیبر پختونخوا میں چارسدہ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 24 سے عوامی نیشنل پارٹی کے اسفند یار ولی اور پشاور میں این اے 31 سے غلام بلور کو تحریک انصاف کے امیدواروں سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔

مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف کو سوات سے اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو ملاکنڈ سے شکست ہوئی۔ شہباز شریف کو ڈیرہ غازی خان اور کراچی سے بھی تحریک انصاف کے امیدواروں نے شکست سے دوچار کیا ۔ بلاول کو کراچی میں لیاری کے حلقے سے شکست ہوئی ہے ۔

انھیں این اے 63 سے بھی شکست کا سامنا ہے جہاں سے وہ سنہ 2013 کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیتے تھے بلکہ یہاں سے 1988 کے بعد پہلی بار ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔ چوہدری نثار کو اگرچہ قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے شکست ہوئی لیکن صوبائی اسمبلی کی ایک نشست پی پی 10 سے کامیاب ہو گئے اور پی پی 12 سے شکست ہوئی۔

چوہدری نثار علی کے بعد اگر بات کی جائے تو مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ہیں جنھیں اسلام آباد کے حلقہ این اے 53 میں شکست ہوئی تاہم اس حلقے کے بارے میں پہلے سے کہا جا رہا تھا کہ انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا سکتا ہے کیونکہ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان تھے ۔

تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی این اے 156 سے کامیاب ہو گئے لیکن انھیں سندھ میں عمر کوٹ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 220 اور تھرپارکر کے حلقہ 221 سے پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے شکست دی ۔ فیصل آباد سے طلال چوہدی اور عابد شیر علی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔

لاہور میں مسلم لیگ نون کے سینیئر رہنما خواجہ سعد رفیق کو عمران خان کے ہاتھوں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ صوبائی حلقہ پی پی 168 سے جیت گئے ۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سینیئر رہنما فاروق ستار کو این اے 245 سے تحریک انصاف کے عامر لیاقت نے تو این اے 247 سے تحریک انصاف کے عارف علوی نے شکست دی اور یوں پانچ بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے والے فاروق ستار اس بار پارلیمان کے رکن نہیں بن سکے ۔

دیگر ناکام ہونے والے بڑے ناموں میں اب تک کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر الزمان کائرہ، مسلم لیگ نون کے رہنما اویس لغاری، تحریک انصاف کی فردوس عاشق اعوان، جی ڈی اے کے امیدوار ذوالفقار مرزا اور آفتاب شیر پاؤ کو قومی اسمبلی کے حلقوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ پاک سرزمین بنانے والے مصطفی کمال کو غیر سرکاری نتائج کے مطابق کراچی کے حلقے 253 سے ایم کیو ایم کے ہاتھوں شکست کا سامنا ہے ۔

بلوچستان سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی کو حلقہ این 263 سے ایم ایم اے کے امیدوار سے شکست کا سامنا ہے ۔ تاہم سیاسی اور صحافتی حلقوں میں جس شکست کا سب سے زیادہ ذکر ہے وہ جیپ والے چودھری نثار ہیں ۔

 

متعلقہ مضامین