پشتون تحفظ موومنٹ کی جیت کیسے؟

قومی اسمبلی کی قبائلی علاقوں سے کل بارہ نشستیں ہیں جن میں سے چھ پر تحریک انصاف، تین پر متحدہ مجلس عمل، ایک پر پیپلز پارٹی کے امیدوار نے حاصل کی ہے ۔ اسی طرح دو نشستوں پر آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے  لیکن سب سے زیادہ توجہ کا مرکز یہی دو آزاد ہیں کیونکہ ماضی قریب میں یہ دونوں آزاد امیدوار یعنی محسن داوڑ اور علی وزیر پشتون تحفظ موومنٹ سے منسلک رہے ہیں ۔

محسن داوڑ اور علی وزیر کی جانب سے الیکشن میں حصہ لینے کے فیصلے کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ نے دونوں کو اپنی مجلس عاملہ سے خارج کر دیا تھا ۔ یاد رہے کہ پی ٹی ایم کے فوج کے خلاف سخت موقف اور نعرے بازی کی وجہ سے ان دونوں امیدواروں کی جیت پر اسلام آباد اور لاہور میں بیٹھے تجزیہ کار سوال اٹھا رہے ہیں لیکن مقامی افراد کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں کے زمینی حقائق مختلف ہیں اور یہاں کئی قبائل نے سخت مزاحمت کر کے پولنگ کے عمل اور نتائج کے دوران ہیر پھیر کو اسی طرح روکا جس طرح گزشتہ کئی برس سے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ملک کے بڑے شہروں میں مزاحمتی تحریک چلائی گئی ۔

متعلقہ مضامین