ہزاروں ووٹ کیوں مسترد کئے گئے

قومی اسمبلی کے 35 سے زائد حلقوں میں جیتنے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیداروں کے ووٹوں کا فرق مسترد شدہ ووٹوں سے کم ہے ۔ عمران خان کی بنوں اور لاہور سے جیتی گئی نشستوں پر مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد کامیابی کے مارجن سے زیادہ ہے ۔
الیکشن کمیشن نتائج کے مطابق خواجہ سعد رفیق اور اکرم خان درانی کے حلقوں میں مسترد شدہ ووٹ ، امیداروں کے ووٹوں کے فرق سے کہیں زیادہ ہیں ۔

فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک کے مطابق قومی اسمبلی کے 35 حلقوں میں مسترد شدہ ووٹ ، جیت کے مارجن سے زیادہ ہیں۔ ان میں 24 حلقے پنجاب ، 6 خیبر پختوانخوا ، 4 سندھ کے اور 1 بلوچستان کا حلقہ ہے ۔ جن مزید حلقوں میں مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد زیادہ ہے اس میں وہ حلقے شامل ہیں جہاں سے خواجہ آصف ، علی محمد، فیصل واڈا کامیاب ہوئے ہیں ۔ جن حلقوں سے سائرہ افضل تاررڑ ، شاجہان یوسف ، شہباز شریف کو شکست ہوئی ہے وہاں مسترد ووٹوں کی تعداد جیت کے مارجن سے زیادہ ہے ۔
فافن کی الیکشن 2018 کی جاری ابتدائی رپورٹ کے مطابق الیکشن 2018 میں چار کروڑ 94 لاکھ 50 ہزار ووٹرز نےاپنا حق رائے دہی استعمال کیا, مجموعی ووٹر ٹرن آوٹ 50.3 فیصد رہا۔ پنجاب میں ووٹر ٹرن آوٹ 59 فیصد ، اسلام آباد میں 58.2 فیصد، سندھ میں 47.7 فیصد ، خیبر پختوانخوا میں 43.6 فیصد اور بلوچستان میں ووٹر ٹرن آوٹ 39.6 فیصد رہا ۔مرد ووٹر وں کا ٹرن آوٹ 58.3 فیصد ، خواتین کا 47 فیصد رہا۔ این اے 10 شانگلہ اور این اے 48 شمالی وزیر ستان میں خواتین کا ووٹر ٹرن آوٹ 10 فیصد سے کم رہا۔۔
رپورٹ کے مطابق پولنگ اسٹیشن کے باہر طویل قطاریں ثابت کرتی ہیں کہ لوگوں کا الیکشن عمل پر اعتماد بڑھ رہا ہے ۔ فوج اور پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کی وجہ سے ووٹروں کی بڑی تعداد نے ووٹ ڈالا۔ الیکشن لڑنے والے زیادہ تر امیداروں نے الیکشن عمل پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
، فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک کے سرور باری کے مطاب الیکشن2018کے دن انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر اور گنتی کے عمل میں غیر شفافیت کی شکایات کے علاوہ الیکشن کا دن پرامن اور بڑے تنازعے سے پاک رہا۔
فافن رپورٹ کے مطابق فافن مبصرین نے 1ہزار 335 پولنگ اسٹیشنز پر سیکورٹی اہلکاروں کو پریزایئڈنگ افسر کو اطلاع دیے بغیر پولنگ ایجنٹس کو بے ضابطگی سے روکا۔ کسی سیاسی جماعت یا امیدوار نے سیکورٹی فورسز کے طریقہ کار پر سوالات نہیں اٹھائے۔ البتہ ووٹوں کی گنتی اور نتائج کی تیاری کے دوران ان کے کردار پر اعتراضات اٹھائے گئے۔بعض سیاسی جماعتوں نے کہا کہ ان کے پولنگ ایجنٹس کو ووٹوں کی گنتی کے وقت بیٹھنے نہیں دیا گیا۔
فافن کو رپورٹ کے اجراء کے وقت صحافیوں کی جانب سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا . صحافیوں کے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشن سے نکالنے سے متعلق سوالات ، انتخابی نتائج میں تاخیر سے متعلق سوالات کے فافن جوابات نہ دے پائی ۔
دوسری جانب اے این پی کے ترجمان زاہد خان نے کہا کہ ہم فافن کی الیکشن رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں ۔ فافن والے اپنا قبلہ درست کریں اور حقائق درج کریں کہ الیکشن میں کس قدر دھاندلی ہوئی ۔ ووٹنگ کے دوران انتظامیہ اور فوجی اہلکار ووٹرز کو بلے پر مہر لگانے کا کہتے رہے ۔ ووٹوں کی گنتی کے وقت آرمی کے جوانوں نے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشن سے باہر نکال دیا ۔ الیکشن کے دن ریٹرننگ افسران بے بس دکھائی دیے ۔ الیکشن کے دن اختیارات آر او کے پاس نہیں کسی اور کے پاس تھے

متعلقہ مضامین