کس کے ووٹوں میں کتنا اضافہ ہوا

نوشین یوسف

الیکشن 2013 کے مقابلے میں حالیہ انتخابات میں 91 لاکھ اضافی ووٹ کاسٹ کئے گئے، پاکستان تحریک انصاف 1 کروڑ 68 لاکھ ووٹ حاصل کرکے 2018 میں سب سے بڑی جماعت بن گئی۔ پاکستان مسلم لیگ ن 20 لاکھ ووٹوں کی کمی کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے تیسری پوزیشن برقرار رکھی۔
الیکشن کمیشن کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے 1 کروڑ 68 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے اور قومی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ، 2013 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی دوسرے نمبر پر تھی، اور اسے 76 لاکھ سے زائد ووٹ ملے تھے۔
یوں پی ٹی آئی کے ووٹوں میں 91 لاکھ 77 ہزار سے زائداضافہ ہوا ہے۔
2013 میں مسلم لیگ ن 1 کروڑ 48 لاکھ سے زائد ووٹ لے کر پہلے نمبر پر تھی ۔ اس بار 20 لاکھ ووٹ کم ہو گئے ، 1 کروڑ 28 لاکھ ووٹ ملے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا ووٹ بنک تقریباً برقرار ر ہا ۔2013 میں اسے 69 لاکھ ووٹ ملے تھے، اس بار 68 لاکھ سے زائد ووٹ لیے اور تیسری پوزیشن برقرار رکھی۔ 2013 کی طرح 2018 میں بھی آزاد امیداور چوتھے نمبر پر رہے۔2013 میں آزاد امیدواروں نے 58 لاکھ ووٹ لیے تھے جبکہ 2018 میں 60 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کر لیے ۔ 2018 میں سامنے آنے والی نئی جماعت تحریک لبیک پاکستان 21 لاکھ ووٹ حاصل کرکے مجموعی طور پر چھٹے نمبر پر رہی۔
پنجاب اسمبلی میں 2013 میں 49 لاکھ ووٹ حاصل کرنے والی پی ٹی آئی 2018 میں 1 کروڑ 11 لاکھ ووٹ لے کر پنجاب میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی جماعت بن گئی۔پنجاب اسمبلی میں 2013 میں 1 کروڑ 13 لاکھ ووٹ لینے والی مسلم لیگ ن 2018 میں 1 کروڑسے زائد ووٹ حاصل کر کے پہلے سے دوسرے نمبر پر آ گئی۔
سندھ اسمبلی میں 32 لاکھ ووٹ لینے والی پیپلز پارٹی کا 2018 میں ووٹ بنک بڑھ گیا ۔ اس بار 38 لاکھ ووٹ ملے ۔سندھ اسمبلی میں 2013 میں25 لاکھ ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہنے والی ایم کیو ایم اس بار 7 لاکھ 77 ہزار ووٹ لے سکی ۔
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس 14 لاکھ ووٹ حاصل کرکے سندھ میں دوسرے نمبر پر رہا۔2013 میں 6 لاکھ ووٹ لینے والی پی ٹی آئی نے 2018 میں سندھ میں 14 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کر لیے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں 2013 میں 10 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کرکے ٹاپ کرنے والی پاکستان تحریک انصاف 2018 میں بھی 21 لاکھ ووٹ حاصل کرکے سب سے بڑی جماعت بن گئی ۔11 لاکھ سے زائد ووٹ لے کر متحدہ مجلس عمل دوسرے نمبر پر رہی۔
بلوچستان اسمبلی میں نئی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی 4 لاکھ 39 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرکے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ 2013 میں سب سے زیادہ 1لاکھ 67 ہزار ووٹ حاصل کرنے والی پی کے میپ 2018 میں 1 لاکھ ووٹ لےکر چھٹے نمبر پر رہی ۔ اس بار متحدہ مجلس عمل نے 2 لاکھ 61 ہزار ووٹ حاصل کیے۔ 2013 میں 24 ہزار ووٹ حاصل کرنے والی پاکستان تحریک انصاف نے 2018 میں بلوچستان سے 1 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے ہیں 2013 میں 1 لاکھ34 ہزار ووٹ حاصل کرنے والی مسلم لیگ ن اس بار 28 ہزار ووٹ ہی لے سکی ۔

متعلقہ مضامین