اٹھاسی سے اٹھارہ تک

ازخودی/ مطیع اللہ جان

تیس سال کے اس سفر میں پاکستانی ووٹروں نے اپنی عزت سمیت سب کچھ کھو دیا۔ حالیہ انتخابات سے پہلے "ووٹ کو عزت دو ” کا نعرہ لگانے والے اب بھی اقتدار کی ہڈی کے ایک سرے پر دانت جمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شہباز شریف کے پاس اب دو ہی راستے ہیں کہ وہ ووٹروں کی عزت بچا لیں یا پنجاب میں حکومت بنا کر اپنی عزت بنالیں۔ شاید ایک سیاستدان کے لئے اقتدار میں رہنا ہی عزت کمانے کا ذریعہ ہوتا ہے۔اسمبلیوں کا حلف اٹھانے یا نہ اٹھانے کے فیصلے سے پہلے نون لیگ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ حالیہ انتخابات میں جو کچھ ہوا ، اسکے بعد صرف ووٹر کی ہی نہیں بلکہ تمام اداروں کی عزت داو¿ پر لگی ہے۔اگر اس بار بھی ماضی کی طرح ووٹ کی عزت کا سودا کیا گیا تو پھر جمہوریت اور سیاست بھی عبرت کا نشان بن جائے گی۔
نواز شریف اور مریم نواز کا پتہ تو ہمیشہ کے لئے کٹ ہی جائے گا،افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے آئینی اور انکے ماتحت ادارے بھی اپنی عزت و احترام کھو دیں گے۔”داغ تو اچھے ہوتے ہیں” کی سوچ ابھی سے عیاں ہونا شروع ہو گئی ہے۔ بات انیس سو نوے میں خفیہ طور پر سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم سے شروع ہوئی اور آج سر عام پولنگ اسٹیشنوں میں ووٹوں کی گنتی میں دھاندلی اور پولنگ ایجنٹوں کو بزور باہر نکالنے تک آ پہنچی۔ یقیناً میجر عزیز بھٹی شہید، میجر شبیر شریف شہید اور کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے اپنے ملک پر جانیں اس وقت کے لئے قربان نہیں کی تھیں ۔ الیکشن قوانین کے مطابق پولنگ اسٹیشن پر پاک فوج کے جوانوں کو محض سکیورٹی کے فرائض سونپے جا سکتے تھے، چیف الیکشن کمشنر نے اپنے پریذائیڈنگ افسروں پر عدم اعتماد کرتے ہوئے فوجی اہلکاروں کو پولنگ اسٹیشنوں کے اندر بھی تعینات کر دیا۔ بیلٹ باکس کے اندر سے کون سا دہشتگرد نکلنا تھا کہ جس کے اوپر ایسی تقرری ضروری تھی؟ وہ کون سی ملک دشمن قوت تھی جس نے ووٹ کی صورت بیلٹ باکس سے برآمد ہونا تھا اور جس کو شکست دینا ہماری عسکری قیادت کا مذہبی فریضہ ٹھہرا؟ اس جذبہ جنون کی کچھ جھلک ان ویڈیو ز میں ملتی ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔پریذائیڈنگ افسر تمام عمل میں مجسٹریٹ کے اختیارات کے حامل ہوتے ہوئے بھی ایک ملزم کی مانند اپنی کرسی پر براجمان نظر آئے۔
مخصوص حلقوں میں ووٹوں کی گنتی کے عمل میں سکیورٹی اہلکاروں کی شمولیت اور پھر فارم 45 کا پولنگ ایجنٹوں کو بروقت اجراءنہ ہونے کا کیا مطلب لیا جائے اور اس کا ذمہ دار آخر اور کس کو ٹھہرایا جائے؟ ایک اور باریک کاروائی یہ ہوئی کہ پورے ملک میں حساس اور حساس ترین پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کر کے ان کو عملی طور پر سکیورٹی فورسزکے حوالے کر دیا گیا۔2013 کے انتخابات کے دوران جب دہشتگرد کاروائیاں عروج پر تھیں، اس وقت پورے ملک میں حساس اور حساس ترین پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 31 ہزار کے قریب تھی جبکہ 2018 میں حالات میں بہتری کے دعووں کے باوجود ایسے پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 38 ہزار تک کر دی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2013 میں پنجاب کے اندر حساس اور حساس ترین پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 13 ہزار تک تھی جبکہ 2018 میں یہ تعدادبڑھا کر 20 ہزار سے زائد کر دی گئی اور ان پولنگ اسٹیشنوں میں عملی طور پر سکیورٹی اہلکاروں کا مکمل کنٹرول رہا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حالات میں بہتری کے باوجود حالیہ انتخابات میں پنجاب کے وہ کون سے چھ ہزار مزید پولنگ اسٹیشن تھے جن کو حساس یا حساس ترین قرار دے کر وہاں اضافی فوجی نفری تعینات کی گئی اور ان پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کیا کیا رہے؟ کیا چیف الیکشن کمشنر بتا سکتے ہیں کہ کسی پولنگ اسٹیشن کو حساس یا حساس ترین قرار دینے سے پہلے کسی مصدقہ ذریعے سے اسکی حساسیت کی تصدیق کی گئی ؟
سیکورٹی اہلکاروں کی پولنگ اسٹیشنوں پر لگائی گئی ڈیوٹی نے ایک اور آئینی سوال کو بھی جنم دیا۔ کیا پولنگ اسٹیشنوں کے اندر ووٹروں کے ساتھ بحث مباحثہ کرنا، پولنگ ایجنٹوں کے ساتھ تلخ کلامی کرنا، ووٹوں کی گنتی میں شامل ہونا اور پولنگ ایجنٹوں کو ووٹوں کی گنتی کے وقت پولنگ اسٹیشنوں سے نکال باہر کرنا "سیاسی سرگرمی ” کے زمرے میں نہیں آتا؟ یہ وہ "سیاسی سرگرمی "ہے جس کو نہ کرنے کاحلف سکیورٹی اہلکار کمیشن حاصل کرتے وقت اٹھاتے ہیں۔ کاکول اکیڈمی کے مرکزی پریڈ گراو¿نڈ میں ہر چھ ماہ بعد آئین کے شیڈول تین میں درج حلف کے مطابق کاکول اکیڈمی کے باوردی کیڈٹ حضرات ہاتھ اٹھا کر قسم اٹھاتے ہیں کہ
"میں ۔۔۔صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں۔۔۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کی حمایت کروں گا جو عوام کی خواہشات کا مظہر ہے، اور یہ کہ میں اپنے آپ کو کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں مشغول نہیں کروں گا۔۔۔”
مذکورہ حلف کے مطابق ان کے لئے سیاسی سرگرمی کی واضح ممانعت ہے اور "عوام کی خواہشات کا مظہر ” دستور بنانے والی قومی اسمبلی کے انتخابات کے عمل کے دوران پولنگ اسٹیشنوں کے اندر ہونے والے حالیہ واقعات یقینی طور پر عوام کی خواہشات اور مینڈیٹ کو چوری کرنے کے برابر ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 1990 کے انتخابات کے بارے میں قرار دیا تھا کہ وہ انتخابات اور عوامی مینڈیٹ ایک سازش کے تحت چوری کئے گئے۔
ہم بطور قوم ایک بار پھر 1988 میں کھڑے ہیں جب بینظیر بھٹو کو ایک منقسم پارلیمنٹ کے ذریعے محدود اقتدار اور اختیار دیا گیا۔ اگر اس وقت بینظیر بھٹو اقتدار کو ٹھوکر مار کر بھرپور مینڈیٹ کے لئے دوبارہ عوام سے رجوع کرتیں تو آج تیس سال بعد عوام اور جمہوری نظام ایک بار پھر سیاسی مصلحتوں اور طاقتور اداروں کا یرغمال نہ بنا ہوتا۔اب نون لیگ پر منحصر ہے کہ وہ "ووٹ کی عزت ” کے عوض کوئی اچھی سی "عزت ” خرید تی ہے یا نہیں ۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین