جھوٹ کے پاؤں

اظہر سید

جدید ٹیکنالوجی نےجھوٹ کو پاوں سے محروم کر کے اسے پر دے دئیے ہیں ۔ پورے ملک میں اڑتا پھرتا ہے اپنی نحوست سے ہاتھوں میں موجود فون ، کمرے میں موجود ٹی وی سکریں اور روز شایع ہونے والے اخبار میں سچ بن کر اپنی مرضی کے ملک دشمن اور قوم پرست بناتا ہے۔ ہٹلر کے وزیر اطلاعات گوئبلز کا فلسفہ اس دور کے جھوٹ کے سامنے پانی بھرتا ہے وہ کہتا تھا” اتنا جھوٹ بولو سچ لگنے لگے "جدید دور کے گوئبلز کا فلسفہ ہے "اپنی بے ایمانی مخالف کے سر تھوپ دو، وہ اپنے دفاع میں مصروف ہو جائے گا تمہاری طرف توجہ ہٹ جائے گی”۔

ابھی کامیابی ہوئی ہے جھوٹ کا سفر شروع ہو گیا ہے کس کے پاس اتنی فرصت ہے کرنسی ڈیلر کو فون کرے اور ڈالر کی قیمت کم ہونے کی تصدیق کرے ،لیکن جھوٹ نے سفر شروع کر دیا پورے ملک میں خبر پھیل گئی ڈالر کی قیمت کم ہو کر 122 روپیہ ہو گئی ہے جو 128 روپیہ تھی ۔اس جھوٹ کے پاوں نہیں بلکہ پر ہیں جس نے اس سچ کو چھپا لیا ہے ڈالر کی قیمت الیکشن میں کامیابی کی خبر سے کم ہونے کی بجائے ایک روپیہ بڑھ کر 129 روپیہ ہو گئی ہے۔
کہا گیا حصص بازار کامیابی کی خبر کے ساتھ ہی بڑھ گیا ہے ۔ کون سچ بتائے گا حصص بازار کا 100 انڈکس پناما ڈرامہ کے وقت 56 ہزار تھا جو اب 40 ہزار ہے۔مودی کا یار نواز شریف اس لئے ملک دشمن کیونکہ بھارت دشمن ملک ہے کون سچ بتائے گا برطانیہ میں رئیل اسٹیٹ کا بڑا بھارتی اور کٹر ہندو سرمایہ کار انیل مسرت اعلی افسران اور کامیاب ہونے والوں کا بہت زیادہ قریبی ہے اور ہر دو کے ساتھ مختلف مواقعوں پر تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں ۔کہا گیا بھارتی میڈیا مودی کے یار کی حمایت کر رہا ہے ،کون سچ بتائے گا بھارتی میڈیا اب کامیاب ہونے والوں کی تعریف میں مصروف ہے ۔بھارت کے سابق سپائی چیف کے ساتھ پاکستان کا سابق سپائی چیف لندن سکول اف اکنامکس کے دوران کسی فرصت میں پانی پیتے ہوئے کیمرے میں قید ہو جائے ،ایک اور سابق سپائی چیف بھارت کے سابق سپائی چیف کے ساتھ مشترکہ کتاب لکھ مارے اور عجیب و غریب انکشافات کرے لیکن مودی کا یار وہی ہے جیسے شفاف انتخابات میں شکست ہو چکی ہے بے شک اللہ ہی عزت دینے والا ہے اور ملک دشمن قوتوں کو ووٹ کی طاقت سے شکست ہونا ہی تھی۔
مودی کی حکومت سی پیک کی سخت مخالف ہے اور مودی کا یار سی پیک کو جنگی بنیادوں پر مکمل کرا رہا تھا۔بھارتیوں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے امریکی بھی سی پیک کو متنازعہ علاقہ کا منصوبہ قرار دے چکے ہیں لیکن مودی کا یار چینی دوستوں کے ساتھ مل کر سی پیک پر مودی حکومت کے اعتراضات کو پاوں کی ٹھوکر سے مسترد کر چکا تھا۔عالمی مالیاتی ادارے چار سال سے چیخ و پکار کر رہے تھے پاکستانی روپیہ کی قدر زیادہ ہے کم کی جائے مودی کے یار کا سمدھی اڑا رہا قیمت کم نہیں کی کیونکہ خسارہ بڑھ جاتا ،قرضوں کا بوجھ بڑھ جاتا اور درامدات مہنگی ہو جاتیں اور پھر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا اور سی پیک منصوبوں پر بجٹ خسارے کے نام پر سمجھوتے کرنا پڑتے اس لئے مودی کے یار نے روپیہ کی قیمت کم نہیں کی لیکن مودی کے دشمنوں نے آنے سے پہلے ہی پاکستانی روپیہ کی قیمت 100 روپیہ سے بڑھا کر 128 روپیہ کر دی اور اب قوم کو خوشخبری سنا دی ہے ” آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا "اور یہ کہ ہمیں دس ارب ڈالر کی اشد ضرورت ہے ۔
آئی ایم ایف پروگرام کی بہت ساری شرائط ہونگی اور ہمیں خوف ہے ان شرائط میں سی پیک کے منصوبے بھی آجائیں گے بجٹ خسارہ جو کم کرنا ہے ۔
سی پیک کے متعلق متعدد امریکی تھنک ٹینک رپورٹس جاری کر چکے ہیں گوادر میں چینی نیول بیس بنائیں گے ۔اس منصوبے کے متعلق جھوٹ کے پروں سے ملک بھر میں رائے عامہ ہموار کرنے کا کام بہت پہلے سے شروع ہے ۔مثلا ” سی پیک دوسری ایسٹ انڈیا کمپنی ہو گا "چینی پاکستان پر قبضہ کر لیں گے” بہت مہنگے قرضے ہیں ” اس طرح کی رپورٹس میں اس قدر شدت آچکی یے امریکی میڈیا میں ایک تفصیلی رپورٹ کی اشاعت کے بعد رواں ہفتے چینی وزارت خارجہ کو باقائدہ وضاحت جاری کرنا پڑی ۔
جب تک جھوٹ کی اصلیت سامنے آتی ہے "کام ہو چکا ہوتا ہے ” اور نئے کام کا آغاز بھی ۔پاکستان کی درامدات زیادہ اور برامدات کم ہیں بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور بجٹ خسارے کیلئے نئے قرضے لینا ہوتے ہیں ،مودی کے دشمن بھی لیں گے مقامی قرضے بھی اور عالمی قرضے بھی اور ماضی کی نسبت زیادہ قرضے لیں گے لیکن اب مودی کے دشمن کسی اینکر کو کوئی اعداد وشمار فراہم نہیں کریں گے "ہائے ظلم ہو گیا ہائے لٹ گئے برباد ہو گئے اتنا زیادہ قرضہ لے لیا ” کیونکہ مودی کا یار اب فارغ کر دیا گیا ہے ۔
ظلم اور جبر سے قائم کردہ حکومت کو تسلیم کرنا بعض دفعہ ضروری ہو جاتا ہے اب بھی حب الوطنی کی زمہ داری سیاستدانوں پر ڈال دی گئی ہے ،مودی کے دشمنوں نے جو واردات ڈالی ہے اس کے خلاف احتجاج کیا گیا ،پارلیمنٹ میں حلف لینے سے انکار کیا گیا تو ملک افراتفری کا شکار ہو جائے گا اور کوئی دس سال کیلئے عزیز ہم وطنوں کی تقریر کے ساتھ ملک پر قابض ہو جائے گا ، ملکی معیشت پہلے ہی نادہندگی کے خطرات سے دوچار ہو چکی ہے ہمیں یقین ہے ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ میں حلف کا بائیکاٹ نہیں کریں گی اور نہ کوئی احتجاجی تحریک چلائیں گی ملک کو مارشل لا سے بھی بچائیں گی اور ملک دشمن قوتوں کے عزائم کو ناکام بنائیں گی۔ اظہر سید

متعلقہ مضامین