عمران کے انقلابی ساتھیوں کی آزمائش

عمران خان صاحب نے ابھی وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کا حلف بھی نہیں اٹھایا ہے مگر امریکہ پاکستان کو اپنے کھانے کے دانت دکھانا شروع ہوگیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے ایک ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے IMFکو خبردار کیا ہے کہ وہ پاکستان کے لئے کسی ایسے بیل آﺅٹ پیکیج کا بندوبست کرنے سے باز رہے جس کا اصل مقصد واشنگٹن کی نگاہ میں ہماری معاشی مشکلات کا مداوا نہیں بلکہ ”امریکی ڈالروں کو چین کی مدد کے لئے استعمال کرنا ہے۔ ”چین کی مدد“ والی بات سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس حقیقت کو ذہن میں رکھیں کہ ان دنوں پاکستان کو درپیش معاشی مشکلات کا اصل سبب ہماری برآمدات سے جمع شدہ رقوم اور درآمدات پر کئے خرچ کے درمیان بے تحاشہ تفاوت ہے ۔ برآمدات کے ذریعے کمائی اور درآمدات کے درمیان خرچ میں ناقابل برداشت فرق کے علاوہ غیر ملکی قرضوں کی اقساط یا شرح سود کی ادائیگی بھی ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کو تقریباًََ صفرکی سطح پر لانے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ زرمبادلہ پر بڑھتے دباﺅ کے خوف ہی کے سبب ا نتخابات سے قبل امریکی ڈالر کی قیمت 130روپے کی تاریخی حد تک پہنچ کر بھی نہ رُکی۔ افواہ پھیل گئی کہ شاید خان صاحب کے وزیراعظم منتخب ہونے تک یہ قیمت 137 سے 138 پاکستانی روپوں تک پہنچ سکتی ہے۔ انتخابی عمل مکمل ہوجانے کے بعد خوف کا ماحول ختم ہوگیا۔ ڈالر کی قیمت بہت تیزی سے گرنے لگی۔ کئی لوگ یہ دعویٰ بھی کرتے پائے گئے ہیں کہ وہ ڈالر لے کر بازار میں نکلیں تو کرنسی مرچنٹ 110پاکستانی روپے سے ایک پیسہ زیادہ دینے کو تیار نہیں ہورہے۔ مجھ ایسے سادہ لوح پاکستانیوں نے اسے عمران خان صاحب کی خوش بختی سمجھا۔ ان کی حکومت کے انتظار میں پھیلا Feel Good ماحول۔ عمران خان صاحب کے میڈیا میں موجود کئی خودساختہ ترجمانوں نے مگر یہ بات پھیلادی کہ انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد ہماری برادر ملک سعودی عرب کے سفیر نے بنی گالہ جاکر خان صاحب سے جو ملاقات کی اس کے دوران پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لئے سعودی امداد کا ذکر بھی ہوا۔ اس ضمن میں ترجمانوں نے ڈیڑھ ارب ڈالر کی وہ رقم بھی ہمیں یاد دلائی جو 2013 میں نواز حکومت قائم ہوتے ہی پاکستان کو سعودی عرب نے ”سلامی“ کی صورت پیش کی تھی۔ سعودی سفیر کی عمران خان صاحب سے ملاقات کے علاوہ اخبارات میں یہ خبریں بھی نمایاں طورپر شائع ہوئیں کہ چین نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کی خاطر 2 ارب ڈالر کی خطیر رقم مہیا کردی ہے۔ ان خبروں سے احساس ہوا کہ سعودی عرب اور چین عمران حکومت کو معاشی اعتبار سے پریشان ہونے نہیں دیں گے۔ اسے سہارا فراہم کیا جائے گا۔ خان صاحب کے متوقع وزیر خزانہ جناب اسد عمر صاحب نے مگر لگی لپٹی رکھے بغیر اعلان کردیا کہ پاکستان کو اپنی معیشت رواں رکھنے کے لئے IMF سے ہر صورت رجوع کرنا ہوگا۔ ان کے بیان سے بات چلی کہ IMF سے غالباََ 8 سے 10ارب ڈالر کے درمیان رقم کا تقاضہ ہوگا۔ IMF اگرچہ فقط رجوع کرنے ہی سے کسی ملک کی مدد
کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ چند شرائط عائد کرتا ہے۔ بسااوقات یہ شرائط معاشی میدان تک ہی محدود نہیں ہوتیں۔ کچھ ایسے اقدامات بھی اٹھانا ہوتے ہیں جو عالمی معیشت کو کنٹرول کرنے والے امریکہ جیسے ممالک کی Strategic ترجیحات کے حصول کو آسان بنائیں۔پاکستان کے بارے میں ان ممالک کی ترجیحات بیان کرنے کی شاید ضرورت نہیں۔ بس اتنا یاد رکھنا کافی ہے کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ ہے اور وہاں امریکہ اور اس کے حلیف 17 برسوں سے طالبان کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس جنگ کو صرف فوجی قوت کے بل بوتے پر جیتا نہیں جاسکتا۔ مذاکرات کے ذریعے طالبان کو ا قتدار میں حصہ دینا لازمی ہے۔ امریکہ طالبان سے مگر مذاکرات کے لئے راضی نہیں ہوتا۔ اس کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے تو چند ملاقاتیں ضرور کرلیتا ہے۔ حال ہی میں اس کی افغانستان کے حوالے سے لگائی مشیر ایلس ویلز نے دوحہ میں طالبان نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے بعد بھی معالات بہتری کی جانب تیزی سے بڑھتے نظرنہیں آرہے۔امریکہ جیسی سپرطاقتیں اپنی مشکلات کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے کی عادی ہوتی ہیں۔ پاکستان افغانستان کا ہمسایہ ہوتے ہوئے اس ضمن میں امریکی الزامات کی مسلسل زد میں رہا ہے۔ Do Moreکی گردان 2008 سے جاری ہے۔ ہماری طرف سے Do More ہوتا نظر نہ آئے تو پاکستان کی سرزمین پر ڈرون حملے بڑھادئیے جاتے ہیں۔ یہ حملے بھی افغانستان میں امریکہ کو درپیش مشکلات کو دور کرنے میں ٹھوس مدد نہیں کرپائے ہیں۔ پاکستان کو لہذا معاشی اعتبار سے گھیرنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ہمارے زرمبادلہ کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر امریکہ کو اب مناسب Space فراہم کرتے نظر آرہے ہیں۔بین الاقوامی منڈی میں بہت ہی قابل اعتبار جانا فنانشل ٹائمز یہ دعویٰ کررہا ہے کہ پاکستان نے IMF سے 14 ارب ڈالر کی درخواست کی ہے۔ IMF کے ترجمان نے واضح الفاظ میں اس خبر کی تردید کی ہے۔ اس تردید کے باوجود امریکی وزیرخارجہ تلملااُٹھا ہے۔امریکہ پاکستانیوںپر ثابت کرنا چاہ رہا ہے کہ ان کی معیشت پر اصل بوجھ چین کے ساتھ چلائے CPEC کی وجہ سے ناقابلِ برداشت ہورہا ہے۔بنیادی طورپر ہمارے مسائل خالصتاََ ان درآمدات کی وجہ سے بڑھے ہیں جو CPECکے تحت بنائے منصوبوں کو چالو کرنے کے لئے بھاری مشینری کی صورت پاکستان میں لائی اور لگائی گئی ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل کے لئے چینی بینکوں سے قرضے بھی لئے گئے ہیں۔ ان قرضوں کی اقساط ادا کرنا ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کی قیمت ہے جو غیر ملکی کرنسی میں چین کی مدد سے بنائے بجلی تیار کرنے والے کارخانوں سے خرید کر نیشنل گرڈ میں ڈالی جاتی ہے۔امریکہ نے بظاہر کھل کریہ بتادیا ہے کہ پاکستان کو IMF سے کوئی Bailoutپیکیج لینے سے قبل ان تمام معاہدوں کی تفصیلات خلقِ خدا کے لئے کھولنا ہوں گی جو CPECکے تحت چلائے منصوبوں کے تحت ہوئے۔ یہ تفصیلات عیاں ہوئیں تو امریکہ یہ ثابت کرنے کو ایڑی چوٹی کا زور لگادے گاکہ وہ معاشی اعتبارسے Viableہی نہیں تھیں۔ CPECکے بقیہ منصوبوں پر لہذا کام روک دینا پڑے گا اور پاکستان دوبارہ IMFکے رحم وکرم پر ہوگا۔”سب کچھ لٹاکے ….“IMFکے محتاج ہونے کی بنا پر عام پاکستانیوں کے دلوں میں چین سے شکایات بھی جمع ہونا شروع ہوجائیں گی۔ معاشی حوالوں سے بے بس ہوئی حکومت اس ماحول میں چند ایسی شرائط ماننے کو بھی مجبور ہوسکتی ہے جو وسیع تر Strategic حوالوں سے ہمارے لئے ناقابل قبول گردانی جاتی رہی ہیں۔خان صاحب کی حکومت کے ساتھ سرمنڈاتے ہی…. والی صورت حال پیدا ہوچکی ہے۔ نہایت خلوص سے ہمیں دُعا مانگنا ہوگی کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے انقلابی ساتھی اس صورت حال سے نکلنے کی راہ تلاش کر پائیں۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے