شوگر ملز اور ویج ایوارڈ کیس

سپریم کورٹ نے جنوبی پنجاب سے شریف خاندان کی شوگر ملز منتقلی اور ویج بورڈ ایوارڈ کے چیئرمین تقرر کے خلاف درخواست کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے دونوں مقدمات الگ الگ سنے ۔

عدالت نے شوگر ملز منتقلی کیس ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کر دی اور وکیل سے کہا کہ دلائل دیں اور موکل کو ساتھ لے کر آیا کریں ۔ حسیب وقاص شوگر مل کے وکیل نے کہا کہ کیس کی تیاری کے لیے عدالت وقت دے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان شوگر ملوں نے ایک سیزن مفت میں کرشنگ کر لی ہے، فیصلہ ہو تاکہ علاقے کے لوگوں کو شوگر ملز اور نرخ کے بارے میں علم ہو ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ ایک آپشن یہ ہو سکتا ہے کہ شوگر ملز کو واپس اصل جگہ منتقل کر لیں وکیل نے کہا کہ مجھے اپنے موکل سے ہدایات لینے دیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ موکل کو ساتھ لے کر آنا تھا، کیا آپ کے موکل کو عدالت سے شرم آتی ہے، غریب لوگ عدالت میں اپنے وکیل کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ آپشن نہیں لینا اور کیس لڑنا ہے تو پھر یہ والی رعایت بھی نہیں ملے گی۔ بعد ازاں وکیل کو تیاری اور موکل سے ہدایات لینے کیلئے مہلت دیدی گئی ۔
سپریم کورٹ نے چیئرمین ویج بورڈ ایوارڈ شاہد کھوکھر کے تقرر کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جج کی اہلیت پر پورا نہ اتنے والا اس عہدے کیلئے موزوں نہیں ۔

تین رکنی عدالتی بنچ کے سامنے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنالسٹس کے اپنے دھڑے کے صدر پرویز شوکت نے کہا کہ قانون کے مطابق جج کی اہلیت نہ رکھنے والے چیئرمین ویج بورڈ تعینات نہیں کیا جاسکتا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے ویج بورڈ کے چیئرمین سے  استفسار کیا کہ کیا نوٹیفکیشن کے وقت آپ کی عمر 45 سال تھی؟ ۔ چیئرمین شاہد کھوکھر نے جواب دیا کہ 13 دسمبر 1973 میری تاریخ پیدائش ہے، اس وقت 45 سال سے چند ماہ کم تھے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پھر تو آپ عہدے کے اہل نہیں رہے ۔ عدالت نے ہدایت کی کہ حکومت 6 ہفتوں میں نیا چیئرمین ویج بورڈ تعینات کرے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے