یاسمین راشد کیلئے میرا گمان

جمعرات کی صبح اُٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ ا س وقت تک یہ فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین ”تخت لہور“ پر کسے بٹھائیں گے۔ ابتداََفواد چودھری اور علیم خان کے نام چلے تھے۔ فواد کو تحریک انصاف ہی کی صفوں سے ”بلیک بال“ کردیا گیا۔ علیم خان صاحب کو لاہور کے بیشتر صحافی بہت پسند کرتے ہیں۔ میڈیا میں ان کی حمایت لہذا کافی طاقت ور رہی۔ نیب نے مگر ایک اور نوٹس بھیج کر ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ پھر نام چلا چکوال کے راجہ یاسر کا مگر ان کے بارے میں بھی ایک سکینڈل اچھال دیا گیا۔ آخری خبریں آنے تک سبطین خان کا نام فیورٹ شمار کیا جارہا تھا۔ مجھے ان صاحب کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ یہی عالم میاں اسلم اقبال کے بارے میں تھا۔لاہور میں دوچار دوستوں سے فون کے ذریعے رابطہ ہوا تو سمجھ آگئی کہ ”پوراپنڈ“ والا واقعہ بھی ہوجائے تو میاں صاحب کا کام نہیں بنے گا۔
ساری عمر رپورٹنگ کی نذر کردینے کے باوجود میں نے ہمیشہ کسی شخص کو وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ ”بنانے“ سے اجتناب برتا ہے۔ 2008کے انتخابات کے بعد یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی اور چودھری احمد مختار کے درمیان وزارت عظمیٰ کے حصول کے لئے سخت مقابلہ جاری تھا۔ ان دنوں آصف علی زرداری سے میری کئی ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں۔ کئی گھنٹے ہم تنہا بھی بیٹھے رہے۔ ایک بار بھی لیکن ان سے یہ سوال پوچھنا ضروری نہ سمجھا کہ وہ کسے وزیر اعظم نامزد کرنا چاہ رہے ہیں۔
ایک شام بلاول ہاﺅس اسلام آباد میں آصف صاحب نے طویل پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس خطاب کے بعد جب کھانا کھلا تو یوسف رضا گیلانی میرے پاس آئے اور بہت گرم جوشی سے گلے لگایا۔ میری ان کے ساتھ زیادہ واقفیت نہیں تھی مگر جبلی طورپر اندازہ لگالیا کہ آصف زرداری کا انتخاب وہی ہوں گے۔ اس بات کا امکان نہ ہوتا تو وہ مجھے اتنی گرم جوشی سے نہ ملتے۔ ان کی گرم جوشی کا اصل سبب آصف صاحب سے میری قربت تھی۔ بعدازاں صحافیوں کی ایک محفل میں وزیر اعظم کی ”تلاش“ شروع ہوئی تو میں نے یوسف رضا گیلانی کا نام ”فائنل“ کردیا۔ کئی دوستوں کو اعتبار نہیں آیا۔ اگرچہ چند کو شک ہوا کہ مجھے آصف صاحب نے یہ نام چلانے پر مامور کیا ہے۔
عمران خان صاحب کے ساتھ میرا فقط دُعا سلام والا رشتہ ہے۔ عملی رپورٹنگ سے ویسے بھی ریٹائر ہوچکا ہوں۔اتنی ہمت نہیں رہی کہ خاں صاحب کے دربار تک رسائی کی کوشش کروں۔ گھربیٹھے فقط اندازہ ہی لگاسکتا ہوں۔ اندازے صحافت میں لیکن قیاس آرائی شمار ہوتے ہیں۔جید صحافی اس سے پرہیز برتتے ہیں۔ میری عمر بڑھی ہے مگر صحافت میں مقام دو ٹکے کے رپورٹر والا ہی رہا۔ قیاس آرائی کرنے میں لہذا کوئی حرج نہیں۔
ٹھوس خبر کی تلاش کے حوالے سے اپنی کوتاہی کا اعتراف کرنے کے بعد میں یہ بیان کرنے کو مجبور ہوں کہ گزشتہ 24گھنٹوں سے میرے ذہن میں یہ بات اٹک گئی ہے کہ خاں صاحب ڈاکٹر یاسمین راشد کو پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز کرنا چاہ رہے ہیں۔
ڈاکٹر صاحبہ نے شریف خاندان کی سرکردہ شخصیات کے خلاف بہت محنت سے الیکشن لڑے ہیں۔ لاہور کی معروف سیاسی شخصیت ملک غلام نبی صاحب کی بہو ہیں۔ مرحوم پیپلز پارٹی کے منہ پھٹ رہ نما ہوا کرتے تھے۔ پنجاب میں تعلیم کے وزیر بھی رہے۔کرپشن کا کوئی دھبہ ان کی ذات پر کبھی نہیں لگا۔ کارکن دوست شمار ہوتے تھے اگرچہ کئی لوگ یہ شکوہ کرتے رہے کہ ناراض ہوکر ”لاہوری“ انداز میں جو منہ میں آئے کہہ ڈالتے ہیں۔
25جولائی کے انتخابی نتائج آگئے تو خان صاحب نے ڈاکٹر صاحبہ کو بنی گالہ بلایا اور ان سے اکیلے میں ملاقات کی۔ کئی لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ کپتان نے اپنی اس جی دار اور محنتی کھلاڑی کو لاہور میں مسلم لیگ کے امیدوار سے ہارجانے کے باوجود اسے ٹف ٹائم دینے پر شاباش دینے کو بلایا تھا۔ میڈیا میں لیکن افواہ پھیل گئی کہ خان صاحب انہیں پنجاب کا وزیر اعلیٰ نامزد کررہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اس تاثر کی تردید کی۔ اپنے وضاحتی بیان میں انکشاف کیا کہ خان صاحب نے انہیں پنجاب اسمبلی میں خواتین کے لئے مختص نشست پر جانے کا حکم دیا ہے اور یہ کہ تحریک انصاف کے رہ نما صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ان کا Contributionچاہ رہے ہیں۔ میں نے ان کے بیان کو پرخلوص جان کر دل وجان سے تسلیم کیا۔
پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے ممکنہ امیدواروں کے نام یکے بعد دیگر جس مو¿ثر انداز میں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے اس کے بعد یہ سوچنے کو لیکن مجبور ہوگیا کہ شائد ڈاکٹر یاسمین راشد ہی خاں صاحب کا حتمی انتخاب ہوں گی۔
ڈاکٹر صاحبہ کی ممکنہ سلیکشن کی حمایت میں میرے ذہن میں مندرجہ ذیل نکات آئے ہیں۔ سب سے اہم بات ان کی تحریک انصاف کے ”نظریاتی کارکنوں“ میں بے پناہ مقبولیت ہے۔ کارکنوں میں مقبولیت سے اہم ترین بات ان کا خاتون ہونا بھی ہے۔ خان صاحب کے وہ دشمن جنہیں تحریک انصاف والے ”خونی لبرل“ کہتے ہیں بین لاقوامی میڈیا کو یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کے متوقع وزیر اعظم Women Friendlyنہیں۔ لاہور کی ایک جانی پہچانی پروفیشنل ڈاکٹر کو اٹک سے پنجاب تک پھیلے آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز کرتے ہوئے ”طالبان خان“ مغربی میڈیا کو حیران وپریشان کرسکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کے حقوق اور برابری کے لئے آواز بلند کرتی کئی آوازیں بھی جو عموماََ خان صاحب کو بے رحم تنقید کا نشانہ بنائے رکھتی ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد کے انتخاب پر بہت شاداں محسوس کریں گی۔ خان صاحب کی واہ واہ پر مجبور ہوجائیں گی۔
کپتان کے لئے مگر میڈیا کے لئے Feel Goodمواد فراہم کرنا ضروری نہیں ہے۔ پنجاب کا وزیر اعلیٰ بہت طاقتور ہوا کرتاہے۔ تخت لاہور پر ٹک جائے تو قومی سطح کا لیڈر بننے کی تیاری شروع کردیتا ہے۔ غلام مصطفےٰ کھر سے ذوالفقار علی بھٹو کو یہی خطرہ تھا۔ حالیہ تاریخ میں نواز شریف 1985میں پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سے اُٹھ کر ہی تین بار پاکستان کے وزیر اعظم ہوئے۔ ڈاکٹر صاحبہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سنبھالنے کے بعد بھی اپنا گروپ بناکرخان صاحب کا قومی سطح پر متبادل شمار ہونے کا تصور تک نہیں کریں گی۔ اپنی قیادت کی احسان مند ہونے کے علاوہ مستقل بنیادوں پر وفادار رہیں گی۔ لاہور کو بھی یہ پیغام مل جائے گا کہ خان صاحب نے اس شہر سے ایک محنتی مڈل کلاس کارکن کو وزارتِ اعلیٰ کے منصب تک پہنچادیا ہے۔
ڈاکٹر صاحبہ پنجاب کی وزیرا علیٰ ہوں تو کپتان اسلام آباد بیٹھے ہوئے بھی صوبائی افسروں سے براہ ِ راست رابطہ کے ذریعے اپنی پالیسیوں کا بسرعت اطلاق ممکن بناسکتے ہیں۔کوئی ”شاہ محمود قریشی“ اس حوالے سے دل نہیں جلائے گا کہ اس کے کام میں مداخلت کی جارہی ہے۔ پنجاب کے معاملات کو اسلام آباد سے ریموٹ کنٹرول کیا جارہا ہے۔ کافی مہینوں تک Feel Goodماحول برقرار رہے گا۔ اگرچہ مجھے خدشہ ہے کہ اس کے بعد ڈاکٹر صاحبہ کےساتھ بھی وہی ہوگا جو بھٹو صاحب کے دور میں مڈل کلاس کے ”لاہوری نمائندوں“ ملک معراج خالد اور حنیف رامے کے ساتھ 1970کی دہائی میں ہوا تھا۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین