خان نااہلی درخواست سماعت کیلئے مقرر

اسلام آباد ہائی کورٹ سے
اویس یوسف زئی

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی نااہلی کی درخواست سوموار کو سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق چیئرمین پی ٹی آئی کی نااہلی اور انہیں وزارت عظمی کا حلف اٹھانے سے روکنے کی متفرق درخواست کی سماعت کریں گے ۔
شہدا فاؤنڈیشن آف پاکستان کے حافظ احتشام کی جانب سے عمران خان کے خلاف دائر درخواست میں وفاق،اسپیکر قومی اسمبلی،الیکشن کمیشن،وزارت خارجہ،عمران خان اور ریحام خان کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو پٹیشن پر فیصلے تک وزارت عظمی کا حلف اٹھانے سےروکا جائے۔ درخواست گزار کے مطابق عمران خان 5 حلقوں سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے مگر وہ آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت اہل نہیں۔انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے اور صرف دو بیٹوں سمیت ایک اہلیہ کو زیر کفالت ظاہر کیا۔ عمران خان کے کاغذات نامزدگی میں ان کی مبینہ ناجائز بیٹی ٹیریان جیڈ وائٹ کا ذکر نہیں جو 1992 میں امریکی خاتون سیتا وائٹ کے بطن سے پیدا ہوئی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ امریکی عدالت کے سامنے عمران خان نے ٹیریان کا باپ ہونے سے انکار نہیں کیا۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ریحام خان نے اپنی کتاب میں عمران خان کے کئی خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات کا بھی انکشاف کیا۔ ریحام نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ٹیریان جیڈ وائٹ کے علاوہ بھی عمران خان کے پانچ ناجائز بچے ہیں۔ ریحام خان کی کتاب میں عمران خان پر امریکا اور یہودی لابی سے تعلقات اور ان سے ہدایات لینے سمیت عمران خان پر منشیات کے استعمال اور کثرت سے کوکین پینے کے الزامات بھی عائد کیے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت وفاقی حکومت کو لاس اینجلس کورٹ کا عمران خان کے خلاف ٹیریان کیس کا مصدقہ ریکارڈ حاصل کر کے پیش کرنے ، ریحام خان کو کتاب میں عائد الزامات کا ثبوت پیش کرنے اور منشیات کے استعمال کی تحقیقات کے لیے عمران خان کا میڈیکل ٹیسٹ کرانے کی خاطر میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کے احکامات جاری کرے ۔ پٹیشن کے ساتھ ایک متفرق درخواست بھی جمع کرائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان ممکنہ طور پر پاکستان کے اگلے وزیراعظم ہوں گے۔عمران خان پر سنگین نوعیت کے الزامات ہیں۔ایسے شخص کا وزیراعظم بننا ملک کی عزت،وقار اور سالمیت کے خلاف ہے۔متفرق درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت الیکشن کمیشن کو عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن مین پٹیشن پر عدالتی فیصلے سے مشروط کرنے کا حکم دے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے