چیف جسٹس کا زرداری کے وکیل سے مکالمہ

جعلی بنک اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ازخودنوٹس کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے آصف زردای اور فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے کہا ہے کہ یہ پاکستان ہے پاک ملک ہے، یہ چوری کے پیسے ہیں، یہ ناپاک پیسے ہیں، حرام کے پیسے ہیں اس کیلئے قانون دیکھ لیں گے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق انہوں نے کہا یہ رشوت کے پیسے بھی ہو سکتے ہیں، کھلی اور اونچی آواز میں کہہ رہا ہوں یہ چوری کا مال ہے، چوری کا مال ہضم نہیں کرنے دیں گے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جعلی بنک اکاؤنٹس رکھنے والوں کو عدالت میں اپنی حاضری یقینی بنانی پڑے گی، اگر کوئی بیمار ہے تو ایمبولینس میں آجائے، ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ بحریہ ٹاؤن نے 7 ہزار 2 سو ملین روپے اے ون کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے، چیف جسٹس نے پوچھا کہ زین ملک کہاں ہیں، انھیں کہیں وہ کل پیش ہوں، ایف آئی اے 12 ہزار 5 سو 60 ملین روپے کی رقوم منتقلی کا تجزیہ کررہا ہے ۔ جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ ری سائیکلنگ کے زریعے پیسے مختلف اکاؤنٹس سے ہوکر منتقل ہوتے رہے ۔

عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ نے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں مقدمے کی سماعت کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے بتایا کہ 29 مشکوک اکاونٹس ہیں ۔ ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ یہ بنک اکاونٹس سمٹ بنک، سندھ بنک اور یونائیٹڈ بنک میں کھولے گئے، مشکوک ٹرانزیکشنز جعلی اکاونٹس کے ذریعے ہوئے۔ ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ طارق سلطان کے نام سے پانچ بنک آکاونٹس تھے، ابراہم لنکرز، لکی انٹر نیشنل کے تین مشکوک اکاونٹس ہیں ۔ جسٹس اعجاز الحسن نے پوچھا کہ مشکوک بنک اکاونٹس سے رقم پھر کن بنک اکاونٹس میں منتقل ہوئی؟۔ ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ اومنی گروپ سے رقم زرداری گروپ کو بھی منتقل ہوئی، اومنی گروپ نے 2 ارب 82 لاکھ جعلی بنک اکاونٹس جمع کرائے ۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ اومنی گروپ کے اکاونٹس کو جعلی کیسے کہہ سکتے ہیں؟ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ اکاونٹ میں رقم جمع کرانے والے اصل لوگ ہیں، رقم جن اکاونٹ میں جمع ہوئی وہ اکاونٹس جعلی ہیں ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ جعلی اکاونٹس سے رقم کہاں گی، لسٹ دیں کہ 29 اکاونٹس کس کس کے نام پر ہیں، کچھ لوگ کہتے ہیں یہ اکاونٹس انہوں نے کھولے ہی نہیں، لگتا ہے کہ جعلی اکاونٹس کھول کر کالہ دھن جمع کرایا گیا، دیکھنا یہ ہے کہ کالے دھن کو سفید کرنے کا فائدہ اٹھانے والا/ بینفیشری کون ہے؟  پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس اعجازالاحسن نے پوچھا کہ جعلی اکاونٹس سے رقم واپس اپنے اکاونٹ میں لانے کا مقصد کیا ہے؟۔ ڈی جی ایف آئی اے نے جواب دیا کہ جعلی بنک اکاونٹس کا ابتدائی ریکارڈ نہیں مل رہا تھا، جعلی اکاو ٹس میں 35 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں ۔ جسٹس اعجاز الحسن نے پوچھا کہ 35 ارب کی رقم اکاونٹس سے کس کو منتقل ہوئیَ؟۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ اومنی گروپ کے مالک انور مجید کدھر ہیں؟ اومنی گروپ کے مالک ذاتی حیثیت میں پیش ہوں ۔ وکیل رضا کاظم نے بتایا کہ انور مجید بیمار ہیں وہ دبئی کے اسپتال میں داخل ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب بھی ایسا مقدمہ آتا ہے لوگ ہسپتال چلے جاتے ہیں، انور مجید سے کہیں آئندہ ہفتے پیش ہوں، عدالت انور مجید کو بلانے کا اختیار رکھتی ہے، اومنی گروپ کی کتنی کمپنیز ہیں، اومنی گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں کون ہیں، انور مجید کو آئندہ سماعت میں کمرہ عدالت میں ہونا چاہئے۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ اومنی گروپ نے 2 ارب 82 لاکھ روپے مختلف بنک اکاؤنٹس میں جمع کرائے ۔ ایڈووکیٹ رضا کاظم نے بتایا کہ 5 سال سے انور مجید کا اومنی گروپ سے کوئی تعلق نہیں ہے، اومنی گروپ کو 19 لوگ چلا رہے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کروکس (بدمعاش/چور) کو ہر کوئی اس کے نام سے جانتا ہے، انور مجید کو عدالت میں دیکھنا چاہتے ہیں، کب آئیں گے، ابھی معلوم کر کے بتایا جائے، اس کے بیٹے بھائی کون ہیں؟ ۔ ایک وکیل نے عدالت کو بتایا گیا کہ عبدالولی مجید بیٹا ہے او ملک سے باہر ہے، علی کمال، ذوالقرنین مجید، نمر مجید بھی بیٹے ہیں ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ جواب ملا کہ معاون وکیل ہوں ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کو وکالت نامے کس نے دیئے؟ کس کی طرف سے پیش ہو رہے ہیں؟ ۔ چیف جسٹس نے اسٹاف کو حکم دیا کہ ان کے وکالت نامے چیک کریں، رضا کاظم کا وکالت نامہ بھی دیکھیں ۔

خبر اپ ڈیٹ کی جا رہی ہے

متعلقہ مضامین