گواہوں کو کیسے ہراساں کیا گیا

جعلی بنک اکاؤنٹس سے اربوں روپے کی منتقلی کے کیس میں عدالت میں سمٹ بنک کی سابق خاتون ملازمہ پیش ہوئیں اور بتایا کہ مجھے بنک کی نوکری اختیار کئے پانچ ماہ ہوئے تھے جب میرے نام پر اکاؤنٹ کھولے گئے، ہمیں کوئی ٹریننگ نہیں دی گئی تھی۔ اکاؤنٹ کھولنے کے بعد لگتا تھا کہ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ دو دن قبل دن گیارہ بجے میرے گھر پولیس آئی اور رات بارہ بجے تک ہراساں کرتے رہے، میرا دو ماہ کا بچہ ہے ۔ چیف جسٹس نے زرداری کے وکیل فاروق نائیک سے کہا کہ یہ چوری کا مال ہے، چوری کا پیسہ ہضم نہیں کرنے دیں گے، یہ میں بہت اونچی آواز میں کہہ رہا ہوں ۔ فاروق نائیک نے کچھ بولنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ بھائی صاحب، اتنا پریشان کیوں ہو رہے ہیں ۔ وکیل نے کہا کہ میں پریشان نہیں ہوں ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کون ہے کہ انور مجید؟ ۔ فاروق نائیک نے کہا کہ میرا اس سے تعلق نہیں زرداری کا وکیل ہوں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے سب پتہ ہے، انور مجید سے آپ کے تعلقات بھی میرے سامنے ہیں ۔ وکیل نے جواب دیا کہ میرے بہت سے لوگوں سے تعلقات ہوں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان معصوم لوگوں کا قصور کیا ہے ان کو پولیس کیوں تنگ کر رہی ہے؟ ۔

وکیل فاروق نائیک نے کہا کہ اس میں میرے مؤکل کا کیا قصور ہے، پولیس کے تنگ کرنے سے ہمارا تعلق نہیں ۔ خاتون نے عدالت میں پھر دہائی دی تو چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے اطلاع ہے کہ وہ کون سی پولیس تھی، کس نے بھیجی تھی، سب پتہ ہے، اگر سندھ پولیس نے ایسا کیا ہے تو دیکھ لیا جائے گا ۔ وکیل نے کہا کہ سندھ پولیس نے ایسا کچھ نہیں کیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ متعلقہ اے ایس پی سے رابطہ کریں ۔ عدالت کو بتایا کہ متعلقہ ایڈیشنل آئی جی مشتاق احمد آ گئے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے جب اطلاع ملی تو اپنے رجسٹرار کے ذریعے آئی جی سے کہا کہ ان کو روکیں ۔ مشتاق احمد نے بتایا کہ جب رجسٹرار نے فون کیا تو معاملے کو علم ہوا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کل اس سارے تھانے کو بلا لیں ۔ مشتاق احمد، آپ لوگ تو بالکل بے بس ہو گئے ہیں، آپ کیلئے بڑے لوگوں کے خلاف کارروائی ممکن نہیں، میرے نوٹس میں دو دن پہلے آیا اور سندھ پولیس کے اعلی افسران کو علم ہی نہیں ۔ بتایا جائے اس خاتون کے خلاف کون سا مقدمہ ہے جو اس کے گھر گئے؟ ۔ ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ جس افسر کی بدنیتی ثابت ہوئی اس کو سزا دیں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کل صبح آپ کا پورا تھانہ یہاں حاضر ہونا چاہئیے ۔ آئی جی کو بھی حاضر ہونا چاہیئے، آپ حکومت کے ملازم ہیں یا ریاست کے؟ آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟۔ مشتاق احمد نے بتایا کہ شکار پور سے تعلق ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس لئے ۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ آپ کا شہریوں کے ساتھ یہ رویہ ہے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے خاتون کو ہراساں کرتے ہوئے بتایا تھا کہ آپ کی گرفتاری کا حکم ہے ہم تو آپ پر مہربانی کر رہے ہیں ۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ بغیر کسی مقدمے کے اس طرح لوگوں کے گھروں میں چلے جاتے ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو بلائیں، اس ایڈیشنل اور اس کے آئی جی دونوں کو ہٹائیں ۔ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کی وجہ سے میرے بنک ایچ بی ایل نے مجھ سے استعفا لے لیا، مجھے کہا گیا کہ آپ کی شہرت ایسی ہے کہ اس بنک میں مزید ملازمت نہیں کر سکتیں، ایک فون آیا اور کہا گیا کہ آرمی سے صوبیدار بات کر رہا ہوں اپنی انکم بتائیں ۔ میں نے کہا کہ مجھے سرکاری نمبر سے فون کریں جس کے بعد کال نہیں آئی ۔ میری اس عدالت سے درخواست ہے کہ مجھے اس کیس سے باہر نکالیں اور میری نوکری بحال کرائیں تاکہ میں نارمل زندگی کی طرف لوٹ سکوں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایچ بی ایل کا کوئی وکیل موجود ہے تو ان کی انتظامیہ سے بات کر لے ۔ ساری کی ساری پولیس کے خلاف انکوائری کرائیں گے ۔ پولیس اسٹیٹ بنا دی ہے ۔

عدالت میں ایک اور خاتون نے دہائی دی کہ ہم لوگ تو بہت غریب ہیں ہمارے پاس عدالت آنے کے پیسے نہیں ہیں، بس پر لاہور سے یہاں آئی ہوں، میرا ان اکاؤنٹس سے کوئی لینا دینا نہیں ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ ان کے نام پر کتنے پیسے اکاؤنٹ میں گئے؟ ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ ایک ارب سات کروڑ 50 لاکھ روپے تھے جو ابراہیم لنکرز کے نام پر اکاؤنٹ ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فاروق نائیک کہتے ہیں انکوائری نہ کرائیں،آپ کا اختیار نہیں، سپریم کورٹ ملک کو کھانے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرے، پاکستان کو لوٹ کر چلے جائیں ۔ فاروق نائیک نے اپنی نشست سے اٹھ کر بات کرنا چاہی تو چیف جسٹس نے کہا کہ جب میں بول رہا ہوں تو پلیز نہ بولیں ۔ کسی نے کمرہ عدالت سے باہر جاتے ہوئے یہ کہا کہ چیف جسٹس جہاں ہاتھ ڈال رہا ہے اسے پتہ نہیں ہے اس کے بعد اس کے ساتھ کیا ہونا ہے، یہ باتیں ہمیں بھی معلوم ہیں، میں کسی سے ڈرتا نہیں ہوں ۔ خاتون نے کہا کہ مجھے اس کیس سے ریلیز کر دیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئندہ جب بھی آپ کی ضرورت ہوئی آپ ریاست کے خرچے پر آئیں گی ۔

عدالت میں ایک نوجوان نے بتایا کہ لکی انٹرنیشنل کے نام سے میرا اکاؤنٹ کھولا گیا جس میں 8 ارب روپے منتقل ہوئے، میں تو اتنی رقم کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اللہ نے تمہیں دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ چھپر پھاڑ کے دیتا ہے ۔ مگر اس کے بعد وہ تم سے کوئی چوری کر کے لے گیا ۔ اس پر عدالت میں بیٹھے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔ اسی مسکراہٹ اور مذاق کے انداز میں چیف جسٹس نے کہا کہ وہ جے آئی ٹی بنا دیتے ہیں جو میاں نواز شریف کے کیس میں تھی، بیلنس کر دیتے ہیں، وہی لوگ ہوں گے، ان کیلئے تھے ان کیلئے بھی ہوں گے ۔ زین ملک کے وکیل کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا کہ کیوں خواجہ صاحب ٹھیک ہے؟

ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ عدالت دیکھ رہی ہے ہمارے گواہوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، ان کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان کے پاس عدالت آنے کا کرایہ نہیں ۔ یہ 35 ارب نہیں اس سے زیادہ کا معاملہ ہے مگر اس کی انکوائری کرانے کیلئے ایک کروڑ روپے چاہئیں ۔ یہ چاہتے ہیں اس عدالت کا سوموٹو ختم ہو جائے اور کیس بنکنگ کورٹ میں ہی چلے وہاں پندرہ بیس سال لگ جائیں گے، اس دوران گواہ خود ہی بھاگ جائیں گے ۔

 

اومنی گروپ قانون کے مطابق دفاع کیلئے وکلاء مقرر کرے، عدالت

عرفان قادر کا لائسنس ابھی تک معطل ہے، چیف جسٹس

عرفان قادر کی لائیسنس معطلی کے فیصلے کے درست یا غلط ہونے کی بات نہیں کررہے، چیف جسٹس

اومنی گروپ کو چلانے والے تمام افراد زاتی حیثیت سے پیش ہوں، عدالت

انور مجید، علی کمال مجید، زوالفقار مجید، نمر مجید آئندہ پیر کو زاتی حیثیت سے طلب
میں تکبر یا ڈھونس کے تحت جھاڑ نہیں رہا، چیف جسٹس

اومنی گروپ سے وابستہ افراد کو سپریم کورٹ حاضری کے دوران گرفتار نہ کیا جائے، اومنی گروپ کے وکیل کی استدعا

عدالت نے اومنی گروپ سے منسلک انور مجید خاندان کو گرفتار کرنے سے پولیس کو روک دیا

دیکھ لیں اگر ایف آئی آر درج نہیں ہے تو گرفتار نہ کیا جائے، چیف جسٹس

 

متعلقہ مضامین