یہ کیسے اتحاد ہیں

یہ کیسے اتحاد ہیں ،کسی کو کسی پر اعتبار نہیں
اپوزیشن اور حکومتی اتحاد کتنے پائیدار ہیں ، وزیر اعظم کے چناؤ کے ساتھ سب واضح ہو جائے گا

نوشین یوسف

الیکشن 2018 کے بعد حکومت بنانے اور اپوزیشن کیے قیام کے لیے کچھ غیر فطری لیکن متوقع اتحاد سامنے آ ر ہے ہیں۔
الیکشن کے بعد ن لیگ اپنی ہم خیال جماعتوں ، پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی ، نیشنل پارٹی ، جمعیت علماء اسلام ف ، اے این پی کے ساتھ الیکشن میں دھاندلی اور مینڈیٹ کی چوری کے حوالے سے اکھٹی ہوئیں ۔ اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم پر دیکھ کر پیپلز پارٹی بھی ساتھ ہو لی ۔۔ لیکن یہ اتحاد ایک دوسرے کے حوالے سے بے یقینی کا شکار دکھائی دیتا ہے ۔
مسلم لیگ ن کو لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی اس کی حمایت سے اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے انکا ووٹ تو لے لے گی ، لیکن وزیر اعظم کے عہدے کے انتخاب کے وقت ن لیگ کو پشیمانی کا سامنا کرنا پڑ جائے گا ۔ یہ بھی سوال کیا جاتا ہے کہ اپوزیشن کی پہلے اے پی سی میں شرکت سے معزرت کرنے والی پی پی پی اچانک اپوزیشن اتحاد کے لیے اتنی متحرک کیوں ہو گئی؟ گمان یہ بھی ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی کے اتحاد یا کم از کم اس کے معاون کا کردار نہ ادا کر دے ۔
پیپلز پارٹی کو بھی شہباز شریف کے رویے پر زیادہ بھروسہ نہیں ، کیونکہ ان کا ماضی میں پارٹی قیادت کے خلاف رویہ بہت جارحانہ رہا ۔
مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن اتحاد کو جارحانہ مشورہ دیے کہ حلف نہ اٹھائیں ، شدید احتجاج کریں ، شہر جام کریں ۔ لیکن مسلم لیگ ن کی سوچ یہ نظر آئی کہ مولانا فضل الرحمان خود تو پارلیمانی سیاست سے آوٹ ہو گئے ہیں ، باقیوں کو آوٹ کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں ۔
پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی سمجھتی ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں کو ڈرپوک جماعتیں اور کھل کر بات نہیں کر رہیں کہ ان کی جماعتوں کو کس نے الیکشن میں ہرایا ہے ۔ مسلم لیگ نے کی قیادت جیل میں بند ہے اور شہباز شریف چپ سادھے بیٹھے ہیں ۔
دوسری جانب پی ٹی آئی تنکا تنکا جمع کرکے حکمران اتحاد قائم کر رہی ہے ۔ اسے بلوچستان عوامی پارٹی اور شیخ رشید پر تو بھروسہ ہے ۔ لیکن ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کا ایک دوسرے پر اعتماد کچھ زیادہ خوش کن نہیں دکھائی دے رہا ، جبھی تو دونوں کے درمیان اتحاد کے معاہدہ کو تحریری شکل دی گئی ۔ ایم کیو ایم کے حوالے سے ایک کھٹکا ہے کہ کہیں وہ اسپیکر کے چناؤ میں چپکے سے پیپلز پارٹی کا ساتھ نہ دے دے۔ آزاد امیدوار ، کبھی کسی جماعت کے لیے بھی قابل بھروسہ نہیں ہوتے ۔ پی ٹی آئی کو حکومت سازی کے لئے ایک بڑی تعداد میں آزاد پنچھیوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے ۔ لیکن ان آزاد امیدواروں کو منت ترلہ کر کے ، ناز نخرے اٹھا کر پارٹی میں لایا جا رہا ہے ۔ سو یہ آزاد پنچھی ایک کھٹکا سا ہیں جو ہر وقت پی ٹی آئی کے دل کو لگا رہے گا ۔ پی ٹی آئی اپنی حکومت کو سہارا دینے یقین طور پر ایک بڑے اور مضبوط اتحاد کی تلاش میں ہے ۔ ایسے میں پیپلز پارٹی سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا ۔ پی ٹی آئی کے زرائع کا دعوی ہے کہ پیپلز پارٹی سے بیک ڈور رابطے کیے جا رہے ہیں ۔ اور پی ٹی آئی کو لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی میں چند ایک رہنماؤں کے علاوہ باقی سب پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کو ترجیح دیتے ہیں ۔ اس بات میں کتنی صداقت ہے یہ آنے والے کچھ ہفتوں نہیں شاید دنوں ہی میں عیاں ہو جائے گی۔ لیکن یہ وہ سب باتیں ہیں جو ذہنوں میں چل رہی ہیں۔
اپوزیشن اتحاد اور حکومتی اتحاد کتنے متحد ہیں اسپیکر اور وزیر اعظم کے الیکشن کے روز اس کی واضح جھلک نظر آ جائے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے