شاہین ائر لائن مسافروں کو ہرجانہ دے

سپریم کورٹ نے شاہین ایئر لائنز کی غفلت پر لئے گئے ازخود نوٹس میں چین میں پھسنے والوں مسافروں کو ہرجانہ ادا کرنے کیلئے کہا ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ مسافروں کو شدید ذہنی تکلیف ہوئی، مسافروں کے اخراجات بھی شاہین ائیر لائن کو ادا کرنے ہوں گے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی عدالتی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی ۔ شاہین ایئر لائنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عدالت میں پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم سول ایوی ایشن کو کہہ رہے ہیں کہ آپ کے خلاف کوئی کارروائی بنتی ہے تو بتائیں، اگر آپ کریمنل دائرہ کار میں آتے ہیں تو آپ کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا کہ کیا آپ مسافروں کے نقصانات کا ازالہ کریں گے؟ مسافروں کو ذہنی ازیت پہنچی ہے۔ عدالت کو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ شاہین ایئر لائن نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے واجبات ادا کرنے ہیں، جو نہیں کئے ۔ شاہین ایئر لائنز کے وکیل نے بتایا کہ سول ایوی ایشن واجبات کا معاملہ سنڈھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، سول ایوی ایشن نے طیارے گراونڈ کرنے کا کوئی خط نہیں دیا ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہائیکورٹ سے ہم نے فائل یہاں منگوا لی ہے۔  جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کو واجبات ادا کرنے کے لئے وارننگ دی تھی پھر بھی آپ نے پرواز اڑائی، آپ کے رویے کے باعث چین والا مسئلہ بنا ۔ ائر لائن کے چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی چارجز سے متعلق غیر منصفانہ رویہ اختیار کرتی ہے، ہم ایوی ایشن تھارٹی کو واجبات ادا کرنے کو تیار ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مسافروں کو تین دن ائر پورٹ پر رہنے کی تکلیف ہوئی، مسافروں کے اخراجات بھی شاہین ائیر لائن کو ادا کرنے ہوں گے، بتایا جائے مسافروں کو کتنی امدادی رقم دیں گے ۔ شاہین ائیر لائن کے سی ای او نے کہا کہ پچاس لاکھ روپے ادا کر سکتے ہیں یا عدالت مناسب رقم تجویز کر دے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہر مسافر کو  ایک لاکھ روپے ادا کئے جائیں ۔ ائیر لائن کے سی ای او نے کہا کہ فنانس ڈپارٹمنٹ سے پوچھ کر بتا سکتا ہوں، اصل مسئلہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کا ہے، آپ سے التجا ہے کہ ایوی ایشن انڈسٹری کا کچھ کریں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایوی ایشن کے معاملات دیکھ رہے ہیں، آئندہ سماعت تک اگاہ کریں کتنی رقم ادا کریں گے، کئی مسافروں نے ادھار لیے اور بعض کے اخراجات سفارتخانے نے بھی کئے، سول ایوی ایشن کے ساتھ تنازعات سے تحریری طور پر آگاہ کریں ۔ سماعت 20 اگست تک ملتوی کر دی گئی ۔

 

 

متعلقہ مضامین