باہر سے 600 ارب واپس لانا ہیں، چیف جسٹس

بیرون ملک پاکستانیوں کے اکاؤنٹس اور جائیدادوں کے ازخود نوٹس میں چیف جسٹس نے کہا ہے کہ میری معلومات کے مطابق پاکستانیوں کے 1000 ارب روپے بیرون ملک پڑے ہیں، کوشش ہے کہ اس میں سے 600 ارب روپے واپس آ جائیں ۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی ۔ سٹیٹ بنک کے گورنر طارق باجوہ نے پیش ہو کر بتایا کہ جو ڈیٹا ہمیں ملا ہے اس سے کافی امید ہے کہ فائدہ ہوگا۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اسٹیٹ بینک کے گورنر نے استدعا کی کہ عدالت کچھ وقت دے ہم اس کے لئے ایک لائحہ عمل دیں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کا بہت زیادہ پیسہ بایر چلا گیا ہے، پاکستانیوں نے دبئی، سوئزرلینڈ اور دیگر ممالک میں اکاونٹس اور جائیدادیں بنا رکھی ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا عدالت اتنی مجبور ہوگئی ہے کہ ملک سے باہر جو پیسہ چلا گیا ہے اس کا پوچھ نہ سکے، ملک کی ٹاپ بیوروکریسی عدالت میں آ کر مجبوری کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، ملک کا پیسہ واپس لائیں گے، ایف آئی اے نے جن لوگوں کی نشاندہی کی ہے ان میں سے ایک ہزار لوگوں کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں، ان ہزار لوگوں کے لئے بیان حلفی کی وہی شرائط رکھ لیتے ہیں جو ہم نے انتخابی امیدواروں کے لئے رکھی تھیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ پتہ چل جائے گا کہ ایمنسٹی سکیم سے کس نے فائدہ نہیں اٹھایا، ایف آئی اے نے اچھا کام کرتے ہوئے بہت سی بیرون ملک جائیدادوں کی معلومات اکٹھی کی ہے جسے خفیہ رکھ رہے ہیں ۔ عدالت نے گورنر سٹیٹ بنک کو تین ستمبر تک کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے