نندی پور کرپشن کیس ری اوپن

سپریم کورٹ نے خواجہ آصف کی درخواست پر نندی پور کرپشن کیس ری اوپن کر دیا اور فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کی نندی پور کرپشن کیس بحالی کی درخواست کی سماعت کی،درخواست گزار لیگی رہنما خواجہ آصف عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس پاکستان نے نندی پور کرپشن کیس بحالی کی خواجہ آصف کی درخواست منظورکرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ نے کئی خرابیوں کی نشاندہی کی تھی،جب خود وزیر بنے تو خرابیاں دور کیوں نہیں کیں؟چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ بطور وزیر پانی و بجلی آپ کی بھی کچھ ذمہ داریاں تھی،خواجہ آصف نے کہا کہ نندی پورمنصوبہ اب 5 سال سے کام کررہا ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے منصوبے کوچینی کمپنی کوٹھیکے پردیا ہے،رولز کے مطابق آپ منصوبہ ٹھیکے پرنہیں دے سکتے۔لیگی رہنما نے کہا کہ منصوبہ ٹھیکے پر نہیں، اونرشپ حکومت کی ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ درخواست میں وزارت قانون کی اعلیٰ شخصیت کاذکر ہے،آپ نے الزام لگایاکہ اس شخصیت نے تاخیرکی۔خواجہ آصف نے کہا کہ جی اس شخصیت نے روکاتھا،کمیشن نے بھی اس بات کومان لیا،تاخیرکی وجہ سے منصوبے کی لاگت میں اضافہ ہوا،مجھے کیس سے الگ کر دیا گیا تھا کہ مفادات کاٹکراو ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ کو کیس سے الگ کیاگیاتھا،تحقیقات توکراسکتے تھے،خواجہ آصف نے کہا کہ ایک کمیشن رحمت علی جعفری کی سربراہی میں بناتھا، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کمیشن نے ذمہ داری بھی فکس کردی تھی ۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اس میں حکم تھاکہ نندی پور اور چیچوں کی ملیاں پرکام مکمل کریں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ نے 2011 میں درخواست دائرکی،اس کواب 7 سال ہوگئے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتائیں اب اس درخواست میں کیارہ گیا ہے کہ اس کوسنیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ نے واپڈا اور پیپکو کو فریق بنایا، خواجہ آصف نے کہا کہ نندی پورمنصوبہ مکمل ہو گیاہے ۔ عدالت نے خواجہ آصف کا موقف سننے کے بعد فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے