عامر لیاقت قوم کے لیڈر بن گئے، چیف جسٹس

اینکر عامر لیاقت کی ٹی وی پر منافرت پر مبنی پروگرام کے خلاف انڈیپنڈنٹ میڈیا گروپ کی توہین عدالت کی درخواست کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی ۔ چیف جسٹس نے عدالت میں عدم حاضری پر عامر لیاقت کو بیس ہزار روپیے جرمانہ کر دیا، جرمانے کی رقم ڈیم فنڈ میں جمع کروانے کی ہدایت بھی کی گئی ۔

عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے عامر لیاقت کے وکیل سے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست ہے آپ کے موکل کو یہاں ہونا چاہیے تھا، عامر لیاقت کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیتے ہیں ۔ انڈیپنڈنٹ میڈیا گروپ (جیو/جنگ) کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ نفرت انگیز تقریر کا معاملہ ہے، لوگوں پر گستاخی مذہب کے الزامات عائد کیے گئے ۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کوئی اپنے آپ کو سکالر سمجھ کر فتوے جاری کردیتا ہے، ایسے لوگ وارہ نہیں کھاتے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بلا لیں عامر لیاقت کو 1 بجے ہم یہیں بیٹھے ہیں ۔ عامر لیاقت کے وکیل نے کہا کہ ایک دن کی مہلت دے دی جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نہیں آپ مقدمہ لڑیں، دلائل دیں ۔ درخواست گزار کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ڈاکٹر عامر لیاقت نے اپنے پروگرام میں لوگوں پر بے بنیاد الزامات لگائے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الزامات کن لوگوں پر لگائے تھے ۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سیاستدانوں اور عام شہریوں پر بھی الزامات لگائے گیے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عامر لیاقت نے نفرت انگیز پروگرام نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی، کیا عامر لیاقت اب بھی نفرت انگیز پروگرام کر رہے ہیں ۔ عامر لیاقت کے وکیل نے کہا کہ عامر لیاقت اب بھی بول ٹی وی سے منسلک ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عامر لیاقت کا پروگرام عدالت میں چلا لیتے ہیں، اظہار رائے کی آزادی کا حق مادر پدر آزادی نہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ میرے آفس نے بتایا تھا کہ عامر لیاقت عدالتی حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، عامر لیاقت کے الفاظ نہیں باڈی لینگوئج بہت کمال ہے، کسی کی تضیحیک کرنے کے لیے باڈی لینگوئج ہی کافی ہے، عامر لیاقت کا پروگرام چلوا لیتے ہیں اگر خلاف ورزی ہوئی تو کاروائی کریں گے، عامر لیاقت سے کہا تھا ایسا یہاں نہیں چلے گا، عامر لیاقت کے حوالے سے کافی مواد عدالت کے پاس بھی ہے ۔ وکیل نے بتایا کہ ہر پروگرام کا ٹرانسکرپٹ عدالت میں پیش کیا گیا ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر نفرت انگیز تقاریر چل رہی ہیں تو پروگرام بند کروا دیں گے، کیا عامر لیاقت اسلام اباد میں ہیں، توہین عدالت کا کیس ہے انہیں انا چاہیے تھا، عدالت حکم کی خلاف ورزی کا کوئی تصور بھی کیسے کر سکتا ہے۔ عدالتی حکم کی بے عزتی برداشت نہیں کی جائے گی، کل تک تمام سی ڈیز اور متن عدالت میں پیش کریں، اب تو عامر لیاقت قوم کے لیڈر بن گئے ہیں، عامر لیاقت حلف کب اٹھا رہے ہیں۔ وکیل فیصل صدیقی نے بتایا کہ حلف برداری شاید 14 اگست کو ہے ۔

عدالت نے عدم حاضری پر عامر لیاقت کو بیس ہزار روپے جرمانہ کر دیا اور ہداہت کی کہ جرمانے کی رقم ڈیم فنڈ میں جمع کروائی جائے ۔ کیس کی مزید سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین