نندی پور کیس کی سماعت

سپریم کورٹ نے نندی پور توانائی منصوبے میں تاخیر کیخلاف کیس کی سماعت کے دوران نیب کے سابق چیئرمین قمر زمان چودھری کو طلب کیا ہے ۔ عدالت نے نندی پور توانائی منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کیخلاف ریفرنس داخل کرنے پر اظہار برہمی کیا ہے ۔

عدالت نے سابق چیئرمین نیب قمر الزمان چوہدری اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کو فوری پیش ہونے کا حکم دیدیا ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ ابھی تک ریفرنس کیوں داخل نہیں کیا گیا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا ریفرنس دائر کرنا کوئی راکٹ سائنس ہے ۔

لوگوں کو انتظار کی سولی پر نہیں چڑھایا جاسکتا، چیف جسٹس

نیب کو ریفرنس کی منظوری میں کتنا وقت لگے گا، چیف جسٹس

نندی پور توانائی منصوبہ کی تحقیقات اور ریفرنس دائر کرنے کیلئے نیب نے 6 سال لگا دئیے، جسٹس اعجاز الااحسن

ہماری وجہ سے تاخیر ہوئی، نیب کے وکیل نے عدالت میں تسلیم کرلیا

صرف یہ بات تسلیم کرنے سے بات ختم نہیں ہو جاتی، ریفرنس دائر کرنے کیلئے کمیشن رپورٹ کافی تھی، نیب کو خود نہیں پتہ انھوں نے کیا کرنا ہے، نیب ابھی تک ریفرنس پر کیوں بیٹھا ہوا ہے، چیف جسٹس

ریفرنس کی بورڈ میٹنگ سے منظوری لی جائے گی، آئی او نیب

نندی پور منصوبے کی تحقیقات الماری میں بند کر کے رکھ دی گئی ہے، کیوں نہ تاخیر پر نیب کے زمہ داران کیخلاف کارروائی کریں،اس وقت چیئرمین نیب کون تھے، چیف جسٹس

چیئرمین نیب قمر الزمان چوہدری تھے، نیب

پتہ کریں قمر الزمان کہاں ہیں، اگر وہ اسلام آباد میں ہیں تو انھیں کہیں آجائیں، چیف جسٹس

مجھے نندی پور کیس ڈیڑھ ماہ قبل سے دیا گیا، تفتیشی افسر نیب

تحقیقات کیلئے ڈیڑھ ماہ کا وقت کافی ہے، ہم نے کل ایک اجلاس میں طے کرلیا ہے، اب وہ دن گئے جب غلط تفتیش اور تحقیقات کرنے والوں کو بری الزمہ قرار دیدیا جاتا تھا، اب غلط تحقیقات اور تفتیش پر زمہ داروں کیخلاف کارروائی ہوگی، ہم تفتیش کے نظام میں اصلاحات لا رہے ہیں، سابق چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کو بلائیں، چیف جسٹس

یاد رہے کہ بابر اعوان پر الزام ہے کہ اس نے بطور وزیر قانون نندی پور پاور پراجیکٹ کیلئے لائی گئی مشینری کو اکیس ماہ تک کراچی بندرگاہ سے کلیئر نہ کرایا ۔

کیس کی سماعت میں وقفہ

متعلقہ مضامین