حسین حقانی کو واپس نہیں لایا جا سکتا

میمو گیٹ کیس میں عدالت کو بیان حلفی دے کر امریکا جانے والے سابق سفیر حسین حقانی کو توہین عدالت کی کارروائی میں واپس نہیں لایا جا سکتا، ایمبیسی کے فنڈز میں خرد برد کے مقدمے میں وطن واپس لایا جا سکتا ہے مگر اس کیلئے ملکی قوانین میں ضروری ترامیم کرکے ان کو عالمی قوانین اور معاہدوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا ۔ یہ بات عدالتی معاون اور عالمی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی نے سپریم کورٹ کو بتائی ۔ انہوں نے قوانین میں ترامیم کیلئے اپنی تجاویز پر مشتمل ڈرافٹ بھی عدالت میں پیش کیا ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے احمر بلال صوفی کی کاوش کی تعریف کی اور کہا کہ آپ کے وقت اور اس کوشش کیلئے شکر گزار ہیں، وفاقی حکومت قانون کے اس ڈرافٹ سے فائدہ اٹھا کر مستقبل میں عالمی سطح پر معاملات بہتر کر سکتی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سمجھے تھے کہ درخواست کریں گے اور ان کو واپس لایا جایے گا وہ شاید اب ممکن نہیں ہے ۔

سپریم کورٹ نے میمو گیٹ میں ملوث حسین حقانی کو واپس لانے کیلئے عدالتی معاون کی تیار کی گئی قانون سازی تجاویز پر اٹارنی جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل نیب سے رائے طلب کی ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہماری درخواست پر حسین حقانی کو واپس لایا جانا ممکن نہیں ۔

امریکا میں‌ پاکستان کے سابق سفیر حیسن حقانی کو واپس لانے کیلئے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کیس کی سماعت کی ۔ عدالت کو عالمی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی نے ملکی قانون میں موجود سقم اور عالمی معاہدوں سے آگاہ کیا . عدالت کی جانب سے معاون مقرر کئے جانے والے وکیل احمر بلال صوفی نے چیف جسٹس کی سربراہی میں‌ تین رکنی بنچ کو بتایا کہ حسین حقانی کو جس کیس میں اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت واپس لایا جا سکتا ہے وہ ایمبیسی کے فںڈز میں خرد برد ہے، اس کیلئے مقدمہ گزشتہ برس درج کیا گیا مگر یہ ایف آئی اے نہیں نیب کے ذریعے ہوگا کیونکہ اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت نیب ہی اس پر کارروائی کر سکتی ہے جو ہماری تسلیم شدہ اینٹی کرپشن ایجنسی ہے ۔ احمر بلال صوفی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ایف آئی اے کو گائیڈنس کیلئے بھی قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان سے باہر معاملات کرتے وقت ایسی چیزیں آڑے نہ آئیں ۔
چید جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا کہ موجودہ مسئلے کا فوری حل کیا ہے؟ احمر بلال نے بتایا کہ ایف آئی اے کرپشن کے اس کیس کو نیب کے حوالے کرے تب ہی کچھ ہو سکتا ہے کیونکہ نیب ہی اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت ہماری اینٹی کرپشن ایجنسی ہے . چیف جسٹس نے پوچھا کہ اگر ایف آئی اے کی درخواست پر ریڈ وارنٹ جاری ہوتا ہے تو کیا ملک واپس نہیں‌ لایا جا سکتا؟ وکیل احمر بلال نے کہا کہ اگر ریڈ وارنٹ نکلوا بھی لیتے ہیں تب بھی واپس نہیں لایا جا سکتا جب تک دونوں‌ ملکوں کے مابین تحویل ملزمان کا معاہدہ نہ ہو ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی معاون کی تجاویز رپورٹ اٹارنی جنرل کو دی جائے وہ اس پر وفاقی حکومت سے بات کرکے رائے دیں کیونکہ قانون سازی حکومت اور پارلیمان کا ہی کام ہے . نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کو بھی یہ رپورٹ فراہم کی جائے . چیف جسٹس نے کہا کہ احمر بلال صوفی نے بہت محنت کی ہے، سارا قانون ڈرافٹ کر کے دے دیا ہے، اسی طرح حکومت اور وزارتوں میں‌ بیٹھے افسر بھی اگر ماہرین کی مشاورت سے قوانین کے مسودے تیار کریں تو بہت سے قوانین میں سقم نہ رہیں اور وہ عالمی قوانین اور معاہدوں سے ہم آہنگ ہوں‌ جس کا فائدہ ریاست کو ہوگا . چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سمجھے تھے کہ درخواست کریں گے اور اس کو واپس لایا جائے گا وہ شاید اب ممکن نہیں ہے، عدالتی معاون کہتے ہیں کہ اس کیلئے باقاعدہ قانون میں ترمیم ہوگی اور پہلے ہمارے محکموں کو کارروائی مکمل کرنا ہوگی تب دوسرے ممالک سے رابطہ کیا جا سکے گا .
سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی گئی .

متعلقہ مضامین