حسین حقانی کو ریڈ وارنٹ بھی نہیں لا سکتے

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
امریکا میں‌ پاکستان کے سابق سفیر حیسن حقانی کو واپس لانے کیلئے سرگرم سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ میں آج مایوسی پھیل گئی . گزشتہ سماعتوں کے دوران تیز و تند اور گرما گرم ریمارکس دینے والی عدالت کو آج عالمی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی نے قانون میں موجود سقم اور عالمی معاہدوں سے آگاہ کیا . عدالت کی جانب سے اس مقدمے میں معاون مقرر کئے جانے والے وکیل احمر بلال صوفی نے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں‌ تین رکنی بنچ کو بتایا کہ حسین حقانی کو پہلا جرم اس قابل نہیں‌ کہ عالمی قوانین یا معاہدوں کے تحت ان کو ملک واپس لایا جا سکے . چیف جسٹس نے کہا کہ آپ توہین عدالت کے بارے میں کہہ رہے ہیں، وہ عدالت میں‌ حلفی جمع کرا کے گئے تھے. احمر بلال صوفی بلال نے بتایا کہ دوسرا جرم جس پر ان کو اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت واپس لایا جا سکتا ہے کہ ایمبیسی کے فںڈز میں خرد برد ہے، اس کیلئے مقدمہ گزشتہ برس درج کیا گیا مگر یہ ایف آئی اے نہیں نیب کے ذریعے ہوگا کیونکہ اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت نیب ہی اس پر کارروائی کر سکتی ہے جو ہماری تسلیم شدہ اینٹی کرپشن ایجنسی ہے .
احمر بلال صوفی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ایف آئی اے کو گائیڈنس کیلئے بھی قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان سے باہر معاملات کرتے وقت ایسی چیزیں آڑے نہ آئیں، ان کا کہنا تھا کہ میں‌ نے تجاویز کا ڈرافٹ بنایا ہے موچول لیگل اسسٹنس (ملکوں‌ کے مابین باہمی قانونی معاونت) کا لیگل فریم ورک ہے، یہ ایک گائیڈ لائن کی صورت میں ہے. اس سے ایک ملک کی ایجنسی دوسرے ملک کے متعلقہ ادارے سے براہ راست رابطہ کرتا ہے اور سفارتی چینل یا وزارتوں سے پیچیدگیوں سے بچا جاتا ہے ۔
چید جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم احمر بلال صوفی کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اتنا وقت نکالا اور اتنی کوشش بھی کی . تاہم چیف جسٹس نے پوچھا کہ موجودہ مسئلے (حسین حقانی کو واپس لانا) کا فوری حل کیا ہے؟ . احمر بلال نے بتایا کہ ایف آئی اے کرپشن کے اس کیس کو نیب کے حوالے کرے تب ہی کچھ ہو سکتا ہے کیونکہ نیب ہی اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت ہماری اینٹی کرپشن ایجنسی ہے . چیف جسٹس نے پوچھا کہ اگر ایف آئی اے کی درخواست پر ریڈ وارنٹ جاری ہوتا ہے تو کیا ملک واپس نہیں‌ لایا جا سکتا؟ وکیل احمر بلال نے کہا کہ اگر ریڈ وارنٹ نکلوا بھی لیتے ہیں تب بھی واپس نہیں لایا جا سکتا جب تک دونوں‌ ملکوں کے مابین تحویل ملزمان کا معاہدہ نہ ہو . چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا ریاست کی سطح پر کچھ نہیں‌ ہو سکتا کیونکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سے غلط بیانی کا معاملہ ہے . احمر بلال صوفی نے کہا کہ دفتر خارجہ کی جانب سے امریکا سے ناخوشی مایوسی کا اظہار کیا جا سکتا ہے . چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے ہاں تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مبینہ طور پر جہاز یا ہیلی کاپٹر آ کر کھڑا ہو گیا ہے فلاں کو لے جانے کیلئے آیا ہے (‌یہ جملہ بولتے ہوئے چیف جسٹس نے تین بار وضاحت کی کہ یہ میں‌ نہیں کہہ رہا، مجھ سے نہ منسوب کیا جائے بلکہ مبینہ طورپر کہا جاتا ہے) .
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم ریاست کو ہدایات جاری نہیں‌ کر سکتے، ریاست یا دفتر خارجہ کو خود چاہیئے کہ وہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ یہ معاملہ اٹھائے اور اپنی خفگی ظاہر کرے . چیف جسٹس نے کہا کہ ایک آدمی سپریم کورٹ کو بیان حلفی دے کر جاتا اور پھر واپس نہ آئے تب بھی کچھ نہیں کیا جا سکتا تو کیا کریں . احمر بلال صوفی ایڈووکیٹ نے کہا کہ برطانیہ کی عدالت کے ساتھ ہماری سپریم کورٹ کا معاہدہ ہے مگر امریکا کے ساتھ ایسا نہیں ہے . چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی معاون کی تجاویز رپورٹ اٹارنی جنرل کو دی جائے وہ اس پر وفاقی حکومت سے بات کرکے رائے دیں کیونکہ قانون سازی حکومت اور پارلیمان کا ہی کام ہے . نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کو بھی یہ رپورٹ فراہم کی جائے . چیف جسٹس نے کہا کہ احمر بلال صوفی نے بہت محنت کی ہے، سارا قانون ڈرافٹ کر کے دے دیا ہے، اسی طرح حکومت اور وزارتوں میں‌ بیٹھے افسر بھی اگر ماہرین کی مشاورت سے قوانین کے مسودے تیار کریں تو بہت سے قوانین میں سقم نہ رہیں اور وہ عالمی قوانین اور معاہدوں سے ہم آہنگ ہوں‌ جس کا فائدہ ریاست کو ہوگا . چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سمجھے تھے کہ درخواست کریں گے اور اس کو واپس لایا جائے گا وہ شاید اب ممکن نہیں ہے، عدالتی معاون کہتے ہیں کہ اس کیلئے باقاعدہ قانون میں ترمیم ہوگی اور پہلے ہمارے محکموں کو کارروائی مکمل کرنا ہوگی تب دوسرے ممالک سے رابطہ کیا جا سکے گا .
سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی گئی .

متعلقہ مضامین