اوورسیز پاکستانی اب ووٹ دیں گے

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ضمنی الیکشن میں ووٹ کا حق استعمال کرنے کیلئے میکنزم ایک ہفتے میں تیار کیا جائے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عدالت فیصلہ پہلے ہی دے چکی ہے صرف عمل درآمد کرانا ہے ۔

عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کیلئے دائر درخواست کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے سیکرٹری سے پوچھا کہ اب تک کیا کیا؟ ضمنی الیکشن میں ڈیجیٹل ووٹنگ کے نظام کی تصدیق بھی کروائی تھی اس کے بعد معاملہ کہاں پہنچا؟ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق الیکشن کمیشن کے سیکرٹری نے بتایا کہ عدالتی حکم پر عمل کرانے کے پابند ہیں، اکتوبر میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 50 حلقوں میں ضمنی انتخاب ہونا ہے اس میں کچھ پر اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق استعمال کرنے کا تجربہ کر لیں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب مزید تجربے کی بجائے ضمنی انتخاب والے تمام حلقوں میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق استعمال کرنے دیا جائے ۔ ڈیجیٹل ووٹنگ میں صرف ووٹ کے خفیہ نہ رہنے کا مسئلہ ہوگا وہ پوسٹل بیلٹ میں بھی ہوتا ہے، اس کیلئے پوسٹل بیلٹ کی طرح اوورسیز کے ووٹ بھی الگ رکھے جا سکتے ہیں ۔ عدالت کے پوچھنے پر الیکشن کمیشن کے سیکرٹری نے بتایا کہ عام انتخابات میں جاری کئے گئے پوسٹل بیلٹ کی تعداد لاکھوں میں تھی ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم نے اوورسیز پاکستانیوں سے وعدہ کیا تھا کہ عام انتخابات میں ان کو ووٹ کا حق دیں گے مگر وقت کی کمی اور ناگزیر وجوہات کی بنا پر ایسا نہ کیا جا سکا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ نادرا نے نظام تیار کر لیا ہے تجربہ کر لیں گے ۔ نادرا کے چیئرمین نے عدالت کے پوچھنے پر بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ووٹرز کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے ۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ یہ ووٹنگ کا ڈیجیٹل نظام ہوگا اس لئے احتیاط کرنا ہوگی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عام انتخابات میں بھی کہیں نہ کہیں کچھ تو ہوا جس کی وجہ سے کچھ چیزیں سامنے آئیں ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا آر ٹی ایس کریش کر گیا ۔ الیکشن کمیشن کے سیکرٹری بابر یعقوب نے کہا کہ کریش کا لفظ استعمال نہیں کر سکتے، بہت پیچیدہ چیزیں ہیں، کل 85 ہزار پولنگ اسٹیشنز تھے جن سے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے الگ الگ فارم 45 اپلوڈ ہونا تھے، آخری رات تک 82 ہزار مرد و خواتین پریذائڈنگ افسران کو موبائل فون پر اس ایپ کی تربیت دی گئی، اگر اس ایپ کو استعمال نہ کرتے تو الیکشن کی شفافیت پر سوال اٹھتے ۔ اس سسٹم کیلئے نادرا کو 18 کروڑ روپے کا ٹھیکہ دیا تھا، یہ دنیا کا پانچواں بڑا الیکشن تھا ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ احتیاط ہو، عام انتخابات میں جو بھی ہوا اس طرح کا دوبارہ ہونے لگے تو الگ کر لیا جائے، اگر کسی مرحلے پر لگے کہ سسٹم درست کام نہیں کر رہا تو اوورسیز کی ووٹنگ کو الگ کر سکیں ۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ عام انتخابات پر لگ بھگ 21 ارب روپے لگے، اس طرح ایک سیٹ کا خرچ 20 کروڑ بنتا ہے، یہ قومی خزانے سے ہی رقم گئی ہے ۔ بابر یعقوب نے بتایا کہ بیلٹ پیپر کا کاغذ بہت مہنگا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جو صاحب تین چار نشستوں سے جیت رہے ہیں وہ ضمنی الیکشن کے اخراجات میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق بابر یعقوب نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پارلیمان کو سفارش کی تھی کہ ایک امیدوار دو سے زیادہ حلقوں سے حصہ نہ لے مگر تجویز نہ مانی گئی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن لڑنے والے کو بھی سوچنا چاہئے کہ ہم جب یہ نشست چھوڑتے ہیں تو اس پر دوبارہ 20 کروڑ کا خرچ آتا ہے، وہ قوم کا پیسہ ہے ۔ یہ 20 کروڑ کسی ہسپتال اور ڈیم میں جانا شروع ہو جائے تو کتنا فائدہ ہو ۔ بہرحال پارلیمنٹ سپریم ہے اگر انہوں نے تجویز نہیں مانی ۔ الیکشن کمیشن ایک ہفتے میں اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کیلئے مکینزم بنا کر دے، آگے جو بھی نتائج اس کو دیکھ لیں گے ۔ سماعت 15 اگست تک ملتوی کر دی گئی ۔

 

متعلقہ مضامین